سفرنامہ “حاضر اللہ سائیں” سے اقتباس

میدانِ عرفات میں حاجیوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر وجد میں تھا۔توبہ و استغفار کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ مجھے لگا کہ جبلِ رحمت پر میرے آقاﷺ کی اونٹنی کبھی دائیں اور کبھی بائیں جانب سے ہمیں دیکھ رہی تھی۔میرے وجود میں ایک ہی آواز گونجتی رہی۔
اے لوگو!
اے لوگو!
ایک آیت میرے دل پر دستک دیتی اور میں میدانِ عرفات سے نکل کر پوری کائنات کو دیکھنے لگ جاتا۔
ومآ ارسلنک اِلا رحمۃ ا لِلعلمِین
’’اور آپﷺ کو تمام عالمین کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا‘‘
عالمین۔۔انسان، جن ، چرند ، پرند، حشرات۔
دو باتیں میرے لیے اہم تھیں۔ایک یہ کہ حضورﷺ کے بارے میں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ آپﷺ تمام عالمین کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں اور دوسری بات یہ کہ جب آپﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا تو یہ نہیں کہا(اے مسلمانو)۔
ہمارا دین تنگ نظر نہیں۔
ہمارا دین فلاحی دین ہے۔
ہمارا دین صرف اپنوں کی بھلائی کا نہیں سوچتا بلکہ پوری انسانیت کی بھلائی کا درس دیتا ہے

سفرنامہ “حاضر اللہ سائیں” سے اقتباس

—-
اصغر علی ( اسپین )