دوست محمد فیضی۔ وہ محفلوں کی جان تھے۔ جامعہ کراچی کے شائننگ اسٹارز کی کہکشاں کے سپر اسٹار تھے – سہیل دانش

دوست محمد فیضی۔ وہ محفلوں کی جان تھے۔
جامعہ کراچی کے شائننگ اسٹارز کی کہکشاں کے سپر اسٹار تھے۔
سہیل دانش
چہرے پر پھیلی ہوئی نرم و میٹھی مسکراہٹ، لہجے کی شوخی، محبت بھرا انداز ہر ایک کا دل موہ لینے کے لئے کافی تھا۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ سحر انگیز گفتگو اور خطاب کا دل پذیر انداز انکی شخصیت کا جادو تھا لیکن میرا تجربہ یہ ہے کہ دنیا میں کہنے والوں کی کوئی کمی نہیں۔لیکن فیضی صاحب کی طرح سننے والے میں نے چند ہی دیکھے ہیں۔
یہ میرے صحافتی زندگی کے ابتدائی سال تھے۔ جب حضرت مولانا شاہ احمد نورانی ؒ کے محفل میں ان سے ملاقات ہوئی، پھر گرہیں کھلتی گئیں۔ فیضی صاحب در حقیقت جامعہ کراچی کے شائننگ اسٹارز کی کہکشاں کے سپر اسٹار تھے۔ اس کہکشاں کا ہر ستارہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہے۔ کس کس کا تذکرہ کروں۔ سید احمد، اسد اشرف، ملک سعدیہ روشن، فائزہ صدیقی، جنید فاروقی خوش بخت شجاعت، منور کلیم، ضیاء الاسلام زبیری، شفیق پراچہ اور رضوان صدیقی تھے۔ شفیق پراچہ کالج کے دور میں ہمارے انگریزی کے استاد تھے۔ حیدر آباد کے کالج میں صف اول کے لیکچرار میں شمار ہوتا تھا۔ بعد میں سول سروس جوائن کر لی تو استاد کا رشتہ دوستی میں تبدیل ہو گیا۔ محترم جاوید جبار کی طرح جتنی خوب صورت اردو چاشنی کے ساتھ بولتے اسی دل پذیری سے انگریزی پر بھی عبور حاصل ہے۔ جب زبانوں کے ساتھ وابستگی کی بات چل نکلی ہے تو محترم شفیع نقی جامعی کو کون بھول سکتا ہے۔ وہ ہندی بھی اتنی روانی سے بولتے ہیں کہ لب و لہجہ کہیں چغلی نہیں کھاتا۔ فیضی صاحب کے کیا کہنے وہ ایسا بولتے کہ ہر کوئی ان کے تقریری مہارت کا معترف اور ان کے سحر میں گم ہو جاتا۔
میرے لئے یہ خبر کتنی دل خراش تھی کہ کرونا کی وبا نے اس شاندار انسان کو نگل لیا۔ ایک تابندہ زندگی کا اختتام ہو گیا۔ انہوں نے ہمیشہ کے لئے آنکھیں موند لیں۔ وہ وہاں چلے گئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ نہ جانے کتنے چہروں اور دلوں کو غمزدہ کر گئے۔فیضی صاحب کراچی کا روشن چہرہ تھے۔ مجھے اس دن فیضی صاحب کا غمگین اور افسر دہ چہرہ اب تک یاد ہے جب ظہور الحسن بھوپالی صاحب کی شہادت کے بعدتیسرے دن ہی اپنے بہت ہی پیارے ساتھی ڈان کے کیمرہ مین مجیب بھائی کے ساتھ ان سے تعزیت کے لئے پہنچے۔ مجیب بھائی ظہور الحسن بھوپالی کے سفاکانہ قتل کے عینی شاہد بھی تھے اور اس واقعے کے بعد زندگی اور موت کا پل عبور کرتے ہوئے بھوپالی صاحب کی زندگی کے آخری لمحات ان کے کیمرے کی آنکھ نے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لئے تھے۔ جن لوگوں نے ظہور الحسن بھوپالی مرحوم کی شعلہ بیانی دیکھی وہ جان سکتے ہیں کہ دوست محمد فیضی ان سے کتنے متاثر تھے۔ دوست محمد فیضی ایک مرنجان مرنج انسان تھے۔ سیاسی، سماجی اور ادبی محفلوں کی جان تھے۔
