کراچی کے سمندر سے تیل و گیس کی دریافت


تحریرمسعود ابدالی

2017ء میں ایگزون کو اس پروجیکٹ پر راغب کرنے میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر مملکت برائے پیٹرولیم اور موجودہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کا ہاتھ ہے

بحیرہ عرب کے گہرے پانیوں میں تیل و گیس کی تلاش کیلئے کیکڑا 1 نامی کنویں کھدائی کا کام شروع ہو گیا ہے۔ اس کے بارے میں میڈیا پر جس انداز میں خبریں شائع ہو رہی ہیں، ان میں اکثر مبالغہ آرائی سے مزین بلکہ بڑی حد تک مضحکہ خیز ہیں۔ افسوس کی بات کہ وفاقی وزرا سمیت انتہائی ذمہ دار حضرات کی جانب سے جو ٹویٹ جاری ہو رہے ہیں، ان میں سے اکثر حقیقت سے بعید ہیں۔ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر جہاز رانی جناب علی زیدی کا ایک چیختا چنگھاڑتا پیغام سوشل میڈیا پر شائع ہوا، جس کے مطابق ملک کی تاریخ میں پہلی بار سمندر میں تیل کی تلاش کے لئے کھدائی کا آغاز ہوا ہے اور یہ کام امر یکی تیل کمپنی Exxon Mobil انجام دے رہی ہے۔ آج کی نشست میں ہم اس منصوبے یا پروجیکٹ کا ایک اجمالی خاکہ پیش کریں گے جو شاید قارئین کو پسند آئے۔
سب سے پہلی بات تو یہ کہ بحیرئہ عرب میں قسمت آزمائی قیام پاکستان کے کے کچھ ہی عرصے بعد شروع ہوگئی تھی۔ پہلا کنواں 1963ء میں کھودا گیا اور اب تک ڈیڑھ درجن کے قریب کنویں کھودے جا چکے ہیں۔ گہرے پانی میں بھی یہ پہلی کوشش نہیں۔ فرانسیسی کمپنی ٹوٹل کئی سال پہلے اسی بلاک سے متصل ایک کنواں کھود چکی ہے۔
یہ کوئی مافوق الفطرت یا انوکھا کام بھی نہیں، بلکہ پاکستانی انجینئرز یہ کام برسہا برس سے کر رہے ہیں اور مہارت کے اعتبار سے ہم نہ صرف خود کفیل ہیں، بلکہ ساری دنیا میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ کھدائی کے لئے حاصل کئے جانے والے رگ بردار جہاز Sipem 12000 پر پاکستانی ماہرین اس سے پہلے مراکش اور موزمبیق میں کام کر چکے ہیں۔ تیل و گیس کی صنعت میں پاکستان کا شمار دنیا کے انتہائی تجربہ کار ممالک میں ہوتا ہے یا یوں کہئے کہ ساری دنیا تیل و گیس کے میدان میں ہماری سیادت و قیادت کو تسلیم کرتی ہے اور یہ کنواں پاکستانی ماہرین کے لئے معمول کی مشق ہے۔
دوسری غلط فہمی Exxon Mobil ہے۔ اس امریکی کمپنی کا ایسا ہوّا کھڑا کیا گیا ہے کہ گویا سارا کام ایگزان کر رہی ہے۔ حالانکہ ایگزان کا رول یا رولا صرف اتنا سا ہے کہ Eni کی قیادت میں کام کرنے والے سہ رکنی مشارکے (Consortium) میں ایگزان نے 25 فیصد حصص خریدے ہیں۔ بنیادی طور پر مشارکے میں Eni کا حصہ 33.34 فیصد جبکہ پی پی ایل (PPL) اور او جی ڈی سی (OGDC) میں سے ہر ایک کا حصہ 33.33 فیصد تھا۔ 2017ء میں ایگزان نے اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی۔ ایگزون کو اس پروجیکٹ پر راغب کرنے میں جہاں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر مملکت برائے پیٹرولیم اور موجودہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کا ہاتھ ہے، وہاں اصل کارنامہ پی پی ایل اور او جی ڈی سی کے ماہرین کا ہے، جنہوں نے سخت محنت سے مساحت ارضی اور دوسری آزمائشوں کے اعداد و شمار کو منطقی وخوبصورت انداز میں پیش کرکے اس Prospect کو ایگزان کے لئے پرکشش بنایا۔ 28 مئی 2018ء میں ایک معاہدے کے ذریعے ای این آئی نے 8.34 فیصد اور پی پی ایل اور او جی ڈی سی نے اپنے 8.33 فیصد حصص ایگزان کو فروخت کردیئے اور اب یہ مشارکہ چار رکنی ہوگیا، جہاں ہر ایک کا حصہ 25 فیصد تھا۔ کچھ دن بعد ضابطے کے تحت چاروں کمپنیوں نے اپنے 1.25 فیصد حصص گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ (GHPL)کے حوالے کردیئے۔ اب ان چاروں کمپنیاں کا اس مشارکے میں 23.75 فیصد ہے، جبکہ بر بنائے ضابطہ 5 فیصد حصے کی مالک GHPL ہے۔
