انہوں نے بستر مرگ پر مجھے کہا کہ جاؤ بیٹا اپنا اور میرا نام صاف کروا کر آؤ۔

2 بجکر 43 منٹ پر بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل مکمل کیے تو جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا وڈیو بیان ریکارڈ بھی کرے گی۔

کمرہ عدالت میں موجود دونوں بڑی سکرینز پر اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نظر آنے لگ گئیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے آسمانی رنگ کی قمیض پر کریم کلر کا دوپٹہ سر پر لیا ہوا تھا اور وہ بظاہر گھر کے داخلی لاؤنج میں بیٹھی تھیں۔ ان کے پیچھے گھر کی سرخ اینٹین نمایاں تھیں جب کہ سفید کھڑکی سے ججز کالونی کے گھر کے لان کی جھلک بھی نظر آ رہی تھی اور ان کے سر کے بالکل اوپر دیوار میں ایک پلیٹ لٹک رہی تھی جس میں خوشخطی سے لکھا ہوا درود پاک پڑھا جا سکتا تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کو ویلکم کہا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے دو سے تین دفعہ فل کورٹ کو سننے کا موقع دیے جانے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ کوشش کریں گی کہ بات اختصار سے کریں اور کوئی غلطی کر دوں تو پیشگی معذرت کرتی ہوں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصے سے یہ سب کچھ چلتا دیکھ رہی ہیں اور وہ اپنے شوہر سے پوچھتی بھی تھیں لیکن انہوں نے کہا کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں، مجھے اس کا حصہ بننے کی ضرورت نہیں۔

بیگم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ میرے بچے اور پوتے سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم نے کچھ غلط کیا ہے۔ اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا ضبط جواب دے گیا اور انہوں نے ایک ایسی بات کہی جس کا درد کوئی بیٹی محسوس کر سکتی ہے یا بیٹی کا باپ۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کا کینسر کے مریض اپنے والد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میرا باپ مر رہا ہے اور انہوں نے بستر مرگ پر مجھے کہا کہ جاؤ بیٹا اپنا اور میرا نام صاف کروا کر آؤ۔ یہ کہتے ہوئے بیگم جسٹس عیسیٰ کی آواز آنسوؤں کی وجہ سے ڈوبنے لگی۔ انہوں نے پانی کا گلاس اٹھا کر پیا اور دوبارہ بولیں تو انہوں نے کیمرے کے سامنے ایک دستاویز کر دی جو پوری سکرین پر نظر آنے لگی۔

مسز جسٹس عیسیٰ نے کہا یہ میرا برتھ سرٹیفکیٹ ہے۔ آپ میرا نام دیکھ سکتے ہیں۔ یہ سرینہ کھوسو ہے اور یہ میرا 1980 کا شناختی کارڈ ہے۔ اس پر بھی نام سرینہ کھوسو ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ میری 1982 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے شادی ہوئی تو میں اپنے والد کے گھر سے ان کے گھر منتقل ہو گئی اور میں نے اپنے شناختی کارڈ پر 1983 میں نام سرینہ عیسیٰ کروا لیا۔ اس موقع پر انہوں نے نام تبدیلی والا شناختی کارڈ بھی سکرین پر دکھایا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا مزید کہنا تھا کہ میری والدہ ہسپانوی ہیں جن پر مجھے فخر ہے اور والدہ کی وجہ سے مجھے سپین کا پاسپورٹ ملا۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے سکرین پر اپنے سپینش پاسپورٹ دکھاتے ہوئے فل کورٹ کو بتایا کہ ہسپانوی زبان میں زیڈ دراصل ایس کو ساؤنڈ کرتا ہے اور انہوں نے مجھ پر الزام لگا دیا کہ میں دو نام دھوکہ دیہی کے لئے استعمال کر رہی ہوں۔ بیگم جسٹس عیسیٰ یہ کہتے ہوئے ایک بار پھر آبدیدہ ہو گئیں۔