اللہ تعالیٰ نے فیضی صاحب کے حلق میں زبان نہیں گراریاں لگا رکھی تھی وہ بولتے نہیں کہتے تھے اور کہتے بھی ایسا کہ سننے والے کی طبیعت میں بشاشت آ جائے۔ وہ بڑی سے بڑی علمی،گھمبیر سے گھمبیر فکری اور تیز سے تیز سچی بات اس ہلکے پھلکے انداز میں کہہ جاتے کہ سننے والے کو بعد میں پتہ چلتا کہ وہ جس بات پر قہقہہ لگا رہا تھا وہ لطیفہ نہیں مرثیہ تھا۔ ڈبیٹنگ کے ماہر تھے۔ ہر موضوع پر، ہر زاویوے سے ایسے حیران کن انداز میں مشکل بات آسانی سے کر جاتے تھے۔ ان کی تنقید تو اس تیر انداز کی طرح تھی جو کمان پر تیر چڑھانے سے پہلے اسے شہد میں بھگو لیتا تھا۔ تقریر میں الفاظ کا بہترین چناؤ اور اس میں شاعری کا تڑکا فیضی صاحب کی عادت سی بن گئی تھی۔
فیضی صاحب ایک وضعدار، انتہائی نفیس اور بڑے رکھ رکھاؤ والے انسان تھے۔ غیر مشروط محبت بانٹنے کی ایسی عادت تھی کہ جس محفل میں جاتے ان کی کوشش کو ہرکوئی محسوس کرتا۔ تقریر کرنے کی خوبی یہ تھی کہ سامعین کی دلچسپی کا مواد الفاظ کی صورت میں بکھیر کر رکھ دیتے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ وہ ظہور الحسن بھوپالی کی مجلس مقررین کے لئے یاد گار لمحے تھے۔
1970؁ء کی دہائی میں انٹر کالج اور انٹر یو نیورسٹی تقریر ی مقابلوں میں فیضی صاحب کی شعلہ بیانی انداز اور اسلوب انہیں وکٹری اسٹینڈ پر پہنچانے میں ذرا دیر نہیں لگاتے تھے۔یہ ایک پوری انجمن تھی، کہکشاں تھی، جس میں اسد اشرف، سعدیہ صدیقی، جنید فاروقی،ضیاء الاسلام زبیری، خوش بخت شجاعت اور دیگر چمکتے دمکتے ستارے تھے۔ فیضی صاحب نے جمعیت علمائے پاکستان کے پلیٹ فارم سے سیاست میں قدم رکھا۔ انہیں بھوپالی صاحب کی سر پرستی حاصل تھی۔ بھوپالی صاحب یوں بھی دوستوں کے دوست تھے، ہمہ وقت عام لوگوں کی مدد کو تیار رہتے۔ یہی وہ وقت تھا جب ہماری قابل تکریم جناب حنیف طیب سے ملاقات ہوئی۔ حنیف طیب کے کیا کہنے، فرشتہ صفت انسان ہیں۔ ایسے شاندار لوگوں کی صحبت نے فیضی صاحب میں منکسر المزاجی اور روا داری کی خوبیاں بدرجہ اتم پیدا کر دی تھیں۔ فیضی صاحب جنرل ضیاء الحق کے دور میں سندھ کابینہ کے رکن بھی رہے۔ 1993؁ء میں وہ مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر سندھ اسمبلی کے ایک بار پھر رکن بنے۔