تاریخ میں پہلی بار ایف بی آر نے کم ریونیو کمایا ہے جس کی وجہ حکومت کی نااہلی ہے اور اپنی نااہلی پر حکومت کو کورونا مل گیا ہے-وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار ایف بی آر نے کم ریونیو کمایا ہے جس کی وجہ حکومت کی نااہلی ہے اور اپنی نااہلی پر حکومت کو کورونا مل گیا ہے، گزشتہ سال تین ماہ کورونا تو باقی انکی نااہلی کا رہا، کوورنا اور کتنا اثرانداز ہوگا اسکا کچھ پتہ نہیں۔ بلدیاتی انتخابات صوبائی حکومت کے فیصلہ پر منحصر ہے، 18ترمیم کو آئینی تحفظ حاصل ہے، این ایف سی میں وفاقی کلیشن کی خرابی ہے، کلیکشن ہمیں دیں ہم کرکے دکھاتے ہیں۔ سندھ کو تخمینہ سے کم رقم بجٹ میں دی جارہی ہے، گزشتہ سال ہم نے متوازن بجٹ دیا تھا تاہم اس سال کورونا کی وجہ سے نقصان ہوا ہے جب کہ اس کے علاوہ ہونے والا نقصان وفاقی حکومت کی نا اہلی ہے، ہمیں اس سال وفاق سے 229 ارب روپےکم ملیں گے، اسے 229 ارب کا ڈاکا نہ کہوں تو کیا کہوں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے سندھ اسمبلی کے آڈیٹوریم ہال میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انکے ہمراہ صوبائی وزیراطلاعات سید ناصر حسین شاہ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کی شروعات کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سب کا شکرگذار ہوں، اس وباسے بچنے کے لئے احتیاط کریں ہم حکومتی سطح پر سماجی فاصلوں کو یقینی بنارہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ سال متوازن بجٹ پیش کیاتھا،ہم بجٹ سے بہت زیادہ مطمئن نہیں۔ مرادعلی شاہ نے کہا کہ اس سال 5.5 ٹریلین روپے کا تخمینہ دیا تھا،وفاق کے3.9کھرب روپےجمع کریں گے،9ماہ کی کلیکشن 3.1 کھرب روپےتھی،گزشتہ سال کے3ماہ کو50فیصدبھی بڑھادیں تب بھی یہ4.4کھرب روپےتک نہ جاتے۔ انھوں نے کہا کہ پتہ نہیں یہ وصولی کرسکیں گے یا نہیں مگر وفاقی حکومت کواپنی نا اہلی نظرآرہی ہےلیکن یہ ماننےکوتیارہیں،اپنی نا اہلی کو کرونا پر ڈالنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی وجہ سے ترقیاتی بجٹ کم کرنا پڑا ہے اور صوبوں کے پاس وسائل نہیں کہ وہ جی ڈی پی کا حساب لگائیں۔ بجٹ سے متعلق مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ جی ڈی پی گروتھ 5.8فیصد تھی،نون لیگ حکومت نے5.3ہدف رکھا5.2پرنسٹ رہا،پی ٹی آئی حکومت کیلیے6.2گروتھ ریٹ چھوڑکرگئے،3.3فیصد ہی پی ٹی آئی حکومت نے رکھا،ورلڈ بینک0.2فیصد کی گروتھ بتارہےہیں۔ انھوں نے کہا کہ تعلیم کے بجٹ کو کم نہیں کیا، 700 اسکیم جو آئندہ سال مکمل ہوں گی ان کی فنڈنگ ہوگی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ صحت کے شعبے پرآئندہ مالی سال بھرپور توجہ ہے اس لیے سوائے ہیلتھ کےکسی شعبے میں نئی اسکیم نہیں دی۔ انہوں نے مزید کہا مجھ پر الزام لگایا گیا کہ مساجد بند کرنے کا حکم دیا، علماء سے مشاورت کی جس پر ان کے تعاون کا شکر گزار ہوں۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کل کہا گیا یہ عام فلو ہے اب کہہ رہے ہیں خطرناک ہے، اب کہا جارہا ہے قوم جاہل ہے، پڑوسی ملک کو مدد کرنے کی بات کی جاتی ہے، ادھر سے ایسا جواب ملتا ہے کہ ہم خود شرمندہ ہوتے ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہماری اموات اورکورنا پھیلنے کا تناسب زیادہ ہے لہٰذا وزیراعظم سے درخواست ہے کہ زندگیاں بچانے کے لیے اقدامات کریں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ہم نےاپنےوسائل کودیکھتےہوئےپلانزبنانےہیں،تاریخ میں پہلی بارایف بی آرنےکم ریونیوکمایا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ محسوس ہوتا ہے کہ وفاق کے اعلان کردہ اعدادوشمار بھی درست نہیں ہیں، وفاق نےابھی تک سندھ کو 606 ارب کے مقابلے میں553 ارب روپے فراہم کیے ہیں جب کہ سندھ کو کہا جارہا ہے کہ اگلے سال اسے 760 ارب روپے ملیں گے۔ انھوں نے کہا کہ وفاق 229 ارب روپے کا ڈاکا ماررہاہے،سندھ کو وفاق سے اس سال229ارب روپےکم ملیں گے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ 233ارب رکھا ہے جب کہ 700 اسیکمز اس سال مکمل کریں گے اور پرانی اسیکیمزکو 25فیصد رقم دی ہے، سوائے محکمہ صحت کے کسی اور محکمے کی نئی اسکیمز شامل نہیں کی، اس کے علاوہ ہم نے تنخواہیں بڑھائیں ایک پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مشکل حالات میں سرکاری ملازمین کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کورونا متاثرین کو 23 ارب کیش ریلیف سہولت دیں گے، 5 ارب انڈسٹریز کی معرفت چھوٹے کاروبار کو قرضے دیں گے جو کورونا سے متاثرہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ بجٹ میں ہیلتھ سسٹم کےعلاوہ کوئی نئی اسکیم نہیں ڈالی،رینجرز،پولیس اور صحافی جان خطرےمیں ڈال کرفرائض انجام دےرہےہیں،کچھ بھی ہوجائےہم تعلیم پرسمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ لاک ڈاؤن سے متعلق مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نےکروناکےپھیلاؤکوروکنےکی کوشش کرنی ہے،وزیراعظم عمران خان پہلےدن سے کہہ رہےہیں کہ لاک ڈاؤن نہیں ہوناچاہیے،ہم اب بھی اپنی بات سےپیچھےنہیں ہٹے،عمران خان نےبھی تمام لاک ڈاؤن کوماناہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کرونا کتنا آگے چلتا ہے،ہمیں نہیں معلوم،کرونا کی وجہ سے مشکلات ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ورلڈ بینک منفی 0.2فیصد کی گروتھ بتارہے ہیں، پی ٹی آئی حکومت نے کہا 1.9 فیصد ہونا چاہیئے، پی ٹی آئی حکومت نے ٹیکس وصولی میں نااہلی دکھائی، اس سال گروتھ کی اسٹیمیٹ چارفیصد تھی جبکہ اب کورونا آگیا ہے تو منفی چارفیصد رہ گیا ہے جومجھے لگتا ہے کہ ان سے یہ بھی نہیں ہوگا اتنے نااہل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ 233ارب رکھا ہے، 155صوبائی اے ڈی پی ہے اور 700 سواسیکمیں اس سال مکمل کریں گے ، پرانی اسیکیمزکو 25فیصد رقم دی ہے، سوائے محکمہ صحت کے کسی اورمحکمے کی نئی اسکیمزنہیں شامل کی، ہرضلعی ہیڈ کورارٹرزمیں 200 بیڈزکے اسپتال بنانا چاہتے ہیں، کچھ اسپتالوں کو تیارکرنا ہے ان کیلئے بھی پیسے رکھے ہیں، اگلے سال کیلئے صحت سے وابستہ لوگوں کیلئے ہیلتھ رسک الائونس کی مد میں 5ارب الگ رکھے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے تنخواہیں بڑھائیں ایک پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مشکل حالات میں سرکاری ملازمین کواکیلا نہیں چھوڑ سکتے، سب مالکان پہلے ملازمین کا خیال رکھیں یہ فیصلہ کابینہ نے کیا جس پر کئی لوگوں نے تنقید بھی کی۔ انھوں نے کہا کہ 34ارب کورونا کیلئے رکھے ہیں، ہمیں تواسٹیٹ بینک سے نوٹ چھاپنے کی اجازت نہیں ہے، کورونا متاثرین کو23ارب کیش رلیف سہولت دیں گے۔ انھوں نےکہا کہ جو کورونا سے متاثر ہوئے انکے لیے پانچ ارب انڈسٹریز کی معرفت چھوٹے کاروبارکو قرضے دیں گے، 500لائیواسٹاک کیلئے سبسڈی دی ہے، کورونا اورٹڈی دل کا سندھ سے خاتمہ چاہتے ہیں، آئی ٹی پروفینلزکیلئے پچاس کروڑ رکھے ہیں، ہیلتھ ایگریکلچر اورتعلیم پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بجٹ تقریرکے دوران اپوزیشن نے ماحول خراب کیا۔ انھوں نے کہا کہ میرے لیے کہا گیا کہ مرادعلی شاہ میٹنگزمیں کئی باتیں مانتے ہیں بعد میں وہ مکر جاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے ساتھ لائے رکارڈ کی کاپی میڈیا کو دکھاتے ہوئے کہا کہ وفاقی اجلاسوں میں جو جو باتیں مانی ہیں اس پرقائم ہوں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم سے متعلق کہا کہ وہ توآج بھی وہی بول رہے ہیں جوشروع سے کہتے آرہے ہیں کہ ہم لاک ڈاؤن کریں گے تو لوگ مر جائیں گے لیکن پھر خان صاحب نے کیا لاک ڈاؤن۔ اس کے برعکس ہم نے کرونا کے پھلاؤ کو روکنا ہے اور اس کے لیئے لوگوں کے ٹیسٹ کرنا شروع کردیے ۔ انھوں نے کہاکہ میں وفاق کی بات مانتا ہوں مگر اپنا موقف بھی ضرور رکھتا ہوں جیسا کہ این سی سی کے اجلاس ہوئے، این سی او سی کے اجلاس میں شرکت کی اور اپنا نقط نظر پیش کیا۔ پہلے اجلاس میں ایئرپورٹ بند اور لاک ڈاؤن کی تجویز دی تھی تو ہمیں یوکے کی مثال دی گئی جب ان کا وزیر اعظم کرونا کا شکار نہیں ہوا تھا۔ کہا گیا انگریزی میں تقریر کرتا ہوں قائد اعظم بھی انگریزی میں تقریر کرتے تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے اوپر لگائے گئے وزیراعظم کی جانب سے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الزام لگایا گیا کہ لاک ڈاؤن مراد علی شاہ نے ہم سے پوچھے بغیر لگایا ۔ انھوں نے کہا کہ عالمی فلائٹ کس نے بند کیئے ؟ بارڈر کس نے بند کئے؟ کیا کوئی وزیراعلیٰ این سی سی کی صدارت کررہے تھے۔ انھوں نے کہاکہ ہم نے وفاق سے مکمل طور پر تعاون کیا ہے، وزیراعظم کی حیثیت سے جوبھی فیصلے خان صاحب نے کئے ہم اس کے پابند ہیں، ہم نے ان کا احترام کیا۔ انھوں نے کہا کہ الزام لگاتے ہیں کہ ہم نے وقت پر فیصلے کرکے لوگوں کو بچالیا، پھر کہتے ہیں مراد علی شاھ نے پہلے لاک ڈاؤن کیا پھر دیگر صوبوں نے ان کو دیکھ کر لاک ڈاؤن کردیا تو کونسے وزیر اعظم ہیں جس نے یکم اپیل کو فیصلے کیئے ؟لاک ڈاؤن اور شٹر ڈاؤن کے فیصلے کیئے؟ انھوں نے کہا کہ میں وزیر اعظم کی رائے سے متفق نہیں تھا اگر دوسرے صوبوں نے لاک ڈاؤں پر عمل کیا تو غلط نہیں تھا، وزیراعظم کی باتوں سے لگتا ہے کہ ان کی یادداشت کمزور ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے اپنی زمہ داری صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو دے دی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ این سی سی اجلاس میں فیصلہ ہوا یکم اپریل کو فیصلہ ہوا 2 ہفتوں کا لاک ڈاؤن ہوگا اور سخت ہوگا