یادوں کے جھروکوں سے

یادوں کے جھروکوں سے
——-

عابد حسین قریشی
——

(10)
—–

پہلوانوں کے شہر سے چولستان تک
——-

کھاریاں بار کی ڈھیروں محبتیں سمیٹتے ہوئے سوا تین سال پر محیط عرصہ تعیناتی کی دلکش اور حُسین یادوں کے قلب و نظر پر انمٹ نقوش لیے یکم اگست 1989 کو پہلوانوں کے شہر گجرانوالہ میں جائن کیا۔گجرانوالہ ایک بڑا ڈویژنل ہیڈ کوارٹر، بڑی بار اور بڑے بڑے افسران۔ خوبصورت آفیسرز کلب جہاں شام کو باقاعدگی سے ٹینس مل جاتی گجرانوالہ بار بڑی بار ہونے کے باوجود ہمیشہ ایک پر امن اور وضع دار بار سمجھی جاتی رہی ہے۔ اُن دنوں ناصر خان صدر بار تھے اور نوید انور نوید مرحوم سیکرٹری تھے۔ اس دوران نہایت شریف النفس اور بزرگ رسول بخش گھمن اور پھر وضع داری میں بے مثل اور اعلٰی کردار کے حامل فرخ محمود سلہریا صدر بار رہے۔ تاہم نوید انور نوید مرحوم ہی تین سال متواتر سیکرٹری کا الیکشن جیتتے رہے۔ ہمارا کام ذیادہ تر چونکہ سول سائیڈ پر ہی تھا۔ اُس زمانے کے گجرانوالہ کے سینئر وکلاء سول سائیڈ پر کافی بڑی تعداد میں تھے۔ سبھی محنتی اور پروفیشنل تھے۔ خصوصاً بہت ہی محنتی، خلیق اور با اصول چوہدری محمّد یونس گھمن ایڈوکیٹ سول سائیڈ پر سر فہرست تھے۔ پھر مشتاق مہدی اختر، چوہدری احمد حسن، میاں احسان الحق بختیار، سلمان چوہدری، چوہدری محمود بشیر ورک، اشفاق بٹر، چوہدری طفیل وڑائچ، سعید بھٹی، اسلم ترمذی، چوہدری اسحاق اولکھ، ایس۔اے حمید، میاں مسعوداحمد اور میاں مقصود احمد، ملک شوکت اعوان، صاحبزدہ منیر عباسی وغیرہ بس یہی نام یاد رہ گے ہیں۔ اگر کوئی نام بھول گیا ہو تو معذرت۔ گجرانوالہ میں میں نے سول ججی کے علاوہ بطور ایڈیشنل سیشن جج بھی ڈیڑھ سال کام کیا اس لیے فوجداری سائیڈ پر بھی بڑے اچھے اور پروفیشنل وکلا کے ساتھ واسطہ رہا جن میں چوہدری غلام رسول بانٹھ مرحوم، جناب سیّد مظاہر علی نقوی موجودہ جج سپریم کورٹ آف پاکستان، چوہدری لیاقت علی سندھو، شیخ جاوید، سیف اللہ بٹر مرحوم، شاہد مظفر خان مرحوم، شیخ مختار احمد، مشاق چیمہ اور میر جلیس نمایاں وکلاء میں شامل تھے۔

میرے علاوہ بڑے رکھ رکھاؤ والے خوش مزاج اعجاز چدھڑ اور بڑے جہاندیدہ احمد نواز رانجھا نے بھی بطور سول جج اُسی روز جائن کیا تھا۔ امام غزالی رحمتہ اللہ کے اقوال زریں اور فلسفہ حیات جتنی خوبصورتی سے رانجھا صاحب سمجھاتے تھے کسی اور کے بس کا روگ نہیں۔ پھر ایک درویش منش اور باکمال شخصیت محمود خالد مرحوم جنہیں ہم سب پیار سے تایا جی بھی کہتے تھے وہ گجرانوالہ میں سینئر سول جج تھے۔ کیا عمدہ انسان تھے بیان سے باہر ہے۔ رولز ریگولیشن پر اتنی مضبوط گرفت کے پنجاب بھر کہ پریشان اور فکر مند جوڈیشل افسران اپنی عرض ہائے داشت لکھوانے کے لیے گجرانوالہ کا رُخ کرتے اور محمود خالد مرحوم بڑی خندہ پیشانی اور فراخ دلی سے

