کورونا وائرس بہت تیزی سے پھیل رہا ہے : عالمی ادارہ صحت کا انتباہ

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم نے ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ کورونا کی وبا ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اوریہ اب بھی جان لیوا ہے ، صرف 18 جون کو کورونا وائرس کے ڈیڑھ لاکھ نئے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے نصف براعظم امریکا میں تھے۔ ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں بھی کیسزکی تعداد روزانہ بڑھ رہی ہے۔
ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم نے کہا کہ لوگ گھروں میں بیٹھ کر تھک ہوگئے ہیں اور ممالک چاہتے ہیں کہ معاشرہ اور معیشت کھولیں مگر وہ یاد رکھیں کہ مہلک وائرس اب بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ سماجی فاصلے کی ضرورت ہے، وبا سے ہلاک افراد کی تعداد 4 لاکھ 60 ہزار ہو چکی ہے جب کہ 87 لاکھ افراد اب تک اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔
ایچ او ایمرجنسی کے ماہر مائک ریان نے برازیل کی صورتحال کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں کورونا سے اضافی ہلاکتیں ہوئیں۔ صرف برازیل میں دس لاکھ کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں جن میں سے12 فی صد صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے کارکنان ہیں ۔ برازیل میں ایک ہی روز میں 1ہزار 221 افراد لقمہ اجل بن گئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد49 ہزارسے زائد ہوگئی ہے ۔ جبکہ مریضوں کی تعداد1لاکھ سے زائد ہے۔
کوویڈ 19 کی ویکسین ڈھونڈنے کے لئے دنیا بھرمیں آزمائشیں چل رہی ہیں، ڈبلیو ایچ او کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اس کے اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے احتیاط کے ساتھ بڑے پیمانے پرجانچ کی ضرورت ہوگی ۔ ٹیڈروس نے کہا کہ اگرچہ یہ ویکسین تلاش کرنا ناممکن نہیں ہے لیکن یہ ایک بہت ہی مشکل سفر ہوگا۔ دوسری جانب چین کے دارالحکومت بیجنگ میں کورونا کی دوسری لہر کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یورپ میں بڑے پیمانے پر سماجی پابندیوں کا خاتمہ ہو چکا ہے جبکہ آسٹریلیا کے لاک ڈاؤن میں بھی مزید نرمی لائی گئی ہے

Courtesy Gnn news