“صرف سرکاری ملازمین خزانے پر بوجھ ہیں۔”

پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کے بارے میں ناقابل یقین حقائق

بورڈ کا ایک چیئرمین
ایک چیف ایگزیکٹو
ایک چیف آپریٹنگ افسر
اور ایک چیف فنانشل افسر
اور اب جگر تھام کر پڑھئے
12 ڈائریکٹر، آٹھ سینئر جنرل منیجر، تین جنرل منیجر، پانچ کوچ، درجنوں دوسرے چھوٹے بڑے افسر، حتیٰ کہ صحافیوں سے ملاقات کے لئے دو ڈائریکٹر، ایک سینئر منیجر، چار منیجر! ایسے ایسے ہوش ربا عہدے!
ایک خاتون صرف اس اطلاع کے لئے کہ ٹیم ہاری یا جیتی؟ استغفار!

ان تمام خونخوار گِدھوں پر قومی خزانہ کس بے دردی اور وحشیانہ انداز میں لٹایا جا رہا ہے.

اس کی دل دہلا دینے والی مختصر داستان!

چیف سلیکٹر و ہیڈ کوچ (مصباح الحق) 32 لاکھ روپے ماہوار،

وقار یونس اوربائولنگ، فیلڈنگ وغیرہ کے پانچ کوچ فی کوچ 20 لاکھ روپے ماہوار،

31 ڈائریکٹر و جنرل منیجر وغیرہ، فی کس کم از کم 10 سے 15 لاکھ روپے ماہوار!

اب ذرا کھلاڑیوں کی عیاشیاں!

35 رجسٹرڈ کھلاڑی، ہرکھلاڑی 50 ہزار سے آٹھ لاکھ روپے،

چھ کھلاڑی آٹھ لاکھ روپے ماہوار لے رہے ہیں۔

ہر کھلاڑی کو میچ کے دوران 35 ہزار روپے روزانہ اضافی الائونس.

صرف ایک کھلاڑی سرفراز احمد کی ایک سال کی آمدنی چار کروڑ 68 لاکھ روپے (وہ بھی ڈالروں میں)

جس ملک کی 80 فیصد آبادی شدید غربت، فاقوں اور بیماریوں کی زد میں ہے اس کے صرف ایک ادارہ میں قومی خزانے پر اتنا بڑا ڈاکہ، اتنی وحشت ناک لوٹ مار…اور اس ساری لوٹ مار کا حاصل، کرکٹ ٹیم کی مسلسل چھ سیریز میں ذلت آمیز، شرم ناک شکستیں!

اِنا لِلّٰہ و اِنا الیہ راجعون!

کوئی پوچھنے والا نہیں، پوچھے گا کون؟ وہ جو خود اندھا دھند لوٹ مار کر رہے ہیں….؟
ملازمین کی سال میں ایک بار تنخواہ بڑھانے سے ان کو موت پڑ جاتی ہے….

وسیم حسن اعوان