سب کو وقت اور مشورہ دیتے۔ انہیں دیسی حکمت پر بھی بڑا عبور تھا اور اپنے دوستوں اور کولیگز کی ہر بیماری کا علاج دیسی ٹوٹکوں سے کرنا ضروری سمجھتے تھے۔اُنکے بعد نہایت خوش مزاج مگر کم گو چوہدری غلام رسول تعینات ہوئے۔ جو بہت خوبیوں کے مالک انسان ہیں۔ اُنکے علاوہ تعلقات کا بھرم رکھنے والے شوکت محمود ، شعر و ادب سے گہرا شغف رکھنے والے شاہد محمود، چوہدری عبدالحمید، شہباز پراچہ، مرزا تاج مرحوم، بڑے خوش گفتار اور خوش لباس شاہد حسین چوہدری، بڑے ہونہار جہانگیر میر اور ایک نہایت ٹیلنٹڈ اور پڑھا لکھا نوجوان سہیل عباد جو عین جوانی میں اسلام آباد میں جوڈیشل کام کے بوجھ تلے آ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ بڑی خوبصورت انگریزی لکھتا اور بڑی عمدہ گفتگو کرتا۔ اُس وقت گجرانوالہ میں بڑے بڑے نامور ایڈیشنل سیشن جج تعینات تھے جن میں عجز و انکسار کا پیکر فخر حیات جنہیں گجرانوالہ بار نے فخر عدلیہ کا خطاب دے رکھا تھا۔ وہ ایک نہایت سلجھے ہوئے، متوازن مزاج اور ہمدرد انسان ہیں۔ بہت ہی زیرک، قانون پر دسترس رکھنے والے نیک نام ملک خادم حسین مرحوم، ایک انتہائی ذہین، سنجیدہ اور متین چوہدری فیض طالب، ایک سادہ، نیک طینت اور صاف گو سیّد سخی حسین بخاری جو بعد ازاں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے جج بھی رہے۔ بہت ہی اعلٰی و ارفع کردار اور قابل رشک روایات کے امین باوقار چوہدری ریاض گجر اور بڑے ہی شیفق، مہربان اور وضع دار طالب حسین بلوچ شامل تھے۔ ان دنوں گجرانوالہ کے سول ناظر باؤ بشیر جنہیں امرت دھارا کا خطاب دیا گیا تھا وہ ہر آن حکم کی تعمیل کے لیے حاضر رہتے۔

