ارسا کی ممبر شپ ہو یا سندھ کا کوئی بھی مسئلہ ہو اس میں وفاقی حکومت کو سانپ سونگھ جاتا ہے – سید ناصر حسین شاہ

صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات ، ہائوسنگ ٹائون پلاننگ، جنگلات و جنگلی حیات ، مذہبی امور سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ارسا کی ممبر شپ ہو یا سندھ کا کوئی بھی مسئلہ ہو اس میں وفاقی حکومت کو سانپ سونگھ جاتا ہے انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں سندھ کو باقاعدہ نظر انداز کیا گیا ہے ۔ یہ میڈیا کا فرض ہے کہ وہ سندھ کے اہم مسائل کے بارے میں وفاقی حکومت سے پوچھے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو چاہئے کہ جھوٹی باتوں پر دھیان نہ دیں اور بے سروپا باتوں کو میڈیا پر کوریج نہ دیں ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہمارے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے این آئی سی وی ڈی ، گمبٹ انسٹی ٹیوٹ اور سائیبرنائیف اور ایس آئی یو ٹی کا کاذکرکیا تھا جہاں شوکت خانم اسپتال کی طرح پیسے نہیں لئے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کاچیلنج برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب صرف کے پی میں حکومت تھی اس وقت وزیر اعظم صاحب اٹھارویں ترمیم کی تعریف کیا کرتے تھے۔ سید ناصرحسین شاہ نے کہا کہ کووڈ کی صورتحال میں سندھ کونظرانداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ کے بجٹ میں صحت کے شعبہ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔ تاکہ لوگوں کی جان و مال کا خیال رکھا جائے اور کچھ امبریلا اسکیمزشروع کی گئی اور ٹراما سینٹرزمکمل ہونگے اس بجٹ میں ان کے لئے خصوصی طورپر پیسے رکھے گئے ہیں۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کو عوام کاپورا خیال ہے اور کے الیکٹرک کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے عوام کے ساتھ ہیں اور ان کی بہتری کے لئے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا تاکہ لوگوں کو ریلیف مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی کے الیکٹرک سے بات ہوئی تھی کہ وہ لاک ڈائون میں لوڈ شیڈنگ نہیں کریں گے لیکن اس لوڈ شیڈنگ کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ کے الیکٹرک کے حکام سے بات کریں گی ۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر ہم کے الیکٹر ک کے لئے کچھ تجویز دیتے ہیں تو وفاقی حکومت ہم پر فوراً تنقید شروع کر دیتی ہے کہ سندھ حکومت کو اس سلسلے میں کوئی اختیار نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت لاک ڈائون کے سلسلے میں پہلے دن سے ہی سنجیدہ ہے اور سندھ حکومت پہلے دن سے کہتی آرہی ہے کہ اس وباء کے سلسلے میں سب کو ایک پیج پر آنا ہوگا۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے ملک میں موثر لاک ڈائون ہونا چاہئے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہئے اس کے بغیر اس وباء سے چھٹکارا ممکن نہیں ہے صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کورونا وباء کی وجہ سے اسپتالوں پر دبائو بڑھ رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہدایات پر بجٹ میں فوقیت صحت کے شعبہ کو دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا کام تنقید برائے تنقید رہ گیا ہے جبکہ سندھ حکومت عوام کی خدمت کرنے پر یقین رکھتی ہے ۔ وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ میڈیا اپنے نمائندگان کو مختلف اسپتالوں میں بھیج کر ان کے کام کی تصدیق کر سکتا ہے۔ دریں اثنا سید ناصر حسین شاہ نے ممتاز علم دین علامہ طالب جوہری ، ماہر تعلیم نثار صدیقی اور قائد اعظم کے نواسے اسلم جناح کے انتقال پر اپنے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے ۔ اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