شہباز شریف کے پیچھے کون؟

سہیل وڑائچ
—-
اگر نیب اور حکومت شہباز شریف کی گرفتاری کے در پے نہ ہوتے تو لیڈر آف دی اپوزیشن آج بھی ماڈل ٹاؤن والے گھر میں بیٹھے لیپ ٹاپ پر کورونا کے بارے اعدادو شمار پڑھنے تک ہی محدود ہوتے۔ مگر حکومتی اور نیب کارروائیوں نے ثابت کر دیا کہ شہباز شریف لُگے (اکیلے کا پنجابی کا متبادل) نہیں ہیں ان کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی کھڑا ہے۔

ایک طرف نیب ان کے گھروں پر چھاپے مار رہا تھا، ہائیکورٹ کے دروازوں پر پولیس چوکیاں بنی ہوئی تھیں تو دوسری طرف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف، پاک فضائیہ کے سربراہ مجاہد انور خان اور چینی سفیر شہباز شریف کی طبیعت پوچھنے کے لیے فون کر رہے تھے۔

حکومت گرفتاری چاہ رہی تھی مگر عدالت نے اوپر نیچے دو بارحفاظتی ضمانت دے کر فی الحال شہبار شریف کو کچھ دنوں کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔ اس ساری مہم جوئی میں حکومت ایکسپوز ہوئی ہے۔

اب آسانی سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شہباز شریف کی گرفتاری کے مسئلے پر حکومت اور ملک کا طاقتور ریاستی ادارہ فوج ایک صفحے پر نہیں ہیں ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ حکومت شہباز شریف کو گرفتار کرنے کے در پے ہو اور آرمی چیف اسی کو فون کر دے۔ گویا دونوں اداروں یعنی حکومت اور فوج کی سٹریٹجی میں فرق آ چکا ہے۔

شہباز شریف عملیت پسند سیاستدان ہیں اور انھیں اس بات کا بھی ادراک ہے کہ ان کی جماعت ن لیگ اینٹی اسٹیبلشمنٹ پارٹی نہیں ہے۔ بزنس مڈل کلاس پر مشتمل یہ جماعت 1977 سے لے کر 2020 تک 43 سالہ سیاست میں اینٹی بھٹو اور پرو اسٹیبلشمنٹ پارٹی کے طور پر پھلی اور پھولی۔

بازاروں میں موجود تاجر تنظیموں سے لے کر چیمبر آف کامرس میں بیٹھے سیٹھوں اور بلدیاتی اداروں کے ذریعے طاقت پکڑنے والے ن لیگی سیاستدانوں نے اپنی ساری زندگی انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر حکومت اور اپنے کاروبار زندگی کو چلایا ہے مگر ن لیگ کا تضاد اور المیہ یہ ہے کہ ان کے محبوب لیڈر نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ میں نہیں بن سکی۔

نون لیگی ورکرز کی اکثریت چاہتی ہے کہ نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کی آپس میں بنی رہے اور یوں وہ انتظامیہ کے ساتھ مل کر ہمیشہ کی طرح حکومت کرتے رہیں۔

نواز شریف چاہتے تھے اور چاہتے ہوں گے کہ 40 سال سے تربیت پانے والے نون لیگی بازاروں اور گلیوں میں نکل کر اپنی پارٹی اور لیڈر کے حق میں احتجاج کریں لیکن یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔

نون لیگیوں کی نواز شریف سے محبت بس اس حد تک ہے کہ وہ ووٹ ان کے نام پر دیتے ہیں مگر وہ اس نام پر اپنے کاروبار اور زندگی کا رسک لینے کو تیار نہیں۔

نون لیگ کو سب سے زیادہ ووٹ اس وقت ملا ہے جب اس کے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات بہت اچھے ہوں ۔ 1990، 1997 اور 2013 کے الیکشنز میں نون لیگ نے بہت ووٹ لیے جس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے فوج سے اس وقت اچھے تعلقات تھے۔

نون لیگ کی سیاست کو سمجھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس جماعت نے ابتدائی جھٹکوں کے بعد دوبارہ سے اپنی سیاست کو پرانی ڈگر پر چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی ترک کر کے اعتماد سازی کے اقدامات یعنی سی بی ایم پر کام شروع ہے۔

ریاست کی طرف سے انسانی ہمدردی کے تحت نواز شریف کو جیل سے نکال کر بیرون ملک بھیجنا بہت بڑا ’کانفیڈنس بلڈنگ میژر (سی بی ایم)‘ تھا۔

نون لیگی حلقوں نے آرمی چیف کی مدت میں توسیع کی غیر مشروط حمایت کر کے جوابی سی بی ایم کر دیا۔

نون لیگی حلقوں کا خیال ہے کہ خیر سگالی کے اس پیغام کا بہت مثبت اثر ہوا۔ یہ لیگی حلقے آپس میں یہ کہتے بھی سنے گئے ہیں کہ تحریک انصاف کی طرف سے توسیع کے معاملے میں مِس ہینڈلنگ میں حکومتی بدنیتی شامل تھی اس لیے ریاستی ادروں میں اسکا اچھا تاثر نہیں لیا گیا۔

نواز شریف

نون لیگیوں کی نواز شریف سے محبت بس اس حد تک ہے کہ وہ ووٹ ان کے نام پر دیتے ہیں مگر وہ اس نام پر اپنے کاروبار اور زندگی کا رسک لینے کو تیار نہیں
اگر سی بی ایمز کے مفروضے کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر شہباز شریف کو مشکل وقت فون کر کے تسلی دینے کا پیغام بھی اسی تسلسل کی کڑی لگتی ہے۔

دوسری طرف تحریک انصاف کو یہ یقین ہے کہ سی بی ایمز کے باوجود ریاست اور ن لیگ کے درمیان تضادات اور اختلافات اس قدر زیادہ ہیں کہ اس بات کو کائی امکان نہیں کہ زمام اقتدار دوبارہ ن لیگ کی شریف قیادت کو دے دی جائے۔

تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ اس کے اقتدارکی سب سے بڑی ضمانت یہی ہے کہ فی الحال دور دور تک ان کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کو اپوزیشن سے اتنا خطرہ نہیں جتنا بری معیشت، کورونا کی وبا کی مس ہینڈلنگ اور برے طرز حکمرانی سے ہے۔

اگر تحریک انصاف نے ان اہم ترین معاملات کو نہ سنوارا تو پھر کسی نئے متبادل کی تلاش شروع ہو جائے گی۔ بھٹو اور نواز شریف کا متبادل بھی تو آ گیا تھا، عمران کا بھی کوئی متبادل مل ہی جائے گا۔

ہو سکتا ہے کہ وہ متبادل نہ نون لیگ سے ہو اور نہ ہی پیپلز پارٹی سے بلکہ تحریک انصاف سے ہی کوئی ایسا چہرہ سامنے لایا جائے جس پر اپوزیشن کو بھی اعتماد ہو اور یوں اگلے انتخابات تک گاڑی چلانے کا عارضی انتظام ہو جائے