پہلے چار پانچ ماہ شیخ سعید احمد پراچہ سیشن جج رہے۔ پھر اُنکے اٹک تبادلہ کے بعد ہمارے سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے چوہدری انور علی تشریف لے آئے جو ایک پرانی وضع کے ہمدرد اور غمگسار سیشن جج تھے۔ چوہدری صاحب کو جوڈیشل ورک کرنے کا جنون تھا۔ حقّہ کی نے منہ میں اور ساتھ سٹینوگرافر کو اپنے مخصوص لہجے میں انگریزی کی ڈکٹیشن اور رات کو فخر حیات اور مجھے لازمی سیر کے دو تین گھنٹے کی مٹر گشت ہی قابل ذکر اُنکے مشاغل تھے۔ کبھی کبھار اعجاز چدھڑ بھی ہاتھ لگ جاتے مگر فخر حیات اور میں زیادہ سافٹ ٹارگٹ تھے۔ چوہدری صاحب گجرانوالہ میں ہی نومبر 1991 میں ریٹائر ہوئے۔ گجرانوالہ میں میری تین پوسٹنگ رہیں۔ 2005-2006 میں بطور ایڈیشنل سیشن جج تقریباً ڈیڑھ سال بڑے ہی اعلٰی اخلاق و کردار کے حامل ایک باوقار، بہترین اور تگڑے منتظم سیشن جج چوہدری مظہر حسین منہاس کی سر گردگی میں تقریباً ایک سال پورے ضلع میں ہونے والے ہر قسم کے الیکشن میں بطور ریٹرننگ آفیسر فرائض انجام دیتا رہا۔ اُن دنوں میں جج کم اور الیکشن کمیشن کا نمائندہ زیادہ نظر آتا تھا۔ گجرانوالہ کی اس دوسری پوسٹنگ کے دوران سب سے مشکل مقدمہ اشٹام فروشوں اور وکلاء کے درمیان تنازعہ کی درخواست ضمانت کا فیصلہ تھا۔محترم سیشن جج صاحب نے صورت حال کی نزاکت اور معاملہ کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے یہ معاملہ میرے سپرد کیا اور ساتھ سماعت والے روز خصوصی پولیس کے دستے میری کورٹ کے گرد لگوانے کا عندیہ دیا۔میں نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے سماعت
شروع کی۔ وکلا کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ میری عدالت کا خاصا بڑا کمرا کھچاکھچ بھرا پڑا تھا اور شاید سروس میں پہلی مرتبہ وکلا عدالت کے ڈائس پر بھی چڑھے ہوئے تھے۔ ان دنوں الیاس ریحان صدر بار تھے جو کہ ایک شریف النفس انسان ہیں۔ مگر ہم نے اپنے عصابی نظام کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے اس تنازعہ کا اتنا خوبصوت اور تمام فریقین کے لیے باعزت اور قابل قبول حل نکالا کہ فریقیں کی طرف سے داد و تحسین وصول کی۔ سیشن جج صاحب سے حوصلہ افزائی کی تھپکی الگ سے۔اس میں بار کی لیڈر شپ اور خصوصاً سینئر وکلاء نے بڑا اہم رول ادا کیا۔ یہ سب اللہ تعالٰی کا خاص کرم ورنہ من آنم کہ من دانم۔ ہر جمعرات کو چائے کے وقفہ میں جناب مظہر منہاس صاحب کے چیمبر میں تمام ایڈیشنل سیشن ججز اکٹھے ہوتے۔ جناب مظہر منہاس صاحب چونکہ ہر قسم کے complex سے مبّرا ہیں اور ہر طرح کی ہلکی پھلکی گفتگو کرنے کی اجازت مرحمت فرماتے. ہمارے ساتھ قہقہوں میں بھی شریک ہوتے اور پورے ہفتہ کے جو ڈیشل سٹریس سے خلاصی حاصل کرتے ہوئے یہ خوبصورت محفل برخاست ہوتی۔

گجرانوالہ میں میری تیسری پوسٹنگ بطور سپیشل جج اینٹی کرپشن 2015 میں ہوئی۔ میں نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج قصور کی پوسٹنگ کچھ ذاتی مسائل اور کچھ ریسٹ کرنے کے لیے ذاتی عرض داشت لکھ کر چھوڑی۔ خیال یہ تھا کہ لاہور میں کوئی ex-cadre پوسٹ مل جائے گی لیکن شاید کچھ انتظامی وجوہات کی بنا پر ایسا ممکن نہ ہو سکا اور مجھے گجرانوالہ میں لگا دیا گیا۔یہ سب کچھ بڑے ہی معاملہ فہم اور درد دل رکھنے والے جناب منظور احمد ملک صاحب کے چیف جسٹس بننے سے پہلے ہوا۔ وہ اپریل 2015 میں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے طوفانی دورے کرتے ہوئے گجرانوالہ تشریف لائے اور ہنستے ہوئے پوچھا کہ عابد قریشی فیلڈ اور ex-cadre کا فرق سمجھ آیا ہے۔ صرف تین ہفتوں کے اندر میرا تبادلہ سینئر سپیشل جج اینٹی کرپشن لاہور کر دیا گیا۔

اب پھر سول ججی کے زمانہ کی طرف پلٹتے ہیں۔ 1990 کے دھاندلی زدہ عام انتخابات ہم نے گجرانوالہ میں ہی کرائے۔ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ الیکشن کے بارے میں کافی ان کہی اور ان سنی باتیں اپنے پاس ہیں۔ چونکہ 1988 تا 2018 پورے تیس برس الیکشن ڈیوٹی کی اسلیے ان پر انشااللہ الگ سے کچھ لکھنے کی کوشش کروں گا۔ یہ ضروری اس لیے بھی ہے کہ تقریباً ہر الیکشن میں عدلیہ پر ناکردہ گناہوں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے اور کوئی ہماری صفائی دینے والا بھی نہیں ہوتا۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کو یہ بھی علم نہ ہے کہ ریٹرننگ آفیسر اگر چاہے بھی تو رزلٹ تبدیل نہیں کر سکتا۔ رزلٹ اُسکے دفتر میں آنے سے پہلے کئی دیگر لوگوں، امیدواروں، اُنکے ایجنٹوں اور اداروں کے پاس پہنچ چکا ہوتا ہے۔ RMS چل جائے یا بیٹھ جائے اس میں بھی بچارے ریٹرننگ آفسر کا کوئی رول نہیں ہوتا۔یہ باتیں کچھ تفصیل طلب ہیں۔ انشااللہ ہر الیکشن کی روشنی میں الگ سے بات ہو گی اور میری مجوزہ کتاب میں شامل ہو گی۔