اس کے بعد جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے اپنا پاکستانی کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ دکھایا جو انہیں 2003 میں جاری ہوا اور 2010 میں مدت پوری ہونے پر ختم ہوا تو نیا آئی ڈی کارڈ جاری ہوا جو آج تک چل رہا ہے اور اب سکرین پر اس نئے شناختی کارڈ کی کاپی بھی دکھا دی۔ بیگم جسٹس عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ان کے بچوں کی دستاویزات بھی اسی طرز پر بنی ہوئی ہیں۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے ایک بار پھر آنسوؤں میں ڈوبی آواز میں کہا کہ یہ کہتے ہیں میں نے پاکستانی ویزا کے لئے اپنے شوہر جج کے دفتر کو استعمال کیا جب کہ یہ میرا پہلا پانچ سالہ ویزا دیکھیے، یہ 2002 میں جاری ہوا جب میرے شوہرجج نہیں تھے۔

پاسپورٹ کا اگلا صفحہ پلٹتے ہوئے جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے اگلا ویزا دکھایا کہ یہ ویزا جب 2008 میں جاری ہوا تب بھی میرا شوہر جج نہیں تھا۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ تیسرا پانچ سالہ ویزا انہیں 2013 میں جاری ہوا جب میرے شوہر سپریم کورٹ کے جج نہیں تھے۔ اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے انکشاف کیا کہ جب وہ ایک عام قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ تھیں تو حکومت پاکستان ان کو پانچ سال کا ویزا جاری کرتی تھی لیکن جب سے میرے شوہر سپریم کورٹ آئے تو انہیں تنگ کرنے اور ہراس کرنے کے لئے حکومت اب انہیں ایک سال کا ویزا جاری کرتی ہے تو آپ خود فیصلہ کیجئے کون بدنیت ہے اور کون اپنے عہدے کا غلط استعمال کر رہا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے فل کورٹ اب سکرین کے سامنے پانچ سے چھ موٹی موٹی فائلز اٹھا لیں اور سب سے پہلے دکھایا کہ وہ کراچی کے امریکن سکول میں پڑھاتی تھیں اور وہاں سے ایک بہتر آمدن کے ساتھ انہیں ہاؤس رینٹ اور یوٹیلٹی بلز جیسی مراعات بھی حاصل تھیں۔ جسٹس صاحب کی اہلیہ نے ایک صفحہ پلٹ کر دکھایا کہ وہ شروع سے ٹیکس جمع کروا رہی ہیں اور ان کے ٹیکس ریٹرن ریحان نقوی نامی فائلر فائل کر رہے ہیں۔ اس دوران جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے اپنے والد کی طرف سے ورثے میں ملنے والی بلوچستان اور سندھ میں زرعی رقبے کے طویل خسرہ نمبر پڑھ کر سنائے جو ان کے ایک بہت خوشخال گھرانے سے تعلق کی نشانی تھے۔

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی تنخواہ سے کلفٹن میں ایک جائیداد بھی خریدی جو بعد میں فروخت کر دی۔ بیگم جسٹس عیسیٰ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے ٹیکس فائلر ریحان سے مشورہ کیا کہ اگر انہوں نے بیرون ملک پیسے بھجوانے ہوں تو اس کا قانونی طریقہ کار کیا ہے؟ تو ریحان نقوی نے ان کو کہا کہ وہ فارن کرنسی اکاؤنٹ کھلوا لیں اور پیسے بھجوا سکیں گی۔ اس کے بعد جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے فارن کرنسی اکاؤنٹ کی بینک سٹیٹمنٹ سکرین پر دکھاتے ہوئے بتایا کہ یہ آپ اس میں سات لاکھ پاؤنڈ دیکھ سکتے ہیں اور یہ ریکارڈ ہے جو میں نے اپنے ہی نام پر لندن میں موجود اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے 2003 میں اور پہلی جائیداد خریدیں۔

