و باتیں گھر میں اماں اور اسکول میں استاد سکھانا بھول جایا کرتے تھے وہ باتیں میں نے طارق عزیز سے سیکھی تھیں

ہر بدھ کو پی ٹی وی پر طارق عزیز بزم طارق عزیز نہیں پیش کیا کرتے تھے، وہ تو ہماری اخلاقیات اور کردار کو تخلیق کیا کرتے تھے۔ گھر میں صرف پی ٹی وی کا آنا بھی بہت بڑی سعادت تھا، جو تربیت ہماری نسل۔ کی اس زمانے میں پی ٹی وی کے ان ہونہاروں نے کی تھی وہ کوئی ادارہ کبھی کر ہی نہیں سکتا۔ طارق عزیز ان معلموں میں سے ایک تھے اور سب سے اول تھے۔ طارق عزیز ہماری زندگی کی یادوں کا مکمل جزو تھے۔ بچپن ان کی باتوں، سوالوں اور ذہانت کے سہارے ہی گزرا۔

جو باتیں گھر میں اماں اور اسکول میں استاد سکھانا بھول جایا کرتے تھے وہ باتیں میں نے طارق عزیز سے سیکھی تھیں۔ اردو سے محبت اور زعم کے ساتھ اردو بولنے کی ادا اگر کسی نے سکھائی تو وہ صرف طارق عزیز ہی تھے۔ ان کی آواز اور گفتگو دوا کی طرح موثر تھی۔ وہ کہتے تھے کہ اپنی زبان آنا چاہیے، اردو پر فخر کرنا سیکھیں۔ اپنے قومی لباس کو عزت دیا کریں، علاقائی ثقافت کی ترویج کیا کریں۔

خبرنامے کے ختم ہونے کے آدھا گھنٹا بعد جب بزم طارق عزیز نشر ہوا کرتا تھا تو دل میں یہ خواہش سر اٹھاتی کہ کاش میں لاہور ہوتی تو اس بزم میں بھی شرکت کر پاتی۔

وہ سوال نہیں پوچھا کرتے تھے، وہ تو تربیت کرتے تھے۔ افکار کی، اقدار کی، ملی یگانگت کی پرورش کیا کرتے تھے۔ وہ تمام تعریفی اسناد جو اس زمانے میں اسکول اور پھر یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے سوالیہ مقابلوں میں جیتتی آئی تھی، وہ صرف اور صرف طارق عزیز کی بدولت ہی حاصل کیے تھے۔ وہ نہ ہوتے تو مجھ میں کبھی یہ حس بیدار ہی نہ ہو پاتی۔ جاننے اور جستجو کی شمع جلانے والے ہی وہی تھے۔ صرف بزم طارق میں پوچھے گئے سوالات کے جواب جاننے کی غرض سے میں نے کتاب بینی شروع کی تھی۔

ان کی شستہ زباں، لفظوں کا انتخاب، باعزت انداز گفتگو، حب الوطنی پر مصمم یقین کے ساتھ سب سے زیادہ متاثر ان کا لباس کیا کرتا۔ ایک پاکستانی کیسا دکھ سکتا تھا، اس کی جامع تصویر طارق عزیز تھے۔ بچپن میں ایسی ہی باتیں آنکھوں اور تخیل دونوں کو بھاتی ہیں اور طارق عزیز کی اثرانگیز شخصیت نہ ہوتی تو شاید میں بھی آج وہ نہ ہوتی جو ہوں اور بہت سے لوگ بھی وہ نہ ہوتے جو وہ ہیں۔

جو شخص ہر بات پر اپنے مہمان کو پھولوں کے گلدستے کے ساتھ روانہ کرتا ہو، آخر میں کتاب کا تحفہ دیتا ہو وہ کیسا ہی دلدادہ اور علم دوست انسان ہوگا۔ سوال پوچھتے پوچھتے اکثر پیشانی پر آجانے والی زلفوں کو بڑے ادب سے ہٹایا کرتے، شادی شدہ جوڑوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے معصوم اور شریر جملے کس قدر عیب سے پاک ہوا کرتے تھے۔

سکھانے والے، زندگیوں میں مثبت کردار ادا کرنے والے انسان اگر دنیا میں نہ رہیں تو دل پھٹ سا جاتا ہے جیسے کسی کانچ سے الجھ سا گیا ہو۔ کچھ لوگوں کی کمی کسی قیمت پر پوری نہیں ہوسکتی، ہمیشہ کے لئے ان کا نہ ہونا رنجیدہ کر دیا کرتا ہے۔ اب نہ آنکھیں ان کو کبھی دیکھ پائیں گی نہ ان کی آوز، لب و لہجہ سماعتیں دوبارہ سن پائیں گی۔ تربیت کے وہ سلسلے اپنے انجام کو پہنچے، شخصیت سازی نے رخت سفر باندھا، الفاظ اور افکار کی پختگی بھی الوداع کہہ گئی ہیں۔

بزم طارق عزیز کے آخری حصے میں جب وہ نشست پر دراز ہو کر خطوط کے جواب دیتے تو مائک ہاتھ میں پکڑ لیتے۔ ان کے کانپتے ہاتھ دیکھ کر خوف زدہ ہو جاتی تھی میں، آیا وہ بیمار تو نہیں۔ ان کو کچھ ہو تو نہیں جائے گا نا۔ اگر کچھ ہو گیا تو یہ بزم خالی ہو جائے گا، ان کی محفل میں موجود جستجو بھی ادھوری ہی رہ جائے گا۔ وہ اب نہیں رہے، ان کے کانپتے ہاتھوں کو دیکھ کر جو خدشہ ہوتا، اب حقیقت کا روپ بھی دھار چکا ہے بس میں اپنی زندگی میں کبھی طارق عزیز کی موت نہیں دیکھنا چاہتی تھی


————–
رابعہ سرفراز چودھری