ہوسکتا ہے کہ ہم صوبائی حکومت ہٹانے میں کامیاب ہوجائیں، حاجی لشکر ی رئیسانی

ہوسکتا ہے کہ ہم صوبائی حکومت ہٹانے میں کامیاب ہوجائیں، حاجی لشکر ی رئیسانی

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء سا بق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکر ی رئیسانی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت مصنوعی بجٹ لا کر صوبے کے بحرانوں میں مزید اضافہ کرنا چاہتی ہے جسکی ہم کسی صورت اجازت نہیں دیں گے،جام کمال خان بے اختیار اور سلیکٹڈ ہیں وہ بات چیت نہیں کر سکتے، پارٹی کی جانب سے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جارہا ہے جام صاحب او ر انکے مصنوعی ٹولے کو سبق سیکھائیں گے ہوسکتا ہے کہ ہم صوبائی حکومت ہٹانے میں کامیاب ہوجائیں۔ یہ بات انہوں نے ریڈ زون کے باہر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ جام کمال خان اور انکی حکومت مصنوعی حکومت صوبے کے حقوق کے سودے کے بدلے لائے گئے ہیں حال ہی میں وفاقی پی ایس ڈی پی اور این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان

کے حق کا سودا کیا گیا ہے آج صوبے میں سیاسی حکومت اگر ہوتی تو اس وقت صوبائی اسمبلی کی اپوزیشن جماعتوں ساتھ بیٹھ کرمذاکرات کرکے کوئی نتیجہ نکالا جاتا لیکن بے اختیار اور مصنوعی حکومت مصنوعی بجٹ لا نا چاہتی ہے جسکا راستہ ہم روکنا چاہتے ہیں تاکہ صوبے میں بے روزگاری اور بے چینی ہے کو ختم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی بجٹ کے خلا ف اپوزیشن جماعتیں دھرنے پر بیٹھی ہیں جام کمال خان اور انکی حکومت کے پاس اختیار نہیں ہے کہ وہ ہم سے بات چیت کر سکیں اور یہی انکے چھپنے کی وجہ بھی ہے کہ غیر عوامی اورمسائل میں اضافے کا بجٹ لایا جائے تا کہ لوگ بے چین ہوکر سڑکوں پر نکلیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پر مفا د پرستی کا الزام لگا کر جام صاحب غلط بات کرتے ہیں بی این پی نے 6نکات کی بات کی یہ صوبے کے حقیقی مسائل ہیں انہی مسائل کے لئے ہم نے وفاقی حکومت سے اتحاد ختم کیا جام صاحب ٹوئٹ کی بجائے سامنے آکر بات کرتے تو پتا چلتا وہ صوبے کے کتنے خیر خواہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت سے آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت جاری ہے جام صاحب او ر انکے مصنوعی ٹولے کو سبق سیکھائیں گے ہوسکتا ہے کہ ہم صوبائی حکومت ہٹانے میں کامیاب ہو جائیں، انہوں نے کہا کہ حکومت 70وٹس ایپ گروپوں پر چل رہی ہے ہم چاہتے ہیں تمام معاملات کو بات چیت کرکے ذریعے حل کیا جائے اگر بلوچستان پر جعلی بجٹ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اسکے نتائج بہت خراب ہونگے حکومت ایسی روایت نہ ڈالے کے بات چیت نہ سکے ہو سکتا ہے کل حکومت بھی اپوزیشن میں ہو جام صاحب سلیکٹڈ ہیں انہیں با ت چیت کا طریقہ نہیں آتا