معیشت، کورونا، ٹڈی دل، ڈینگی اور سیلاب

حکومت کے پاس اگر ’’مکر‘‘ نام کی کوئی چیز موجود ہے تو اسے چاہئے ابھی سے ’’کس‘‘ لے لیکن اس کیلئے ایک عدد مضبوط قسم کا ’’مکرکس‘‘ بھی درکار ہو گا۔ سچ تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو دیکھ کر صحیح معنوں میں اس قدیم محاورے کی سمجھ آئی کہ سرمنڈاتے ہی اولے پڑنے کا اصل مطلب کیا ہے اور ستم ظریفی کی انتہا یہ کہ اولے بھی کلو کلو سے کم کے نہیں، اوپر سے کھوپڑی بھی خاصی پلپلی ہے اور خالی بھی ۔

معیشت کے معاملہ میں ماننا پڑے گا کہ حکومت تقریباً معصوم ہے کیونکہ جو معیشت اس غریبنی کو ورثہ میں ملی اس کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، کھال ادھڑی ہوئی تھی، معدہ کمزور تھا، گردے خراب تھے اور جگر چھلنی تھا دل گھبرا رہا تھا یعنی معیشت کا جنازہ جا رہاتھا، مسیحائی کا جام اسد عمر کو سونپ دیا گیا جس کا نتیجہ حفیظ شیخ کی صورت نکلا اور نکلتا ہی چلا جا رہا ہے ۔

معیشت کے زخم ہی چاٹ رہے تھے کہ کورونا آدم بو، آدم بو کرتا آنکلا تو ملین ڈالر مشورہ بالکل مفت عطا ہوا کہ ’’گھبرانا‘‘ نہیں لیکن اب خود ہی حیران پریشان ہر ایک سے پوچھتے پھرتے ہیں ’’لوگ گھبراتے کیوں نہیں ؟‘‘خوف اور گھبراہٹ کےبارے میں ہمارے بیشتر خیالات انتہائی احمقانہ ہیں جیسے (GOOD)ہونا بھی کوئی مثبت بات نہیں بلکہ زیادہ خطرناک ہی ثابت ہوتی ہے ۔یقین نہ آئےتو JIM COLLINSکو پڑھ لیں جس نے یہ انقلابی نظریہ پیش کیا تھا کہ “GOOD IS THE ENEMY OF GRENT”یہی حال گھبراہٹ اور خوف کا بھی ہے کہ ان دونوں کے بیشمار مثبت اور تعمیری پہلو بھی ہوتے ہیں مثلاً بہت سے کیسز میں یہ غربت کا خوف ہی تھا جو لوگوں کو امارت اور تمول تک لے گیا۔

یہ گمنامی کا خوف ہی ہے جو لوگوں کو ناموری کیلئے اکساتا ہے، محنت اور جدوجہد پر مجبور کرتا ہے ورنہ جو غربت کو سنجیدگی سے لے ہی نہیں رہا اور اس نے اس لعنت کو WAY OF LIFEسمجھ کر قبول کر لیا ۔اپنا نصیب اور مقدر سمجھ لیا وہ اس میں تبدیلی کیلئے بھلا ہاتھ پائوں کیوں مارے گا ؟ اسی لئے سیانے ’’غربت‘‘ کو بھی اک خوفناک نشہ قرار دیتے ہیں۔مدتوں پہلے اک کتاب پڑھی جس کا عنوان تھا “FEARS & PHOBIAS”اس کا مرکزی خیال بھی یہی تھا کہ فیئرز اور فوبیاز تک میں پوشیدہ طاقت سے آشنائی بہت ضروری ہے لیکن ’’عقل کل‘‘ ٹائپ ہوم میڈ افلاطونوں کو یہ باریک بات سمجھ نہیں آئے گی۔

میچومین بننے کا درس دیتے ہوئے قوم سے کہہ تو دیا کہ ’’ڈرنا گھبرانا نہیں ‘‘اوپر سے قوم ڈسپلن سے عاری، پنجابی فلموں کی ماری، اتھری اور بقول وزیر صحت یاسمین راشد ’’جاہل‘‘ تو بندہ پرور!وہی ہونا تھا جو ہو رہا ہے کہ مشورہ بھی بندہ دیکھ کر دیا جاتا ہے۔ مختصراًیہ کہ اب جو کچھ کر رہا ہے، کورونا ہی کر رہا ہے ۔