جس پر ہم نے کہا کوئی مسجد بند نہیں ہونی چاہئے مگر اس بات کو بھی الگ رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ جو بھی قانون کی خلاف ورزی کرے کا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ علماء کرام کا شکر گزار ہوں جنہوں نے بھرپور تعاون کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں این سی سی کی بات کیوں مانوں جب سب فیصلے مانے پھربھی الزام لگایا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میری کابینہ کے لوگ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ ہم این سی سی کے فیصلے کیوں مانیں، وزیراعظم کی ذاتی رائے کی حمایت کا پابند نہیں ہوں۔ انھوں نے کہا کہ 13 اپریل کو ریل اور جہاز بند کرنے کے جو فیصلے ہوئے کون سے وزیر اعظم نے کیئے؟ میں نے وزیر اعظم سے نقطہ نظر پر عدم اتفاق کے باوجود عمل کیا۔ میں اگر آپ کے فیصلے سے اتفاق کروں تب بھی الزام لگائے گئے، تو پھر اسے کیسے میں آپ کی باتین مانوں اس پر میری حکومت اور کابینہ کو سوچنا پڑے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مجھ پر الزام لگایا گیا کہ مساجد بند کرنے کا میں نے حکم دیا، علماء سے مشاورت کی اور ان کا شکر گذار ہوں جنہوں نے بھرپور تعاون کیا۔ ہم نے کہا تھا مساجد کھلیں گی ازان ہوگی اورنماز ہوگی۔ اب کہا جارہا ہے قوم جاہل ہے۔ بتائیں کس نے مکس سگنلز دیئے؟ انھوں نے کہا کہ کل کہا گیا یہ عام فلوہے اب کہہ رہے ہیں خطرناک ہیں۔ سویڈن کی مثال لے لیں۔ ہماری اموات اورکورنا پھیلنے کا ریشوزیادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ پڑوسی ملک کو مدد کرنے کی بات کی جاتی ہے، ادھرسے ایسا جواب ملتا ہے کہ ہم سب خود شرمندہ ہوتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان سے درخواست ہے کہ لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائیں۔ کورونا سے نمٹنے کے لئے دنیا میں دوماڈلز چل رہے ہیں۔ نیوزیلینڈ میں مزید دوکیسز آگئے وزیراعظم نے کہا یہ میری کوتاہی ہے۔ یہاں کہا جاتا ہے کہ کم اموات ہوئی ہیں، ان کی کیپیٹل اپروچ تھی۔ دوسرے ملکوں نے لاک ڈاؤن کیسز کم ہونے کےبعد ختم کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان سب سے برااس لئے ہے کہ ہم بھی لاک ڈاؤن کیااوراس کو کھول دیا۔انھوں نے کہا کہ اٹلی میں اب ایک فیصد کیسز آرہے ہیں، ہمارےہاں 21فیصد کیسز ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ این سی سی نے شاپنگ مالز کھولنے کا فیصلہ کیا مگر دوسرے صوبوں نے تو عمل ہی نہیں کیا، سپریم کورٹ نے کہا کہ دوسرے صوبے جب شاپنگ سینٹر کھولیں تب ہم نے 31 مئی کے فیصلے کے خلاف شاپنگ سینٹر کھولے، اس سے قبل اسلام آباد اور پنجاب نے این سی سی کے فیصلے کی انحرافی کی، میڈیا اس بات پر تحقیقی صحافت کریں مگر انحرافی ثابت کریں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہاں میں لوگوں کو احتیاط کیلئے ہاتھ جوڑ کر کہوں گا، آپ جو قوم کو غلط میسج دیں گے تو عوام کیسے عمل کریں گے، قوم کو جاہل کہا گیا اور کہا گیا کہ کہ فلو ہے ٹیسٹ نہ کرائیں، سویڈن کی مثالیں دی گئی مگر سویڈن نے عوام سے غلطی پر معافی مانگی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس