عیاش عربوں کی عیاشی کا سورج غروب ہونا شروع ہو گیا ہے۔

UAE نے دس ہزار سے زیادہ پاکستانیوں کو واپس بھیجنے کا اعلان کر دیا
2020 ایکسپو کینسل کردی گئی
سعودیہ دنیا سے آئے مُلازموں کو واپس بھیج رہا ہے
آسٹریلیا میں موجود تمام غیر ملکیوں کو زندہ رہنے کیلئے 5 ڈالر فی گھنٹہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔
برطانیہ میں غیر ملکی کاروباری حضرات اپنی معاشی تباہی کے بھیانک خواب دیکھ رہے ہیں۔
امریکی تیل دنیا کی تاریخ میں پہلی بار 37- ڈالرز فی بیرل بک رہا ہے۔
جی ہاں 37- ڈالرز فی بیرل۔
یعنی جو امریکہ سے 1 بیرل تیل خریدے گا ، امریکن اس کو 37 ڈالرز دیں گے
اِس دنیا کو اپنی تین سو سال کی ترقی کا بہت زعم تھا نا۔
امریکہ یورپ جنہوں نے اپنی سپیس شیلڈ تک بنائی ہوئی تھی، اُلٹے مُنہ گرے پڑے ہیں
ایک کرونا وائرس نے اس دنیا کی ‏تین سو سال کی ترقی کو زیرو کر دیا۔
آسمانوں پر اُڑتے جہاز زمین پر اُتروا دیئے،
سمندر بحری جہازوں سے صاف کر دئیے
تیل کی کمائی پر پلنے والے جو کہتے تھے کہ نہ تیل ختم ہوگا، نہ غربت آۓ گی۔
اب انہیں کہنا کہ تیل پی لیں پانی کی جگہ!
ایٹم بم اور پتہ نہیں کیا کیا بنانے والے سب ‏بندروں کی طرح ایک دوسرے کی شکل دیکھ رہے ہیں
سب کچھ کسی کام کا نہیں اور وہیں پڑا رہ گیا
آج کے کسی انسان نے کبھی سوچا تھا؟ کہ وہ اپنی بے بسی کے یہ دن بھی دیکھے گا؟
2020 چڑھا۔
مبارکیں
پارٹیاں
خوشیاں
ہیپی نیو ائیر
لے لو نیو ایئر
کیسا چڑھا پھر سال؟
سب لوگ مگن تھے، گناہوں میں۔
بے بسوں پر ظلم کر کے قہقہے لگانے میں، اور ہمیشہ رہنے کی پلاننگ کرنے میں۔
سوچتے تھے کہ شاید
لا الہٰ الا اللہ‎ کہنے والے لاوارث ہیں۔
برما والے، عراق و افغانستان والے۔
کشمیر و فلسطین و چیچنیا والے۔
پھر یوں ہوا کہ رب کائنات ناراض ہو گیا۔
اُلٹا کر رکھ دیا اُسنے ساری دنیا کو
مالک ارض و سماء
تمام جہانوں کا تنہا مالک
کہتا ہے کہ
سب زمانے اُسکے ہیں
قربان جاؤں اپنے ‏اللہ کے۔
مجھے باوجود انتہائی سیاہ کار اور گنہنگار ہونے کے مگر اللہ کا احسان ہے کہ اُس کے ہونے پر مکمّل یقین ہے۔
مگر
مگر
میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اپنی زندگی میں اُسکے جلال اور قہاریت کی ذرا سی جھلک بھی دیکھوں گا۔
میں اللہ سے پناہ مانگتے ہوۓ کہہ رہا ہوں کہ مجھے تو اُسکی طاقت کی معمولی جھلک دیکھ کر قیامت کا احساس ہو گیا کہ روز محشر کیا ہو گا؟؟؟؟
ابھی ہواؤں اور پانیوں کو حکم نہیں ہوا۔
زمین و آسمان کو حکم نہیں ہوا۔
ابھی پہاڑوں نے روئی کے گالوں کی طرح اڑنا شروع نہیں کیا۔
صرف خورد بین سے بمشکل نظر آنے والا ایک عجیب حرکت کرنے والا وائرس ہے جس کے ڈر سے تصورات دم توڑے جا رہے ہیں۔
لوگ ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں۔
کوئی کسی کی پرواہ نہیں کر رہا۔
کوئی کسی کے قریب آنے کو تیار نہیں۔
بے شک وہی اکیلا ہی غالب ہے.
خیال رہے اگر اُس نے رحم نہ کیا، اور خوراک کیلئے بلوے شروع ہوئے۔
تو یہ جو کاغذ کے نوٹ اور پلاسٹک کا کریڈٹ کارڈ ہے اسے ہم کھا کر بھوک نہیں مٹا سکیں گے ‏جب بھوک غالب آجاۓ تو کونسا قانون؟کونسی تہذیب؟
کونسی معاشرت؟
کونسے اخلاقیات؟
اللہ کے بندو لوٹ آؤ، ابھی بھی وقت ہے روٹھے رب کو *منا لیں۔
آ جاؤ اپنے رب کی طرف۔
آ جاؤ
آ جاؤ
آ جاؤ
وہ ماننے میں دیر نہیں لگاتا۔
وہ ھمارا انتظار کر رہا ہے۔
کفّار نے استغفار نہیں کرنا۔
یہ کام ھم مسلمانوں نے ہی کرنا ہے۔ ۔۔
کر لیں۔ استغفار۔۔
منا لیں روٹھے رب کو
آئیں ھم سب مل کر اپنے رب کے حضور گڑ گڑا کر روئیں، اپنے گناھوں کے معافی مانگیں، اللہ پاک اپنے حبیب پاک کے صدقے ھماری توبہ کو قبول فرما لے۔آمین
اور پوری امت مسلمہ کو اس وائرس سے نجات عطا فرما دے۔
عزیز بھائیو میری اس تحریر کا مقصد یہ ھے کہ
شاید جہنّم کی طرف ھم میں سے کسی کے بڑھتے قدم رک جائیں۔
شاید جنّت کی حسین وادی کے کچھ باسی بڑھ جائیں۔
اگر ایسا ہوا تو یہ ھماری محنت کا ثمر ہو گا۔ انشاءاللہ

شکیل احمد خان
باکو۔ آذربائجان