پہلے ہی کہہ رہا تھا ریفرنس غیر آئینی ہے، منیر اے ملک

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے کہا ہے کہ وہ تو پہلے دن سے ہی کہ رہے تھے کہ ریفرنس غیر آئینی ہے، آج عدالت نے بھی غیر آئینی قرار دے دیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر منیر ملک نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کارروائی ختم کردی گئی۔

جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار
عدالت عظمیٰ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا۔ دس ججز پر مشتمل بینچ نے مختصر فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریفرنس کالعدم قرار دینے کی درخواست منظور کرلی۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کالعدم قرار دینے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا، سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کارروائی ختم کردی گئی۔

ایک جج جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریفرنس کیخلاف قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست ناقابل سماعت قرار دی ہے۔

فیصلہ ہر گز کسی کی جیت اور ہار نہیں ہے، شہزاد اکبر

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دےدیا۔ تین کے مقابلے میں 7جج صاحبان نے ٹیکس معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انکم ٹیکس کمشنر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کو نوٹس جاری کرے گا، انکم ٹیکس کمشنر 60 روز میں ٹیکس معاملے سے متعلق کارروائی مکمل کرے گا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت یہ نوٹسز کمشنر ان لینڈ ریونیو خود جاری کریں، نوٹسز کے اجرا کے لیے اختیارات کسی اور افسر کو تفویض نہ کیے جائیں۔

لندن کی جائیدادوں کے بارے میں اب تک ٹیکس حکام کی تمام کارروائی کالعدم قرار دے دی گئی۔ ٹیکس حکام کی کارروائی کا ریکارڈ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے گا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پراپرٹیز کی خریداری کے حوالے سے فنڈز کے ذرائع پر وضاحت کا موقع دیا جائے، ہر پراپرٹی کی وضاحت کے لیے الگ نوٹس جاری کیا جائے، آرڈر سے پہلے اگر اس سے متعلق کوئی نوٹس جاری ہوا تو وہ ختم تصور ہوگا، نوٹسز پٹیشنر کی اسلام آباد میں رجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے کہا ہے کہ وہ تو پہلے دن سے ہی کہ رہے تھے کہ ریفرنس غیر آئینی ہے، آج عدالت نے بھی غیر آئینی قرار دے دیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر منیر ملک نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کارروائی ختم کردی گئی۔

جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار
عدالت عظمیٰ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا۔ دس ججز پر مشتمل بینچ نے مختصر فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریفرنس کالعدم قرار دینے کی درخواست منظور کرلی۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کالعدم قرار دینے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا، سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کارروائی ختم کردی گئی۔

ایک جج جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریفرنس کیخلاف قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست ناقابل سماعت قرار دی ہے۔

فیصلہ ہر گز کسی کی جیت اور ہار نہیں ہے، شہزاد اکبر

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دےدیا۔ تین کے مقابلے میں 7جج صاحبان نے ٹیکس معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انکم ٹیکس کمشنر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کو نوٹس جاری کرے گا، انکم ٹیکس کمشنر 60 روز میں ٹیکس معاملے سے متعلق کارروائی مکمل کرے گا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت یہ نوٹسز کمشنر ان لینڈ ریونیو خود جاری کریں، نوٹسز کے اجرا کے لیے اختیارات کسی اور افسر کو تفویض نہ کیے جائیں۔

لندن کی جائیدادوں کے بارے میں اب تک ٹیکس حکام کی تمام کارروائی کالعدم قرار دے دی گئی۔ ٹیکس حکام کی کارروائی کا ریکارڈ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے گا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پراپرٹیز کی خریداری کے حوالے سے فنڈز کے ذرائع پر وضاحت کا موقع دیا جائے، ہر پراپرٹی کی وضاحت کے لیے الگ نوٹس جاری کیا جائے، آرڈر سے پہلے اگر اس سے متعلق کوئی نوٹس جاری ہوا تو وہ ختم تصور ہوگا، نوٹسز پٹیشنر کی اسلام آباد میں رہائش کے ایڈریس پر جاری کیے جائیں۔