انفیکشن ریٹ اس وقت سب سے زیادہ ہے، ہمارے پاس اموات کا ریشو سب سے زیادہ ہے، ہمارے ماہرین صحت کہہ رہے ہیں کہ آپ کے پاس حالات خراب ہیں ، وزیر اعظم سے کہوں گا آپ اقدام لیں ماہرین کی سنیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کل الزام لگایا گیا کہ لوگ ٹرک کھانے کے لوٹے جارہے ہیں، بڑی پریشانی ہوئی اعداد نکالے تو ایک واقع حیدرآباد میں ہوا، ہمارے پاس غربت ہے ایسے واقعات ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کہا گیا کہ لوگ خودکشیاں ہورہی ہیں غیر مصدقہ اعداد نکالے پتا لگے 70 گذشتہ سال اور اسی سال 40 افراد نے خودکشیاں کیں، اگر باتین مانی جاتیں تو حالات خراب نہ ہونے اور ہم اچھی پوزیشن میں ہوتے۔ اب بھی حالات خراب ضرور ہوئے ہیں مگر کنٹرول ہوسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ دوسرا ہے کیپیٹل ایپروچ جس میں پاکستان بھی اس میں شامل ہے، ان ممالک نے نہیں سوچا اس وقت اور لاک ڈاؤن نہیں کیا۔ اٹلی میں اس وقت لاک ڈاؤن کھل گیا، اٹلی 1یوکے 2 بھارت 8اور پاکستان 21 فیصد لوگ مثبت آرہے ہیں۔ میکسیکو میں 41 فیصد کے اعداد ہیں اور وہاں ٹیسٹ کم ہیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ دنیا عمران خان کے ماڈل پر چل رہی ہے ۔ او بھائی! آپ کے ماڈل پرنہیں چل رہا۔ انھوں نے کہاکہ سندھ میں 80فیصد سے زیادہ ٹیسٹ سرکاری خرچے پر ہوتے ہیں، ٹیسٹنگ کی گنجائش وباء کے وقت 80 تھی اب 11450 کرچکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بیچ میں کیا گیا کھانسی فلو ہے تو لوگوں نے ٹیسٹ کرانے چھوڑ دیئے۔ اب لوگ آرہے ہیں پریس کانفرنس میں الزام لگائے گئے کہ ان کو پیسے مل رہے ہیں اور جھوٹے کرونا کے کیس بنائے جارہے ہیں ۔ لوگوں کا شکر گذار ہوں جو اب ٹیسٹ کے لیئے آرہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمارے صوبے میں آبادی کے حساب سے 6666 پر ملین اور پاکستان کا 4068 ریشو ٹیسٹ کیا جارہا ہے۔ سندھ اور گجرات کو الگ نمبر دیئے گئے۔ سندھ ملک کے دیگر علائقوں اور بھارت سے ٹیسٹ کی گنجائش میں 33 فیصد آگے ہے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں کیسز بڑہ رہے ہیں تو اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ ہم نے 80 فیصد ٹیسٹ سندھ میں سرکاری سطح پر کیئے ہیں۔ کووڈ بسترے شروع اب 296 اور ایچ ڈی یو 62 سے 764 بیڈ تک لے آئے ہیں ان کو بھی بڑہا رہے ہیں۔ جون کے آخر تک 1199 ایچ ڈی یو بیڈ اور جولائی تک اسے 1274 کردیں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ٹڈی دل پر کام پلانٹ پروٹیکشن کا ہے مگر اب ہم پر ڈالا جارہا ہے اس میں 18ترمیم کا کوئی رول نہیں پھر بھی ہم پیسے دے رہے ہیں ۔ یہ کام بھی آرمی سے ڈیل کرایا جارہا ہے ان پر کام کا بہت بوجھ ہیں۔ ہم نے 98 ٹیمیں بنائی گاڑیاں خریدی ہیں ۔ گاڑیوں پر بڑے الزام لگائے جارہے ہیں مگر جو چیز خریدی وہ این ڈی ایم اے کے کہنے پر خریدی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے جہاز مانگے کیونکہ ایران افریقہ اور دیگر مقامات سے غول آنے ہیں۔ 6 مارچ کو 6جہاز کا مطالبہ کیا ایک جہاز ملا جوسکھر میں کھڑا ہے۔