امریکا میں آئندہ صدارتی انتخاب کے لیے کرونا وبا کے دوران پہلی بڑی ریلی

ڈونلڈ ٹرمپ نے آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے ریاست اوکلاہاما کے شہر ٹلسا میں بڑی انتخابی ریلی نکالی، ری پبلکن کی جانب سے اس ریلی کو رکوانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا تھا تاہم عدالت نے ریلی ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے نسل پرستی کے خلاف پُر تشدد مظاہرے فوج بھیج کر ایک گھنٹے میں ختم کر دیے، مشتعل مظاہرین نے پولیس پر حملے کیے اور نجی و سرکاری املاک کو آگ لگائی، یہ مظاہرین نہیں بلکہ حملے اور لوٹ مار کرنے والے گروہ تھے
ماہرین صحت نے ٹرمپ کی ریلی کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے خطرناک قدم قرار دیا، ان کا کہنا تھا جب ریلی کے شرکا گھروں کو لوٹیں گے تو کرونا وائروس کی وبا نئے سرے سے پھوٹ پڑے گی۔

واضح رہے کہ ان دنوں امریکی صدر اور سابق مشیر قومی سلامتی جان بولٹن کے درمیان ان کی آنے والی کتاب کے سلسلے میں رسہ کشی جاری ہے، امریکی محکمہ انصاف اس کتاب کی اشاعت رکوانے کے لیے عدالت جا چکا ہے تاہم عدالت نے کتاب رکوانے سے انکار کر دیا ہے۔

کتاب میں جان بولٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے لیے چین سے مدد مانگی تھی، ان کو معلوم ہی نہیں کہ وائٹ ہاؤس کو کیسے چلانا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ٹرمپ نے دوبارہ صدارتی الیکشن میں یقینی کامیابی حاصل کرنے کے لیے چینی صدر شی جن پنگ سے مدد مانگی۔

Courtesy Ary news