ڈوبنے والا تو کچھ دیر سے ڈوبے شاید,

ڈوبنے والا تو کچھ دیر سے ڈوبے شاید,
ڈوبتا دیکھنے والوں کو بڑی جلدی ہے,
آج یہ لائنیں نظر سے گزریں تو بہت سی باتیں دماغ میں چلنے لگیں,,, ہمارے ہاں اگر کوئی شخص کسی جگہ چوکیداری کر کے10000 لیکر اپنا گزارا کر رہا ہے تو ہم اسے کہیں گے,,, یار تم دس ہزار میں کیسے مہینہ گزار لیتے ہو؟ ہمارا تو صرف دودھ کا بل آٹھ ہزار ہے, چلو جی,,, وہ بندہ وہیں رک جاتا ہے, اور وہی دس ہزار اس کیلئے کم پڑ جاتا ہے, یہ ایک لحاظ سے نا شکری بھی ہے

اور وہ بندہ زیادہ آمدنی والے کام کی تلاش میں اپنی پہلی نوکری سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے,,, ایک عورت اگر پندرہ, سولہ ہزار میں اپنے گھر کا بجٹ چلاتی ہے تو ہم کہیں گے آے ہاے بہن اتنے کم خرچے میں تم گھر کے معاملات کیسے چلاتی ہو,, ہم تو کہہ کے چلے جاتے ہیں لیکن اس گھر میں آگ ضرور لگا دیتے ہیں, پھر وہی عورت اپنے شوہر سے مزید پیسوں کا مطالبہ کرتی ہے,,, انکے تعلقات خراب ہوتے ہیں,,, اور گھر میں بے سکونی اور لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں, دراصل ہم لوگوں کو عادت ہو گئی ہے دوسروں کی کمزوریوں کو ڈسکس کرنے کی,, اگر کوئی بیچارا کبھی ہمیں ملنے آ ہی جاے تو ہم اسکی دکھتی رگ کو پہلے چھیڑیں گے,,, وہ بھی خود کو کوسے گا کہ کیوں آیا,, پھر اسے الٹے سیدھے مشورے دینا شروع کر دیتے ہیں,, اور پھر جلد از جلد نتائج جاننے کیلئے بھی بے چین رہتے ہیں,,, کہ ہمارے مشوروں پہ عمل کر کے ڈوبنے والا کہاں تک پہنچا,,, کبھی کبھی کچھ مسائل ہمارے پوچھنے اور ہمارے جتلانے سے پیدا ہوتے ہیں, شاید دوسرا شخص غیر محسوس انداز سے ان مسائل کے ساتھ جی رہا ہو یا وہ اس کیلئے اہمیت ہی نہ رکھتے ہوں, اسکی ترجیحات اور ہوں,,,, زیادہ تر خواتین اس بیماری کا شکار ہوتی ہیں اور دوسروں کو بھی کر دیتی ہیں, یہ ایک وبائی مرض ہے,,,,,,, 💕

عائشہ عطاء ( ڈنگہ ۔ گجرات )