کپتان کی قوم بائیس سال عظیم رہ کر اب جاہل ہو گئی

رؤف کلاسرا
——-
لاہور سے اپنا بہت پرانا تعلق ہے۔1980ء کی دہائی میں لاہور جانا شروع کیا‘ اس شہر کا رومانس آج تک دل میں موجود ہے۔ میری خالہ سائرہ کا خوبصورت گھر یونائیٹڈکرسچین ہسپتال کے عقب میں تھا ۔ گلبرگ کا صاف ستھرا اور سرسبز علاقہ ‘ لہٰذا گرمیوں کی چھٹیاں ان کے ہاں گزارتے۔ خالی سڑکیں اور گرمیوں میں تقریباً ہر دوسرے تیسرے دن بارش ہوجاتی اور درخت‘ پودے اور پھول کھل اٹھتے۔ پھولوں کی خوشبو آپ کو فضا میں ہر سُو پھیلی محسوس ہوتی۔
اس شہر سے بہت یادیں وابستہ ہے۔ اس دور کا لاہورکہیں کھو گیا ہے۔ پھر1990 ء کی دہائی میں لاہور کے چکر لگے کہ شاید کسی اخبار میں نوکری لگ جائے۔ شعیب بٹھل ہر دفعہ کوئی نہ کوئی سفارش ڈھونڈ نکالتا لیکن وہ سفارش کبھی نوکری نہ دلا سکی۔بہرکیف لاہور کی اپنی شان تھی ۔ مون سون کی بارشوں کے موسم میں لاہور کے رنگ دیکھنے والے ہوتے۔ میرے دل میں لاہوریوں کیلئے بڑی عزت ہے ۔
میں اکثر دوستوں کو کہتا تھا کہ مقامی لاہوری شاندار اور پیارا‘ سادہ سا بندہ ہے‘ان کی پیاری پنجابی سن کر آپ عاشق ہوجائیں‘ خصوصاً جب وہ ”ڑ‘‘ کے ساتھ لفظ بولتے ہیں۔ یہ جو لاہور میں گند اور مسائل نظر آتے ہیں یہ سب ہمارے جیسے لوگوں کے پھیلائے ہوئے ہیں جو پنجاب کے دوسرے شہروں‘ قصبوں اور گائوں سے اس شہر میں آکر بس گئے۔ اس کے ذمہ دار شریف خاندان کے حکمران بھی ہیں جنہوں نے سب پیسہ لاہور میں لگا کر جلسوں میں کہنا شروع کر دیا کہ ترقی دیکھنی ہے تو لاہور میں جا کر دیکھو اور پھر پورا پنجاب لاہور دیکھنے اور یہاں رہنے کیلئے چل پڑا۔
یہ انسانی مزاج ہے کہ جو لوگ باہر سے آکر کسی شہر میں بس جاتے ہیں ان کا اس شہر اور لوگوں سے وہ پیار یا احساس نہیں ہوتا جو مقامی لوگوں کا ہوتا ہے‘ اسی لیے اکثر جرائم میں زیادہ تر ہاتھ انہی لوگوں کا ہوتا ہے جو باہر سے کسی شہر میں آئے ہوتے ہیں۔ میرا تجربہ یہی رہا ہے کہ لاہوری محبت کرنے والے لوگ ہیں‘ ان کی محبت دیکھیں کہ جب بھی بھارتی لوگ لاہور آتے تھے تو واپسی پر وہ اپنا دل لاہور ہی میں چھوڑ جاتے تھے۔بھارتی جب بازار میں شاپنگ کرنے جاتے اور دکاندار کو پتہ چل جاتا کہ وہ انڈیا سے ہیں تو وہ شاپنگ کا بِل لینے سے انکار کر دیتا۔ ایک بھارتی اداکارہ نے دنیا ٹی وی کے پروگرام ”مذاق رات‘‘ میں بتایا تھا کہ عام لاہوریوں نے انہیں کتنی محبت دی اور اگردشمن ایسے ہوتے ہیں تو ہمیں یہ دشمن پیارا ہے۔