اُن دنوں کا ایک قابل ذکر واقعہ کچھ یوں ہے کہ جناب محمّد رفیق تارڑ صاحب عدالت عالیہ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے۔ گجرانوالہ اُنکا آبائی شہر اور بار اُنکی اپنی تھی۔ انہوں نے بار کی دعوت پر گجرانوالہ کا وزٹ کیا ۔ اُنکے آنے سے پہلے سیشن جج سعید احمد پراچہ نے میٹنگ کی اور مجھے حکم دیا گیا کہ بلدیہ اور ضلع کونسل سے کہ یہ محکمہ میرے پاس تھے اُن سے بڑے بڑے استقبالیہ بینرز اور پینافلیکس وغیرہ لکھوا کر جی ٹی روڈ پر لگوائے جائیں۔ میں ذاتی طور پر جناب چیف جسٹس رفیق تارڑ صاحب کے درویشانہ مزاج سے واقف تھا۔ کچھ راہنمائی فخر حیات صاحب نے بھی کی۔ اسلیے بینرز حکم کی اطاعت میں لکھوا تو لیے گئے مگر لگوانے میں دیدہ دانستہ تاخیر کی اور سیشن جج صاحب کو عرض کی کہ آپ چیف جسٹس صاحب سے پوچھ لیں کہیں وہ مائینڈ نہ کر جائیں۔ اور ایسا ہی ہوا جونہی سیشن جج صاحب نے اپنی اس جذباتی خواہش کا اظہار کیا آ گے سے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ جناب چیف جسٹس صاحب نے فرمایا گجرانوالہ میرا اپنا شہر ہے اور میرا گھر ہے۔ میری گاڑی کے آگے کوئی سائرن والی گاڑی بھی نظر نہ آئے۔ گجرانوالہ بار نے قائداعظم بار ہال میں تقریب کا انتظام کر رکھا تھا۔ ہال گیلریوں سمیت کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ چیف جسٹس تارڑ صاحب اپنے ساتھ دس کے قریب سینئر ججز کو بھی ہائی کورٹ سے لیکر آئے تھے۔ جو کہ ایک بڑی تاریخی بات تھی۔ گجرانوالہ بار نے تقریب کے اختتام پر بڑا پر تکلف عشائیہ بھی دیا۔ یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ پنجاب میں گجرانوالہ شاید وہ واحد شہر ہے جہاں کے مکین نہ صرف خود اچھا کھانا کھاتے ہیں بلکہ اُس سے اچھا کھانا دوسروں کو کھلا کر خوش بھی ہوتے ہیں۔