تحریری فیصلے کے متن میں کہا گیا ہے کہ فریقین نوٹسز کے جواب کے ساتھ متعلقہ ریکارڈ بھی بھجوائیں جو وہ مناسب سمجھیں، بیرون ملک ہونے کی صورت میں بھی بروقت جواب داخل کرانا فریق کی ذمہ داری ہو گی، کمشنر کے پاس کارروائی بیرون ملک ہونے کی بنیاد پر موخر یا ملتوی نہیں ہو گی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ جواب جمع ہونے پر کمشنر فریقین کو صفائی کا موقع دے کر آرڈر جاری کرے، فریقین ذاتی طور پر یا مجاز نمائندے اور وکیل کے ذریعے اپنی صفائی پیش کریں۔ کمشنر کارروائی60 دنوں میں مکمل کرے اور 75 دنوں میں فیصلہ جاری کیا جائے۔ مقررہ مدت میں کوئی توسیع نہیں نہ دی جائے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کمشنر کے آرڈر جاری کرنے کے7 دن کے اندر چیئرمین ایف بی آر رپورٹ جمع کرائیں، رپورٹ چیئرمین ایف بی آر کے دستخط سے کونسل کے سیکرٹری کے پاس جمع کرائی جائے، سیکرٹری یہ رپورٹ چیئرمین کونسل چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے رکھیں۔

آرڈر کے 100 دن کے اندر چیئرمین ایف بی آر کی طرف سے سیکرٹری کو رپورٹ موصول نہ ہونے پر وہ چیئرمین کونسل کو آگاہ کریں، چیئرمین کونسل کی ہدایت پر سیکریٹری چیئرمین ایف بی آر سے رپورٹ جمع نہ کرانے پر وضاحت طلب کریں۔

ریفرنس کالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کا دس رکنی فل بینچ جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل تھاہائش کے ایڈریس پر جاری کیے جائیں۔

تحریری فیصلے کے متن میں کہا گیا ہے کہ فریقین نوٹسز کے جواب کے ساتھ متعلقہ ریکارڈ بھی بھجوائیں جو وہ مناسب سمجھیں، بیرون ملک ہونے کی صورت میں بھی بروقت جواب داخل کرانا فریق کی ذمہ داری ہو گی، کمشنر کے پاس کارروائی بیرون ملک ہونے کی بنیاد پر موخر یا ملتوی نہیں ہو گی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ جواب جمع ہونے پر کمشنر فریقین کو صفائی کا موقع دے کر آرڈر جاری کرے، فریقین ذاتی طور پر یا مجاز نمائندے اور وکیل کے ذریعے اپنی صفائی پیش کریں۔ کمشنر کارروائی60 دنوں میں مکمل کرے اور 75 دنوں میں فیصلہ جاری کیا جائے۔ مقررہ مدت میں کوئی توسیع نہیں نہ دی جائے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کمشنر کے آرڈر جاری کرنے کے7 دن کے اندر چیئرمین ایف بی آر رپورٹ جمع کرائیں، رپورٹ چیئرمین ایف بی آر کے دستخط سے کونسل کے سیکرٹری کے پاس جمع کرائی جائے، سیکرٹری یہ رپورٹ چیئرمین کونسل چیف جسٹس آف پاکستان کے سامنے رکھیں۔

آرڈر کے 100 دن کے اندر چیئرمین ایف بی آر کی طرف سے سیکرٹری کو رپورٹ موصول نہ ہونے پر وہ چیئرمین کونسل کو آگاہ کریں، چیئرمین کونسل کی ہدایت پر سیکریٹری چیئرمین ایف بی آر سے رپورٹ جمع نہ کرانے پر وضاحت طلب کریں۔

ریفرنس کالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کا دس رکنی فل بینچ جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل تھا