فشری کے قابض چیئرمین عبدالبر

۔فشرمینز کوآپریٹیو سوسائٹی(FCS) چیئرمین عبدالبر اور ان کی پوری ٹیم جن کو 13 مئی سے اختیارات کی منتقلی نئے نامزد ڈائریکٹرز حضرات کو باعزت طریقے سے ھینڈ اوور کرنے کے احکامات بحکم سیکریٹری کو آپریٹیو سوسائٹی سندھ بذریعہ نوٹیفیکیشن ھذہ جاری کئے گئے۔
اس کے باوجود بھی عبدالبر کھوسہ صاحب جو پچھلے 3 سال سے چیئرمین Fcs Fisheries رہے اور انفارمل اور فارمل سیکٹر کے مزدوروں کے حقوق کو غصب کرتے رھے عبدالبر چیئرمین کی یہ بات تو زبان زد عام رہی مشہور ہوئی کے فشری چیئرمین عبدالبر نے 335 ملازمین کو بنا کسی ایڈوانس نوٹس بنا کسی جواز کے ایک ساتھ تمام ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر کے 335 گھروں کے چولہے بجا دئیے۔۔۔ تھنڈے کر دئیے۔
ایک ساتھ 335 لوگوں کا روزگار چھین لیا اور کسی نے کچھ نہ کہا اور نہ سنا۔۔۔۔لیکن یاد رکھو جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کا اللہ ہوتا یے اور جب اس کا انصاف آتا ہے تو پھر توبہ کا موقع بھی نہیں ملتا۔۔۔۔ کیونکہ عبدالبر ڈکیت یے۔زمینوں پر قبضہ کرنے والا ہے اور اس کا مبینہ الزام لطیف کھوسہ اور ایان علی پر آتا ہے کیونکہ وہ انہی اشخاص کا فرنٹ مین بنا ہو ہے۔عبد البر کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔لیکن تمہارے اندر یہ سب کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔اپنے آپ کو حافظ قرآن کہنے والے ایان علی کی مینیجری کرتے ہوئے کوئی شرم کوئی حیا آتی بھی ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔۔
آج عبدالبر صاحب کو کورٹ کی جانب سے نوٹس موصول ھوا اور پھر فشری سے ماہی گیروں کے ڈائریکٹرز کو بیدخل کرنے کی دھمکی دی گئی جس سے ماہی گیروں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ماہی گیر مشتعل ہو کر بر جیسے لٹیروں پر حملہ نہ کر دیں ۔
سوال یہ ہے کہ وہ کیا وجوہات ہیں وہ کیا سپورٹ ہے کہ جن کی بنیاد پر فشری کے قابض ناجائز چیئرمین عبدالبر ایک مافیا اور ایک بدمعاش کی صورت اختیار کر گئے ہیں کہ نہ وہ سرکار کی مانتے ھیں نہ ہی وہ عدالت یا ان کے احکامات کو خاطر میں لاتے ھیں اور نہ ہی ان کے حواری خاص طور پر ملا وقاص اور ملا عمر ہاشمی وغیرہ کرپشن سے ناغہ کررہے ہیں۔مسلسل ماہیگیروں اور ملازمین کے حقوق کو غضب کررہے ہیں اور ظلم کررہے ہیں۔۔۔۔
کسی نے کہا کہ عبدالطیف کھوسہ صاحب ہی ان کے سپورٹر ہیں یا ایان علی ان کی سپورٹر ہیں جس کے وہ ماضی میں نام نہاد مینجر رہے ہیں۔انییں ائرپورٹ سے ہوٹل تک چھوڑنے جاتے تھے تھے اور پھر انہیں وہاں چھوڑ کر آتے تھے جہاں وہ رات بھر بک ہوتی تھیں۔وہی ان کی سپورٹر ہیں۔۔۔۔ماہی گیروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم پھر بھی ھم باز نہ آئیں گے اور ان سب کو کہتے ھیں کہ عبدالبر اللہ کے عذاب اور ماہی گیروں کے اشتعال سے ڈر کہ ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں گریباموان سے پکڑ کر فش ہاربر پر نہ گھسیٹیں۔۔۔۔۔۔۔
عبدالبر اور ان کے حواریوں کا ساتھ دینے والوں تم بھی ان ہی طرح چوروں۔۔۔۔۔لٹیروں ، غاصبوں، قاتلوں کی فہرست میں ان کے ساتھ گنے جاو گے اور قانون کو گھر کی لونڈی اور عام انسان کو اپنا غلام سمجھنے والوں اب بس کرو۔۔۔۔۔۔
ورنہ تو
تنگ آمد بجنگ آمد
فشری کو بچانا ہے
عبدالبر کو بھگانا ہے
عبدالبر کو باہر نکالو۔۔
کرپشن مردہ باد
شرم کرو ڈوب مرو۔۔۔
مزدوروں کے حقوق دو۔۔۔
ساڈہ حق
ایتھے رکھ۔۔۔۔۔