حکومت صرف گونگلوئوں سے مٹی جھاڑ رہی ہے یعنی معیشت کے کیس میں اسے ’’معصوم‘‘ بھی کہہ لیں تو کورونا کنفیوژن‘‘ کا ملبہ سوفیصد اس کے سر پر رہے گا کہ کبھی کبھی سروں پر سہرے سجانے کے شوقینوں کے سروں پر ملبے بھی آگرتے ہیں ۔

’’مرے کو مارے شاہ مدار‘‘ کورونا سے ابھی نکلے نہیں بلکہ اس کے ’’پیک‘‘ کا انتظار ہے کہ بیچ میں ہی ٹڈی دل آدھمکا اور ایسے کہ بیرون ملک سے یہ آوازیں اٹھنے لگیں کہ اگر ٹڈی دل کو صحیح طریقے سے ہینڈل نہ کیا جا سکا تو پاکستان کیلئے معیشت سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔

اب مصیبت یہ ہے کہ معاملات کو ہینڈل کرنے کیلئے حکمت نامی اک شے کی ضرورت پڑتی ہے جو بدقسمتی سے دنیا بھر میں کسی شاپنگ مال پر دستیاب نہیں ۔قارئین !ملکی معیشت اور غیر ملکی ٹڈی دل کے ذکر پہ ایک بار پھر حضرت اسلم گورداسپوری یاد آئے ۔فرمایامعیشت چاٹنے کو رہزنوں کے غول آتے ہیںہماری زندگی کی فصلیں ٹڈی دل ہی کھاتے ہیںلیکن اس نقارخانے میں حسن نثار جیسی طوطی کی سنتا کون ہے ۔

لکھ لکھ انگلیاں گھس رہی ہیں کہ شارٹ ٹرم منصوبوں کےساتھ ساتھ پندرہ بیس سالہ ’’روڈ میپ‘‘ پہ کام کرو اور عوام کو پوری طرح اعتماد میں لو لیکن یہاں تو ہر طرف ’’ٹریگر ہیپی کائو بوائز‘‘ کا ہجوم ہے جو اپنے ساتھ ساتھ ہمارا پینڈا بھی کھوٹا کر رہا ہے۔معیشت، کورونا اور ٹڈی دل پر ہی نحوست ٹل جاتی تو شاید قرار مل جاتا، صبر کر لیتے لیکن اب ڈینگی کا ڈر مارے دے رہا ہے۔

عثمان بزدار جیسا کہ نام سے ظاہر ہے بکریوں کو چرانے کی آبائی مہارت سے تو لیس اور مالا مال ہیں لیکن ڈینگی کو چراسکیں تو مانیں گے لیکن اس کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ ابھی سے تیاری شروع کر دیں اور پروفیشنلز سے رابطے کریں، یہاں تک کہ شہباز شریف دور کے جو لوگ ریٹائر ہو چکے، ان سے بھی رابطہ کرکے ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں ورنہ ڈینگی تابوت میں آخری کیل بھی ثابت ہوسکتا ہے اور یہ بتانے کی تو ظاہر ہے کوئی ضرورت نہیں کہ یہ ’’تابوت‘‘ ہو گا کس کا؟

پریشانی یہ کہ عذاب ڈینگی پر بھی ٹلتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ محکمہ موسمیات بہت ہی دھانسو اور بےدرد قسم کے موسم برسات کی پیش گوئیاں کر رہا ہے ۔میں کہ خوش ہوتا تھا دریا کی روانی دیکھ کرکانپ اٹھا ہوں گلی کوچوں میں پانی دیکھ کربے رحم برسات کے نتیجہ میں اگر سیلاب یا سیلاب کی سی صورت حال پیدا ہو گئی تو ’’سیاسی کائوبوائز‘‘ کیا کریں گے؟

فوج کے علاوہ ان کے پلے کیا ہو گا؟یہ کناروں سے کھیلنے والےڈوب جائیں تو کیا تماشا ہواور قتیل شفائی نے کہا تھا…پھر سے وہی سیلاب حوارث جانے بھی دو ساحل والویا اس بار سفینہ ڈوبا یا اب کے منجدھار نہیں ہے

Column Hassan Nisar ……
Courtesy Jang urdu