چوہدری نسیم صاحب کبھی کبھار ہلکے پھلکے انداز میں کہا کرتے تھے کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں ایک پرکار گروپ ہے جو لاہور اور اُسکے ارد گرد
نوکری کرتا ہے۔ دوسرا پور گروپ ہے جو حاصل پور سے علی پور، احمد پور سے جام پور اور لیاقت پور سے خانپور تبدیل ہوتا ہے اور اب اس میں خیر پور کا اضافہ بھی کر دیا گیا ہے۔ صرف ایک ہی لائل پور بہتر سٹیشن تھا اُسے بھی فیصل آباد میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ خیرپور دریائے ستلج اور چولستان کے درمیان ایک 50/40 کلومیٹر پر مشتمل خالصتاً سرائیکی بیلٹ تھی اور سیاسی طور پر پیرزادہ اور اور گردیزی گروپوں میں منقسم تھی۔ خیرپور بار میں اُس وقت پندرہ بیس وکیل تھے جن میں ایک دو ہی بزرگ وکیل میاں منیر طاہر صدر بار اور عبدالستار ہمدانی سیکرٹری بار بقیہ لوگ زیادہ تر نوجوان تھے جن میں ماجد شاہ، قیوم ہمدانی، سلیم بھٹی، فدا خان اور ایک بڑے ہی ہونہار، لائق فائق نوجوان وکیل سجاد حسین سندھڑ شامل تھے۔ ایک بہت خوبصورت نوجوان شیخ عبدالغفار جو کبھی کبھار عدالتوں میں آتے۔ انہیں اچھی کتابیں پڑھنے کا شوق تھا۔ یہ کتابوں کا تبادلہ ہی ہماری دوستی کی وجہ بنی۔ جو آج تک قائم ہے۔ آجکل یہ ہونہار اور باوقار شیخ عبدالغفار ممبر پنجاب بار کونسل ہیں۔

حاصل پور سے بھی کافی وکلاء ہفتہ میں دو دن یہاں آتے جن میں چوہدری محمّد صدیق، اختر شاہ مرحوم، چوہدری عبدالحمید مرحوم، چوہدری اسرار، مظہر شاہ اور ایک ہونہار نوجوان سیّد عطا اللہ شاہ وغیرہ شامل تھے۔ سبھی بڑے وضع دار اور ادب لحاظ والے وکیل تھے۔ کبھی کبھار بہاولپور سے شیخ حاکم علی جو سول لاء کے بہت ہی قابل وکیل اور بعد میں ہائی کورٹ کے جج بھی بنے، چوہدری نصیر آرائیں اور ملتان سے بڑے سینئر قانون دان سیّد محمّد علی گیلانی بھی تشریف لاتے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ خیر پور تعیناتی کے دو سالوں میں جتنا سول لاء سیکھا شاید باقی سروس میں نہ سیکھ سکا۔

اپنی جوڈیشل سروس کا یادگار اور مسحور کن واقعہ جو نوجوان نسل کے ججز اور وکلاء کے لیے حیران کن اور ناقابل یقین ہو گا بیان کرتا ہوں۔ ہوا یوں کہ خیر پور میں صاف پانی کا بڑا مسلہ تھا۔ اُن دنوں منرل واٹر کی عیاشی دستیاب نہ تھی۔ میری اہلیہ معدہ کے مرض کا شکار ہو گئی۔ بات کچھ بڑھی تو اُنہیں (BVH) بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال داخل کرانے کی نوبت آگئی۔ ڈاکٹرز نے فوری طور پر فریش بلڈ ارینج کرنے کا مشورہ دیا۔ میں واپس خیر پور آ گیا کہ کوئی اہلکار شاید دستیاب ہو سکے۔ مگر جونہی یہ خبر بار میں پہنچی تو تقریباً سارے وکلاء میرے گھر کے سامنے جو عدالتوں سے بالکل ملحقہ تھا اکٹھے ہونا شروع ہوگئے اور مجھے کہا کہ صرف یہ بتا دیں کہ بلڈ گروپ کونسا ہے اور کہاں دینا ہے۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کوشش کر رہا ہوں انشااللہ مل جائے گا۔ دل میں خیال آیا کہ وکلاء کے بارے میں یہ تصور کہ وہ جج یا اس کی فیملی کو اپنا بلڈ بھی دیں گے بڑا انوکھا سا ہے۔ مگر وہ سارے وکلاء بضد ہو گئے۔ بہرحال وہ اپنی گاڑیوں میں (BVH) بہاولپور پہنچے۔ جن دو تین وکلاء کا بلڈ گروپ میچ ہوا اور انہوں نے بلڈ donate بھی کیا۔ اُن میں وہاں کے بڑے ہونہار نوجوان وکیل جناب سجاد حسین سندھڑ بھی تھے جو آجکل اٹک میں سیشن جج ہیں۔ میں اُنکا قدردان بھی ہوں اور احسان مند بھی۔

