اس زمانے میں لوگوں کا خیال یہ تھا کہ سورج گرہن کسی بڑے آدمی کی وفات  یا پیدائش کی وجہ سے ہوتا ہے

شمائل نبوی صل اللہ علیہ و سلم ♥

💌 سورج اور چاند گرہن کی حقیقت اور اس کی نماز کا طریقہ:

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں آپ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال  کے بعد  سورج گرہن ہوگیا،
اس زمانے میں لوگوں کا خیال یہ تھا کہ سورج گرہن کسی بڑے آدمی کی وفات  یا پیدائش کی وجہ سے ہوتا ہے، جیسا کہ ابھی آپ ﷺ کے بیٹے کی وفات پر ہوا تو آپﷺ نے اس عقیدے کی نفی فرمائی:
” حضرت ابوبردہ، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ سورج گرہن ہوا تو نبی ﷺ اس طرح گھبرائے ہوئے کھڑے ہوئے جیسے قیامت گئی، آپ ﷺ مسجد میں تشریف لائے..
اور طویل ترین قیام و رکوع اور سجود کے ساتھ نماز پڑھی کہ اس سے پہلے آپ ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا..
اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ نشانیاں ہیں جو اللہ بزرگ و برتر بھیجتا ہے، یہ کسی کی موت اور حیات کے سبب سے نہیں ہوتا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، جب تم اس کو دیکھو تو ذکرِ الٰہی اور دعا واستغفار کی طرف دوڑو (صحیح بخاری)

💞 چاند گرہن  اور سورج گرہن کے وقت  ہمیں اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہو کر  نماز، دعا، اور استغفار، میں مشغول ہونا چاہیے۔

💌چاند گرہن اور سورج گرہن کی نماز:

💌نماز خسوف
▪️چاند گرہن کو “خسوف” کہتے ہیں.
▪️چاند گرہن کے وقت دو رکعت نماز دیگر نوافل کی طرح انفراداً پڑھنا مسنون ہے.
▪️نماز خسوف میں جماعت مسنون نہیں ہے.
▪️اس کا طریقہ عام نوافل کی طرح ہے، کسی بھی اعتبار سے فرق نہیں، سوائے اس کے کہ نیت “صلاۃ الخسوف” کی ہوگی
(الفتاوى الهندية)

💌نماز کسوف
▪️سورج گرہن کو “کسوف” کہتے ہیں.
▪️سورج گرہن کے وقت دو رکعت نماز پڑھنا مسنون ہے.
▪️اگر تنہا پڑھ رہا ہو تو دو سے زیادہ بھی  (چار، چھ )جتنی چاہیں رکعتیں پڑھ سکتے ہیں۔
▪️نماز کسوف کا بھی وہی طریقہ ہے جو عام نوافل  کا ہے.
▪️اگر حاضرین میں جامع مسجد کا امام موجود ہو  تو “کسوف” یعنی سورج گرہن کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنی چاہیے.
▪️اس نماز کے لیے اذان اور اقامت نہیں ہے.
▪️اگر لوگوں کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے جمع کرنا مقصود ہو تو اعلان کردیا جائے. 
▪️ اس نماز میں سورۂ بقرہ.. یا اس جیسی بڑی سورتیں پڑھنا.. یعنی طویل قراءت ، اور  لمبے لمبے رکوع، اور سجدے کرنا مسنون ہے، اور اس نماز میں قراءت آہستہ آواز سے کی جائے گی.
▪️نماز کے بعد امام دعا میں مصروف ہوجائے  اور سب مقتدی آمین آمین کہیں،  یہاں تک سورج  گرہن ختم ہوجائے۔
▪️ اگر ایسی حالت میں سورج غروب ہوجائے یا  یا کسی نماز کا وقت ہوجائے تو دعا ختم کرکے وقتی فرض نماز میں مشغول ہوجانا چاہیے۔
▪️مکروہ اوقات میں سورج گرہن ہوجائے تو یہ نماز نہیں پڑھی جائے گی، بلکہ صرف دعا کرلی جائے ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)

اصغر علی ( اسپین )