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے رقت آمیز لہجے میں کہا کہ یہاں الزام لگایا گیا کہ ملینز آف پاؤنڈز کی جائیدادیں ہیں جب کہ ایک جائیداد 245,000 پاؤنڈ اور دوسری 275,000 پاؤنڈ کی لی گئی۔ بیگم جسٹس عیسیٰ کا کہنا تھا کہ یہ اتنی ہی مالیت ہے جس میں اسلام آباد اور کراچی میں گھر خریدا جا سکتا ہے۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے اس موقع پر فل کورٹ کو آگاہ کیا کہ وہ کراچی کے امریکن سکول میں پڑھاتی تھیں، کراچی میں تنخواہ وصول کرتی تھیں اور کراچی میں ہی ٹیکس بھی ادا کرتی تھیں لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کے علم میں لائے بغیر ان کا آر ٹی او کراچی سے بغیر اجازت کے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ وہ دو بار پوچھنے ایف بی آر کے دفتر گئیں لیکن کسی نے ان کو جواب نہیں دیا بلکہ گھنٹوں انتظار کروایا گیا اور ایک بندے کے پاس سے دوسرے بندے کے پاس بھیجتے رہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ 2014 میں ان کے ٹیکس فائلر نے انہیں کہا کہ اگر وہ پاکستان میں رہائش پذیر نہیں تو اب ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی ضرورت نہیں۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ان کے فائلر نے ایف بی آر کو خط لکھ کر آگاہ کر دیا اور ایف بی آر نے بھی تسلیم کر لیا اور مجھے پھر کبھی کوئی نوٹس نہیں بھیجا۔ بیگم جسٹس عیسیٰ نے اس موقع پر اگلا دھماکہ کیا جس نے بظاہر حکومتی ریفرنس کی عمارت زمین بوس کر دی انہوں نے سکرین پر ایف بی آر میں 2018 میں اپنے فائل کردہ ٹیکس ریٹرن کے کاغذات دکھائے اور عدالت کو بتایا کہ 2018 میں پاکستان واپس آنے کے بعد انہوں نے اپنا ٹیکس ریٹرن دوبارہ فائل کیا اور اس میں اپنی برطانوی جائیدادیں ظاہر کی تھیں۔

اس موقع پر دس رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ہم مطمئن ہو گئے ہیں کہ آپ سب ریکارڈ رکھتی ہیں اور کاش ایف بی آر آپ سے بہتر طریقے سے تبادلہ کر لیتا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کے شوہر کو دو آپشن دیے ہیں کہ آپ ایف بی آر چلی جائیں اور ہم یقینی بنائیں گے کہ وہ آپ کو پوری طرح سنیں۔ دوسرا آپشن سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے۔ وہ بھی آپ کو سن سکتے ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس معاملے کے میرٹ کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ یہ تو متعلقہ محکمے کے حکام نے ہی کرنا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے چہرے سے ماسک نیچے کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہم آپ کی بہادری اور حوصلہ مندی سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ بیگم جسٹس عیسیٰ نے جسٹس عمر عطا بندیال کو مخاطب کیا کہ سر میں ایک سوال پوچھ سکتی ہوں؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے جواب دیا کہ جی پوچھیے۔ اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سر مجھ سے یہ سوال آج تک ایف بی آر نے کیوں نہیں پوچھے؟ بیگم جسٹس عیسیٰ نے ایک اور دھماکہ کیا کہ ادارے دو سال سے انہیں اور ان کے بچوں کو ہراس کر رہے ہیں لیکن ہم چپ ہیں۔ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کو فالو کیا گیا، اس کی تصویریں بناتے رہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے جواب دیا کہ اب وہ یقینی بنائیں گے کہ ایف بی آر والے تعاون کریں اور کیونکہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بار کے دنوں سے جانتے ہیں تو انہیں معلوم ہے کہ وہ کتنے صاف شفاف کردار کے مالک ہیں اور امید ہے اس امتحان سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔ بیگم جسٹس عیسیٰ نے بینچ کا شکریہ ادا کیا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک ایڈووکیٹ نے روسٹرم پر آ کر بیگم جسٹس عیسیٰ کو کہا کہ آپ نے مجھ سے بہتر وکالت کی ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال فوراً بولے کہ بیگم صاحبہ پاکستان کا سب سے قابل وکیل آپ کی تعریف کر رہا ہے۔ کل کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جذباتی گفتگو کے مقابلے میں آج ٹو دی پوائنٹ اور دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ بات کرنے پر کمرہ عدالت میں ہر کوئی جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ سے متاثر نظر آ رہا تھا۔