انھوں نے کہا کہ پچھلے سال ہم نے تیل بھی دیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بھائی جھاز آپ کا اور پائلٹ آپ کے ہم کیسے ان کو چلائیں۔ ہم نے بیرون ملک سے جھاز مانگے انہوں نے کہا کہ ان کی ڈیلنگ وفاقی حکومت سے ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ہم اپنے لوگوں کے لیئے پیسے خرچ کریں گے ، یہ پہلی وفاقی حکومت ہے جسے صوبے فنڈنگ کررہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھٹو دور میں اسپرے کرایا گیا اس کے بعد نہیں کرائے گئے۔ شہید محترمہ کی حکومت میں ٹڈی دل کا اشو آیا تو ان کو گرین لائن پر فون کیا ۔ انہوں نے تین دن میں سمری منظور کی اور اسپرے کرایا گیا۔ ایک دن آئے گا کہیں گے ٹڈی دل کو بھی ہم شکست دیں گے۔ کل کہیں گے کہ کرونا کامقابلہ بھی ہم ٹڈی دل سے کریں گے۔ کل یہ بھی سننے میں ملے گا کہ نیوزی لینڈ کو 92 کے کپ کی طرح ٹڈی دل میں شکست دیں گے۔ ایسے مثال کبھی جرمنی کے کبھی اٹلی کے دیئے جاتے ہیں جرمنی کا لاک ڈاؤن اور ہمارے لاک ڈاؤن میں فرق ہے، میڈیا اپنے رلیٹو سے پوچھ لیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آج اجلاس ہے این سی او سی کا وزیر اعظم کے سامنے باتین رکھوں گا، آج تک این ای سی کے 8اجلاس ہوجانے چاہیئے تھے مگر افسوس ہے ان کے کتنے اجلاس ہوئے۔
سوالات و جوابات کا سیشن:
وزیراعلیٰ سندھ سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ کے فورمنصوبہ عمران خان 2018میں بندکرواکرچلے گئے تھے، کہا تھا اس میں گھپلے ہوئے ہیں جوکہ اب تک کوئی گھپلا ثابت نہیں ہوا تاہم تاخیرکے ذمہ داروہ خود ہیں۔ کل کابینہ اجلاس میں اسٹیرنگ کمیٹی کی رپورٹ کے فور پر رکھی گئی۔ اپوزیشن اتنی باتین کرتی ہے 2018 میں عمران خان کے فور بند کراکر چلے گئے۔ بڑے الزام لگائے گئے 2 سال گذر گئے مگر کچھ ثابت نہیں کیا جاسکا اب بھی اسے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت جو فیصلہ کرے گی بلدیاتی انتخابات اس طریقے سے ہونگے۔ سکھر کو ہم نے پراپرٹی ٹیکس کے ساتھ فیصلہ کیا، اور اس کا لوکل گورنمنٹ کو فائدہ ہوگا۔ سکھر کو ہم نے پراپرٹی ٹیکس کے ساتھ فیصلہ کیا، اور اس کا لوکل گورنمنٹ کو فائدہ ہوگا۔ 2013 کا سندھ امسبلی کا لوکل گورنمنٹ قانون موجودہے اس پر عمل کریں گے۔ 18ترمیم تاریخی فیصلہ تھا اس وقت پی ٹی آئی کا کوئی رکن قومی اسمبلی نہیں تھا، ہم قانون اور آئین پر چلیں گے ، 18ترمیم کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اس وقت قومی اسمبلی میں ایک پارٹی چھوڑ چکی ہے۔ وفاقی کی جانب سے تین اسپتال ہتھیانے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں ہیلتھ ڈزیز اسپتال بنا رہے ہیں نئی اسکیم نہیں رکھی۔ 15ارب رکھے ہیں اس میں کچھ نئی اسکیموں کی کوشش کریں گے۔ سپریم کورٹ نے جو اسپتالوں پر فیصلہ کیا ہے وہ صوبے سے بات کرنے اور ادائیگی کرنے کا حکم دیا۔ وفاق نے جو خط لکھا ہے وہ اسپتالوں کو لکھا وہ غلط اور غیر قانونی ہے اس پر خط لکھ دیا ہے۔ ہمیں یقین ہے وہ اسپتال نہیں چلاسکیں گے اور ہم ہی ان کوچلائیں گے۔ وفاقی بجٹ میں اس دفعہ جو پیسے رکھے گئے ہیں وہ بھی کم اور ناکافی ہیں۔ وزیراعظم کے کراچی دورہ سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ بذریعہ ٹی وی مجھے ہفتہ کے دن معلوم ہوا کہ وزیراعظم کراچی کا دورہ کریں گے۔ وزیر اعظم کو پروٹوکول دینا ان کا حق ہے مگر اس لیٹر کو لیکر تنقید کی گئی۔ ایک پروگرام میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کا نجی دورہ ہے۔ میں ان کا دوست تو نہیں جو انکے نجی دورے میں مجھے بلائیں۔ اگر عمران خان کا نجی دورہ تھا تو وہ کرونا پر اجلاس کیوں کیا۔ وہ کراچی لینڈ کررہے تھے تو میں نے پروٹوکول سے خود پوچھا کہ میں ان کو رسیو کروں تو مجھے منع کیا گیا۔ وزیر اعظم کا ہی دورہ ہو تب بھی ہمیں پروٹوکول دینا ہے۔ میں باہر نکل رہا تھا تو مجھے بھی روکا گیا کہ وزیراعظم آرہے ہیں انتظار کریں۔ کوئی گورنر سے بھی پوچھے کہ کیا وہ وزیر اعظم کے استقبال کرنے گئے تھے۔ ان کا یہ کامیاب نجی دورہ تھا اینکر اور دوستوں پارٹیوں کے افراد بھی ملے تھے۔ میں نے منگل کو کابینہ اجلاس اور بدھ کا بجٹ پیش کرنے کا سوچا، مگر وزیر اعظم کا پلان نہیں آیا اس کے بعد ایک خط آیا جس پر کہا گیا سندھ حکومت وزیر اعظم کو بدنام کررہے ہیں۔ میئر کا انتخاب صوبائی قانون کے تحت ہوگا۔ ایک آمر صوبے کے اختیار واپس لیتا ہے اور ایسے مشرف کے دور میں ہوا تھا۔ 266 ارب کی صوبائی وصولیا ں فکس کی جو گذشتہ سال سے 8فیصد زیادہ ہے۔ پراپرٹی ٹیکس لوکل گورنمنٹ کا ہے اس پر سکھر میں سروے ورلڈ بنک نے کیا ہے۔ اس میں پوٹنشل ہے اس پر سکھر سے جلد شروع کیا جائے گا۔ ایک صحافی کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ این ایف سی کوئی خرابی نہیں ہے،این ایف سی میں وفاقی کلیشن کی خرابی ہے۔ این ایف سی میں جو ٹیکس چوری کو نہیں روکنا خرابی ہے۔ تعلیم سے زیادہ میرے لیئے بچوں کی زندگیاں اہم ہیں، لاڑکانہ میں وزیر اعظم کا پتلا جلنا نہیں چاہئے مگر میرے بھی تو پتلے جلتے ہیں۔ ہم پرامن احتجاج پر یقین رکھتے ہیں مگر جو انداز ہے اس پر اعتراض ہے۔ اسمبلی میں جو احتجاج ہوا اس سے احساس ہوا کہ کیا یہ دماغ سے فیصلہ کرتے ہیں۔ میرے مائک پر آکر اپوزیشن کا احتجاج کووڈ کی صورتحال میں درست تھا۔ میں نے احتجاج کرنے والوں کے معاملے کا نوٹس لیا تھا۔ سیاسی لوگوں کو عدم برداشت کے معاملے پر سوچنا چاہیئے۔ اسمبلی تقریر میں تنخواہ اور پینشن کا تذکرہ نہ کرسکا معذرت پینشن بھی اسی تناصب سے ہوگیا۔ این ایف سی میں کیا خرابی ہے۔ ہم تو مطالبہ کرچکے ہیں کہ کلیکشن ہمیں دیں ہم کرکے دکھاتے ہیں۔ خرابی تو چینی کمیشن ثابت کرچکی ہے اور وہ روک نہیں پارہے۔ وہ مافیا ان سے سنبھل نہیں رہا وہم سے ہماری جیب کے پیسے چھیننا چاہتے ہیں اورصوبوں کے حق چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اسکول کھولنے کے مقابلے بچوں کو محفوظ کرنا ہے جولائی کی تاریخ ہے مگر کیا حالات ہوں کیسے فیصلہ کریں۔ سب سے اہم بچوں کی زندگی ہے لوگ تو اندرون علائقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت نہیں۔ انٹرنیٹ سستا کرنے کی کوشش کررہے ہیں جب میڈیا کی صورتحال ایسی ہے تنخواہ نہیں تو واقعی لوگوں کے مسائل بھی ہیں ان کو ایڈریس کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہمیں اپنے لوگوں کی زندگیاں بچانی ہیں۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ وزیراعلیٰ سندھ