حکومت میں جانا بس میں نہیں: اختر مینگل؛ وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کا آپشن موجودہے: فضل الرحمن

اٹھارہویں ترمیم بارے حکومتی بیانات تشویشناک ہیں،اگر 18ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ میں ترمیم کی گئی تو ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی ۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اپوزیشن سے احتساب کے نام پر انتقام لیا جا رہا ہے جہانگیر ترین کا نام چینی رپورٹ میں آیا مگر وہ نکل گئے اورکسی کو پتہ ہی نہیں چلااور اگر اپوزیشن کا کوئی سیاستدان ملک سے باہر جانے کی کوشش کرتا ہے تو طوفان کھڑا ہوجاتا ہے ۔سردار اختر مینگل نے واضح کیا ہے کہ حکومت میں واپسی اب ان کے بس میں نہیں ہے ، ہم سیاسی لوگ ہیں ہم پہلے بھی آزاد بینچز پر بیٹھے تھے اور آج بھی ہم آزاد بینچز پر بیٹھیں گے ۔انہوں نے کہا یہ ہماری پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا فیصلہ ہے اگر حکومت سنجیدہ ہے تو بلوچستان کے مسائل حل کرے ایسا ہوا تو پورا صوبہ پی ٹی آئی جوائن کر لے گا جب ہم نے حکومت کا ساتھ چھوڑ دیا تو فنانس بل کی حمایت پرائی شادی میں عبداﷲ دیوانہ جیسی ہوگی ہم کسی صورت میں بھی فنانس بل کی حمایت نہیں کریں گے ۔فضل الرحمن نے کہا احتساب سیاسی ہتھیار ہے جو صرف اپوزیشن کیخلاف استعمال ہو رہا ہے ،بی آر ٹی پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جاتا؟۔ سی پیک میں بلوچستان کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا جائے ۔ حکومت کورونا روکنے میں ناکام ہے ۔ انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا سمیت آج بلوچستان میں اور دوسرے صوبوں کی آل پارٹیزکانفرنس ہورہی ہیں۔ جب ہم صوبائی اے پی سیز مکمل کرلیں گے تو پھر مرکزی اے پی سی بلائیں گے

Courtesy 92 News Urdu