دسمبر 1993 میں اپنا تبادلہ خیر پور سے لاہور ہو گیا۔ خیر پور بار نے اپنے محدود وسائل کے باوجود بلدیہ ہال کو سجا کر ایک خوبصورت اور یادگار الوداعی عشائیہ دیا۔ جس میں سیشن جج صاحب کے علاوہ ہیڈ کوارٹر سے کافی ججز نے شرکت کی۔ پھر اگلے روز حاصل پور بار نے میرے لیے الوداعی لنچ کا اہتمام کیا۔ کیا عمدہ روایات تھیں۔ کیا خوبصورت اور جذباتی سی یادیں ہیں۔

بہرحال گیارہ نومبر 1991 کو چیف جسٹس میاں محبوب احمد صاحب کے زمانہ میں اپنا اچانک تبادلہ بہاولپور کی نوزائیدہ تحصیل خیر پور ٹامیوالی میں کر دیا گیا۔ کافی پریشانی اور بد حواسی کا عالم تھا۔ بار کے صدر فرخ محمود سلہریا اور سیشن جج چوہدری انور علی نے اپنے جذبات سے رجسٹرار صاحب کو مطلع بھی کیا مگر ہمیں جانا پڑا۔

خیر تبادلہ کے بعد سب سے بڑا مسلہ یہ درپیش تھا کہ خیر پور ٹامیوالی نقشہ میں کہاں واقع ہے۔ مختلف دوستوں نے مختلف روٹ بتائے۔ سیشن جج صاحب کسی زمانہ میں بہاولپور میں سینئر سول جج بھی رہ چکے تھے۔ انہوں نے ایک کاغذ نکال کر اپنے ہاتھ سے سارے مجوزہ روٹ لکھے۔ میں چونکہ وہاں پہلا سول جج تعینات ہوا تھا۔ اسلیے کسی کولیگ سے مشاورت بھی ممکن نہ تھی۔

بہرحال گجرانوالہ تا بہاولپور کا سفر بڑی ذہنی کشمکش اور عصابی کچھاؤ میں گزرا۔ ذہن کے نہاں خانوں میں یہ سوال بار بار ہچکولے کھاتا رہا کہ جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں۔ بہالپور میں اُس وقت سیشن جج ملک احمد نواز مرحوم تھے جو قبل ازیں اوکاڑہ میں میرے پہلے سیشن جج رہ چکے تھے۔ میں اس سوال سے خوفزدہ درود شریف کا ورد کرتے ہوئے جا رہا تھا کہ اگر انہوں نے یہ پوچھ لیا کہ میرے ساتھ کیا بنی۔ کیونکہ ہماری سوسائٹی میں ایک بُری پوسٹنگ یا پروموشن سے محرومی کسی بھی جوڈیشل افسر کو بقیہ زندگی کے لیے مشکوک اور راندۂ درگاہ بنانے کے لیے کافی ہے۔ بہرحال میں کچھ ڈرتا کچھ سہما سیشن جج صاحب کے چیمبر میں داخل ہوا۔ خلاف معمول جج صاحب نے بڑی خندہ پیشانی اور گرمجوشی سے میرا استقبال کیا اور فرمایا کہ عابد قریشی تم بڑے خوش قسمت ہو کہ ریٹائرڈ جسٹس محمّد حسن سندھڑ صاحب جو کہ خیر پور ٹامیوالی کے رہائشی تھے اور بڑے اعلٰی پایہ کے جج اور انسان تھے اُنکی سفارش پر تمہارا خصوصی طور پر تبادلہ خیر پور ٹامیوالی کیا گیا۔ تاکہ تم پہلے سول جج کے طور پر یہاں عدالت کا کامیابی سے آغاز کر سکو۔ یہ بات کچھ سمجھ میں نہ آئی کہ یہ کام تو اس علاقہ کا کوئی بھی سول جج کر سکتا تھا۔ مجھے گجرانوالہ سے 450 کلومیٹر دور اس خاص مقصد کے بلوانا سمجھ سے بالا تر ہے۔ بہرحال کچھ روز بعد جناب جسٹس سندھڑ صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بھی انہی الفاظ کا اعادہ کیا اور میرے لیے کچھ تعریفی کلمات بھی کہے۔