برادرم عارف الحق عارف نے اپنے مضمون میں شفق خواجہ کے حوالے سے کیا خوب یاد دلائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ مشفق خواجہ نے ایک بار دوست محمد فیضی کے بارے میں لکھا تھا کہ فیضی صاحب کا کما ل یہ ہے کہ وہ جب بھی وزارت سے علیحدہ ہوئے، عزت و وقار کے ساتھ ہوئے ورنہ اس کاروبار میں عزت و آبروتو کیا ضمیر تک ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ کوئلوں کی دلالی میں ہاتھ ہی نہیں منہ بھی کالا ہو جاتا ہے لیکن فیضی صاحب کی صرف شیروانی کالی رہی ”کسی سیاستدان کے لئے اس سے بڑا خراج تحسین ہو ہی نہیں سکتا“۔
مجھے فیضی صاحب سے وہ ملاقاتیں بھی یاد ہیں جو اورینٹ ایڈور ٹائزنگ کے محترم ایس ایچ ہاشمی کے دفتر میں ہوئیں۔ ہاشمی صاحب اور فیضی صاحب میں عزت و احترام اور محبت کا مثالی رشتہ دیکھا۔ہاشمی صاحب اس خاص شعبے میں ان کے رہنما بھی تھے اور استاد بھی۔ انہیں اسٹار مارکیٹنگ کے ہر دلعزیز جناب واثق نعیم کی رفاقت بھی حاصل رہتی۔ فیضی صاحب خود محبتیں بانٹنے والے انسان تھے اس لئے ہر کوئی انہیں گرمجوشی سے گلے لگانے میں فخر محسوس کرتا۔ انداز خطابت میں ناموری کمانے والے فیضی صاحب نے کالم نگاری اور قلم کے مختلف شعبوں میں خود کو منوایا۔ آج یہ سطریں لکھتے ہوئے فیضی صاحب کے بے شمار خوبیاں یار آ رہی ہیں۔وہ سچ مچ دوسروں کے لئے انسپائریشن کا ذریعہ تھے، یہی وجہ ہے کہ خدا نے ان کی زبان اور تحریر میں بھی ایک جادو رکھا تھا۔ آپ دیکھیں اس ملک میں سینکڑوں لوگ شاندار خطابت اور تحریر کے زیور سے مالا مال ہیں لیکن کبھی بھی آپ نے سوچا کہ ان کا یہ فن اثر سے خالی کیوں ہے؟اس کی وجہ ہر گز یہ نہیں کہ وہ بُرا لکھتے ہیں،محنت نہیں کرتے یا ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں، ایسا ہر گز نہیں ہے۔ ان میں سے اکثر ”کرافٹس مین شپ“ کی صلاحیت سے مالا مال ہیں لیکن بد قسمتی سے ان کے لفظوں کو دلوں تک پہنچنے کی اجازت نہیں ملی، انہیں تیر بن کر سینوں میں اترنے کا حکم نہیں ملا۔ بس اتنی سے بات ہے باقی سب لفظوں کا گورکھ دھندہ ہے۔
فیضی صاحب کو سچ پوچھیں تو یہ کمال اس لئے حاصل تھا کہ وہ سچے عاشق رسولﷺ تھے۔ روضہ رسول ﷺکی تصویر دیکھ کر آپ کی آنکھیں نم ہو جاتی تھیں۔ درود شریف کے بغیر نبی آخر الزمان ﷺ کا نام نہیں لیتے تھے۔ احادیث کی کتب اور اسلامی تاریخ آپ کی لائبریری کا حصہ تھیں۔ نجی محفلوں میں حبیب خدا ﷺ کا تذکرہ کرتے زبان نہیں تھکتی تھی۔
یہ سب تمہارا کرم ہے آقا ﷺ
کہ بات ابتک بنی ہوئی ہے
اب وہ محفلوں کی جان اور عاشق رسول ﷺ شہر خموشاں کا مکین بن گیا ہے اور منوں مٹی تلے آنکھیں موندے سو گیا ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ شکل و صورت، قول و فعل، نششت و برخاست اور خیالات و احساسات میں سادگی اور شرافت کے پیکر اس شاندار انسان کے ساتھ اپنے رحم و کرم کا معاملہ فرمائے۔ آمین