سینیٹر سحر کامران نے صدر عارف علوی سے استعفی کا مطالبہ کر دیا

سپریم کورٹ کے فیصلے نے حکومتی بدنیتی بے نقاب کر دی ہے: سینئر رہنما پی پی پی

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما اور پی پی پی سوشل میڈیا اینڈ ریسرچ کوآرڈینیشن سیل کی مرکزی کوآرڈینیٹر سینیٹر سحر کامران نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم‏ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ کے خلاف سازش ناکام اور عمران خان کی ذہنیت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے حکومتی بدنیتی بے نقاب کر دی ہے۔ انہوں نے کہا ریفرنس کے فیصلے کے بعد صدر عارف علوی عہدے پر رہنا کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں اس لئے میں صدر عارف علوی سے فوری استعفے کا مطالبہ کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد موجودہ حکومت کی ناکامیوں کی طویل فہرست میں آج ایک اور اضافہ ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 8 سال قبل آج ہی کے دن عدالت نے ایک منتخب وزیراعظم کو نااہل کیا تھا اس لئے آج کے دن کو ہم عدلیہ کی تاریخ کا ایک سیاہ دن تصور کرتے ہیں۔ سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ ہماری عدالتی تاریخ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، یوسف رضا گیلانی کی نااہلی جیسے متنازع فیصلوں سے بھری پڑی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ آج کے فیصلے سے آزاد عدلیہ کی ایک نئی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

سینیٹر سحر کامران نے کہا عدلیہ کے خلاف سازش کرنے والے ناکام ہوئے ہیں مگر اس سازش میں ملوث ہر چہرہ قوم کے سامنے لانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی آزاد عدلیہ پر یقین رکھتی ہے اور ہماری جماعت نے ہر دور میں آزاد عدلیہ کے لئے قربانیاں دی ہیں۔ سینیٹر سحر کامران نے کہا اگر تمام ادارے اپنے آئینی حدود میں رہ کر کام کریں تو ہم تمام چیلنجز کا مل کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