اب ذرا خیر پور ٹامیوالی چلتے ہیں۔ بہاولپور سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلہ پر تحصیل حاصل پور سے تقریباً 24 کلومیٹر پہلے ایک چھوٹا سا قصبہ جو میرے گاؤں چٹی شیخاں سے بھی زیادہ افسردہ اور عدم سہولیات کا شکار ہے۔ عدالت کے لیے مجھے ایک خالی کمرا دے دیا گیا۔ بیٹھنے کو ایک کرسی بھی دستیاب نہ ہے۔ عملہ کی تنخواہ کے لیے بجٹ نہیں ہے۔ سرکاری گھر جو کینال کالونی میں عدالت سے ملحقہ تھا وہاں سانپوں کا بسیرا۔ خیر وہاں تعینات اسسٹنٹ کمشنر عبدالحمید درّانی مرحوم جو جناب معظم حیات سابقہ رجسٹرار کے برادر نسبتی بھی تھے۔ بڑے ملنسار اور خوش مزاج آدمی تھے۔ انہوں نے ریسٹ ہاؤس میں میرے لیے ایک کمرا تالہ لگا کر رکھا ہوا تھا۔ تقریباً دو تین ماہ تک حاصل پور سے ٹرانسفر ہوئے مقدمات میں نوٹس پیروی چلتے رہے اور میں اسسٹنٹ کمشنر کے آفس میں ہی عدالت لگاتا رہا۔ پھر جب ریگولر کام شروع ہوا تو اپنی عدالت میں گیا۔ اے۔سی صاحب بھی ساتھ تھے انہوں نے جب بے سروسامانی کا عالم دیکھا تو ہنس دیے۔ فوری طور پر اپنے دفتر سے اپنی کراؤن چئیر اُٹھوائی اور میری عدالت میں رکھوا دی اور کہا کہ یہ کرسی ججز کو اچھی لگتی ہے۔ میز چئیرمین بلدیہ کے دفتر سے انہوں نے اٹھوائی اور میری عدالت میں رکھوا دی۔ پہلے دن ہی حاصل پور کے دو سینئر اور اعلٰی روایات کے امین اور بہت ہی وضع دار وکیل سیّد اختر شاہ بخاری مرحوم اور چوہدری محمّد صدیق کہ اس خطّہ میں شاید اُن سے زیادہ ضابطہ دیوانی کو سمجھنے والا وکیل نہ ہوگا۔ وہ ایک دعویٰ میں بحث کر رہے تھے۔ گرمیاں شروع ہو چکی تھیں۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ آپ دونوں نے دوبارہ کب آنا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم ہفتہ میں دو روز خیر پور آیا کریں گے۔ میں نے کہا آتی دفعہ ایک ایک پنکھا لیتے آنا۔ ایک میرے سر پر لگا دینا اور ایک اپنے سر پر۔ اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر میں نے میاں منیر طاہر ایڈوکیٹ صدر بار جن کی ذاتی کاوشیں اس کورٹ کو قائم کرنے میں بہت زیادہ تھیں انہیں کہا کہ ہر وکیل اپنے گھر سے ایک ایک کرسی لے کر آئے اور ایک میں بھی لاؤں گا۔ وہ ہنس دیے اور کہا کہ آئندہ تین چار روز میں آٹھ کرسیاں عدالت میں رکھاوا دیں گے۔ اسی طرح چیمبر کی بھی تزئین و آرائش جاری رہی۔ شہر میں ایک Rural ہیلتھ سنٹر تھا جس میں ڈاکٹر عاشق رندھاوا تن تنہا ہزاروں مریضوں سے نبردآزما ہوتے۔ شہر میں کوئی بیکری نہ تھی۔ بریڈ بہاولپور سے منگوانی پڑتی۔ کالج بھی کوئی نہ تھا۔ انگلش میڈیم سکول تو دور کی بات اردو میڈیم سکول بھی کوئی ڈھنگ کا نہ تھا۔ میرے گھر سے ایک سو گز کے فاصلہ پر چولستان شروع ہو جاتا جو حد نگاہ ایک ویرانی و سنسانی کا منظر پیش کرتا۔ اس دوران بڑے ہی متحرک، رولز ریگولیشنز کے ماہر اور انسانی ہمدردی میں منفرد چوہدری محمّد نسیم صاحب جو بعد ازاں عدالت عالیہ کے جج بھی رہے وہ بطور سیشن جج بہاولپور تشریف لے آئے۔ اُنکی کوششوں سے میری عدالت کے عملہ کو تنخواہ ملنا شروع ہوئی۔