اب سوال یہ ہے‘ کیا واقعی لاہوری جاہل ہیں کہ اتنا بڑا عذاب آیا ہوا ہے اور وہ جہالت کے مظاہرے کررہے ہیں؟ اس سلسلے میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے کہ عوام جاہل اور حکمران سمجھدار ہیں؟ جب خود ملک کا وزیراعظم مسلسل کہہ رہا ہو کہ آپ نے گھبرانا نہیں تو پھر عوام کیسے وائرس کو سیریس لیں ؟ جب وزیراعظم نے تین ماہ تک ماسک نہ پہنا ہو تو عوام کیوں پہنیں گے؟ جب حکومت خود بازار کھول دے اور عید پر شاپنگ کی اجازت دے تو پھر عوام کیسے گھر بیٹھیں؟
وزیراعظم مسلسل کہہ رہے تھے کہ وہ لاک ڈائون کے خلاف ہیں‘یعنی بازار‘ دکانیں سب کھلی رہنی چاہئیں ‘ تو عوام کا اس میں کہاں سے قصور آگیا جب انہوںنے وزیراعظم کے حکم پر بازاروں میں شاپنگ شروع کر دی؟ ایک طرف حکومت کہہ رہی تھی کہ احتیاط کریںاور دوسری طرف جو ضروری احتیاط تھیں اس کا مذاق اڑایا جارہا تھا ۔ عوام کی جاہلیت اپنی جگہ لیکن اس جاہلیت کا کون ذمہ دار ہے جو تفتان بارڈر پر دکھائی گئی جب لوگوں کو بغیر ٹیسٹ اور قرنطینہ کرائے ملک بھر میں بھیج دیا گیا۔
حکومت کے پاس عمرہ اور زیارات کیلئے جانے والوں کا ڈیٹا تھا‘لیکن مجال ہے کہ پاکستان میں ان تین ماہ میں کوئی پلان بنایا گیا ہو کہ ان کو واپسی پر کیسے ہینڈل کیا جائے گا؟ اسی طرح تبلیغی اجتماعات کو بھی ہینڈل نہیں کیا گیا ۔ اب یہ کہہ دینا کہ عوام اتنے سمجھدار ہوچکے ہیں کہ وہ اپنی طرف سے یہ سب کچھ کریں گے تو یہ کہیں نہیں ہوتا۔ دنیا بھر میں حکومتیں اس لیے بنائی جاتی ہیں کہ وہ عوام سے وہ باتیں اپنی طاقت سے منوائیں جو وہ ویسے نہیں سننا چاہتے ۔چلیں پاکستانی عوام تو ”جاہل‘‘ ہیں لیکن مہذب دنیا میں سی سی ٹی وی کے تصور کو کیا کہیں گے؟
تاکہ لوگوں پر آنکھ رکھی جائے کہ کون کیا کررہا ہے اور تھوڑی سی قانون کی خلاف ورزی ہو تو فوراً ایکشن لیا جاتا ہے۔ اگر لوگ اتنے سمجھدار‘ باشعور اورتہذیب یافتہ ہیں تو پھر لندن سے نیویارک تک ہر برانڈ کی دکان میں سکیورٹی آلات کیوں فٹ کیے جاتے ہیں؟
اگر آپ نے پاکستان کا موازنہ کسی سے کرنا ہو تو برطانیہ سے کیا جاسکتا ہے۔ پاکستانی اور برطانوی وزیراعظم‘دونوں لاک ڈائون کے خلاف تھے اور نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ عوام سے بڑی جاہلیت تو حکومت نے دکھائی ہے۔ حکومت کے پاس جنوری سے مارچ تک تین ماہ تھے اور سامنے مختلف ملکوں کے ماڈل موجود تھے کہ کس ملک نے کیسے ہینڈل کیا اور کیا نتیجہ نکلا۔ چینی ماڈل تھا‘کہ سختی سے پورا شہر لاک کر دو۔ اٹلی کا ماڈل تھا ‘کہ ہرگز لاک ڈاؤن نہیں ‘ مزے کرو‘ دیکھا جائے گا۔