کچھ اخبارات سے یہ تاثر ملا کہ کھدائی کے لئے آنے والا یہ رگ بردار جہاز Exxon کا ہے تو یہ بات بھی درست نہیں۔ یہ رگ اطالوی کمپنی SIPEM کی ہے۔
کچھ عرصہ پہلے تک Sipem ای این آئی کا ذیلی ادراہ تھی، لیکن اب غالباً Sipem میں ای این آئی کی ملکیت 30 فیصد رہ گئی ہے۔
سفید جلد، نیلے پاسپورٹ اور سبز ڈالر سے مرعوبیت اپنی جگہ، لیکن حقیقت میں تجربے کے اعتبار سے ایگزون کا پی پی ایل اور او جی ڈی سی سے کوئی مقابلہ نہیں، بلکہ بحیرئہ عرب کی ارضیات کے باب میں ایگزان کے لوگ PPL اور او جی ڈی سی کے ماہرین کے آگے طفل مکتب ہیں اور اس بات کا خود ایگزان کو بھی احساس ہے۔
تیل و گیس کی تلاش و پیداوار ایک قیمتی مشغلہ ہے اور اس صنعت میں زیادہ تر کام نقد ہوتا ہے۔ بحیرئہ عرب کے اس منصوبے پر یہ کمپنیاں اربوں کی توقع پر کروڑوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔ ہمیں اصل اعداد و شمار کا تو علم نہیں، لیکن قیاس ہے کہ کنویں کی کھدائی کا یومیہ خرچ (spread cost) 5 لاکھ ڈالر یا 7 کروڑ روپے ہے۔ یہ تو صرف کھدائی کا خرچ ہے۔ اس سے پہلے تحقیق و جستجو میں کروڑوں ڈالر صرف ہو چکے ہیں۔ اس قدر بھاری خرچ کی بنا پر اپنے تجارتی مفادات کی حفاظت فطری امر ہے۔ ان کمپنیوں کی خواہش ہوگی کہ کامیابی کی صورت میں وہ متصل بلاکس کے لئے درخواست دے کر اپنے حقوق محفوظ کرلیں، جبکہ ناکامی پر ان اثاثوں کی اچھی قیمت پر فروخت ان کا ہدف ہوگا۔ دونوں صورتوں میں رازداری ضروری ہے۔ اسی بنا پر کنویں کے تجزیئے اور نتائج سے متعلق معلومات پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے، جسے صنعتی اصطلاح میں Tight Hole پروٹوکول کہتے ہیں۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کنویں سے متعلق تمام معلومات ای این آئی کے چند ماہرین تک محدود ہے، حتیٰ کہ حصہ داروں سے بھی اسے خفیہ رکھا جا رہا ہے۔
اس وضاحت کا مقصد قارئین کو یہ بتانا تھا کہ اخبارات اور سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی خبریں محض قیاس اور تکا ہیں، جن پر اعتماد کر لینا مناسب نہیں۔
اس قسم کے کنوئوں پر کامیابی کی امید 10 سے 12 فیصد ہوتی ہے اور کیکڑا 1 کی کامیابی کا امکان بھی 12 فیصد سے زیادہ نہیں۔ ایک اور بات جو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ بسا اوقات آزمائشی کنوئوں کے نتایح مبہم اور غیر تسلی بخش ہوتے ہیں اور تخمینوں کی تصدیق کے لئے مزید کھدائی درکار ہوتی ہے۔ ایسا کم ہی ہوا ہے کہ پہلے ہی کنویں سے اتنی صاف و شفاف اور حتمی معلومات حاصل ہوگئی کہ ترقی و پیداوار کا منصوبہ بنا لیا گیا۔ یہاں دیدہ ور کی ولادت سے پہلے بے چاری نرگس کو اپنی بے نوری کا برسوں ماتم کرنا پڑتا ہے۔
کچھ احباب یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ گیس کا ذخیرہ تلاش ہوتے ہی ڈالروں کی بارش شروع ہو جائے گی تو صاحبو ایسا نہیں ہے۔ اگر کیکڑا 1 انتہائی کامیاب بھی ثابت ہوا تو پیداوار 2024ء سے پہلے ممکن نہیں۔ اس لئے صبر کے ساتھ دعا گو رہنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں