اختر مینگل کو خوش آمدید ، مولانا فضل الرحمن

مولانا فضل الرحمن سے کیا بات ہوئی صحافی کا سوال

ساری باتے اب آپ کے سامنے تو نہیں رکھ سکتے،، سردار اختر مینگل کا جواب

مولانا فضل الرحمن سے ذاتی تعلق ہے اس وقت بھی جےیوائی کے ساتھ بلوچستان میں اپوزیشن میں ہے، سردار اختر مینگل

مولانا فضل الرحمن کی جماعت پورے پاکستان میں موجود ہے، سردار اختر مینگل

کیا آپ اپوزیشن کا حصہ بن گئے ہے،، اختر مینگل سے سوال

بات چیت چل رہی ہے، اپوزیشن کے ساتھ نزدیکیاں بڑھ رہی ہے، سردار اختر مینگل

جس دن ہم اپوزیشن میں آگئے تو اپوزیشن کو صحیح اپوزیشن کرکے چلائے گے، سردار اختر مینگل

ریاست اور ریاستی ادارے اور حکومت دو ٹوک الفاظ میں کہ دے کہ ہمارے مطالبات جائز نہیں ہے، سردار اختر مینگل

اگر ہمارے مطالبات غیر آئینی ہے تو ہم کسی اور کا دروازہ کھٹکائے، یا پیرو مرشد کی درگاہ پر جائے، سردار اختر مینگل

ہم نے اختر مینگل کو خوش آمدید کہا ہے، مولانا فضل الرحمن

بی این پی کے فیصلہ نے امید کی کرن پیدا کی ہے، مولانا فضل الرحمن

بی این پی مینگل کا فیصلہ پی ٹی آئی کی دیگر اتحادی جماعتوں کیلئے بھی قابل تقلید ہے، مولانا فضل الرحمن

حکومت کی دیگر اتحادی جماعتوں کو بھی اب بے باک انداز میں کلمہ حق کہ دینا چاہیئے، مولانا فضل الرحمن

ضمیر کے خلاف کسی کی پیروکاری کرنا عزت رکھنے والے پاکستانی کی شایانہ شان نہیں، مولانا فضل الرحمن

میں امید کرتا ہو کہ سردار صاحب حکومت کے دیگر اتحادی جماعتوں سے رابطہ کر کہ انکو قائل کریں گے کہ یہ وقت حکومت کا ساتھ دینے کا نہیں،مولانا فضل الرحمن

ملک اس وقت ڈوب گیا ہے،، مولانا فضل الرحمن

معاشی لحاظ سے جب اپکا بجٹ منفی میں چلاجائے تو اس سے حکومت کی مقبولیت بھی منفی میں چکی جاتی ہے، مولانا فضل الرحمن

جعلی وزیراعظم کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ اسکی اپنی مقبولیت بھی منفی میں چکے گئی ہے ، مولانا فضل الرحمن

ایسے مقبول لوگ پہلے بھی عوامی حمایت کے حامل نہیں تھے، مولانا فضل الرحمن

کارکردگی کی بنیاد پر موجودہ حکمرانوں کی مقبولیت زمین بوس ہوگئی ہے، مولانا فضل الرحمن

موجودہ حکمرانوں کو اب مزید مسلط ہونے کا حق نہیں ہے، مولانا فضل الرحمن

موجودہ حکمرانوں کو اپنی ناکامی تسلیم کرکے فوری مستعفی ہوجانا چاہیے، مولانا فضل الرحمن