اٹالینز نے پاکستانیوں کی طرح کورونا کا مذاق بنایا اور ہزاروں لوگ مارے گئے‘ پھر برطانوی ماڈل بھی تھا جہاں کا وزیراعظم زبردستی لوگوں سے ہاتھ ملاتا پھر رہا تھا اور پھر خود بھی کورونا کا شکار ہوا۔ ہماری سرحدوں پر ایران میں کورونا کا شدید حملہ ہوچکا تھا ‘اُدھرنیویارک میں ہزاروں مر رہے تھے‘ ہماری حکومت پھر بھی سوئی رہی۔ آپ نوٹ کریں‘ پاکستان میں اپریل تک سنجیدگی نظر نہیں آئی‘ ڈاکٹروں نے رولا ڈالا کہ ہمارے پاس حفاظتی لباس اور سامان نہیں تو ان پر حکومت چڑھ دوڑی ۔
کسی نے ڈاکٹروں کی دہائیوں کو سنجیدہ نہ لیا ۔ جب حکومت یہ سب مذاق لوگوں کے ساتھ کررہی تھی تو پھر لوگ کیوں سنجیدہ ہوتے؟ اگر پہلے دن سے ہی آپ لوگوں کو ڈراتے کہ یہ کتنا خوفناک وائرس ہے تو لوگ گھروں میں رہتے‘ بلکہ جب پہلی دفعہ لاک ڈائون کیا گیا تو تمام شہروں میں لوگوں نے فالو کیا کیونکہ لوگ اٹلی‘ برطانیہ اور نیویارک میں حالات دیکھ کر خوفزدہ تھے۔ اور پھر حکومت نے خود ہی اس خوف کو دور کر دیا کہ نہیں جناب یہ تو اشرافیہ آپ کو بھوکا مارنا چاہتی ہے‘ لہٰذا لاک ڈاؤن سے غریبوں کو کچھ نہیں ہوگا‘ اگر کچھ ہوا تو یہ امیروں کو ہوگا‘ اسی لیے امیر چاہتے ہیں کہ شہر بند ہوجائیں۔
اب یہ سب باتیں عوام نہیں بلکہ اس ملک کا وزیراعظم صحافیوں کو بلا کر مسلسل کہہ رہا تھا ۔ پچھلے ہفتے تک وزیراعظم عمران خان ماسک پہننے کو تیار نہیں تھے اور اس کا ثبوت وہ تصویر ہے جس میں وہ آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز بریفنگ کیلئے گئے تو ان کے ساتھ آرمی چیف جنرل باجوہ اور اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض نے ماسک پہن رکھے تھے لیکن وزیر اعظم نے ماسک نہیں پہنا۔ درجنوں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بھی وزیراعظم نے ماسک نہیں پہنا ۔ اب بتائیں پھر قوم کو کیسے سمجھایا جائے کہ ماسک پہننا کتنا اہم ہے یا بازار مت جائیں‘ جب وزیراعظم خود انہیں بتا رہے ہوں کہ ماسک پہننا ضروری نہیں اور اگر وہ باہر نہ نکلے تو بھوکے مریں گے۔
عمران خان صاحب بائیس برس تک فرماتے رہے کہ یہ عظیم قوم ہے لیکن اسے حکمران نااہل اور کرپٹ ملے۔ اسی ”عظیم قوم‘‘ نے عمران خان کو اربوں جیب سے دے کر ہسپتال بنوایا ‘کالج بنوایا اور پھر وزیراعظم تک بنا دیا‘ لیکن اب وہی قوم جاہل نکل آئی ہے۔اب کہا جارہا ہے کہ حکمران تو بہت قابل‘ سمجھدار‘ ایکٹو اور ایماندار ہیں لیکن قوم ہی کرپٹ اور جاہل ہے۔ وہی بات جب میں بہو تھی تو ساس اچھی نہ ملی ‘ میں ساس بنی تو بہو اچھی نہ ملی۔
بشکریہ روزنامہ دنیا