پاکستان کوسٹ گارڈزکی اسمگلنگ کے خلاف مختلف کاروائیاں

پاکستان کوسٹ گارڈزکو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی کہ وند ر اور گوادر (بلوچستان) سے بھاری مقدار میں چھالیہ، ایرانی ڈیزل اور متفرق اشیاء اسمگل ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان کوسٹ گارڈز کے خفیہ ذرائع کی نشا ندہی کے مطابق پاکستان کوسٹ گارڈز کے علاقہ کمانڈرنے جوانوں کے ہمراہ موبائل گشت پارٹیاں ترتیب دیں اور مشکوک مقامات کی نگرانی شروع کر دی گئی۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران مختلف جگہوں میں کی گئی کاروائیوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔
1۔ناکہ کھاری چیک پوسٹ اور وندر شہر کے قریب مختلف گاڑیوں کی تلاشی کے دوران34,394کلو گرام چھالیہ اور 45ٹن فلو رائٹ سٹون برآمد کرتے ہوئے 17 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ جبکہ ایک اور کاروائی میں ناکہ کھاری چیک پوسٹ سے 91عدد ٹائر،16بیگ چائنا سالٹ اور غیر قانونی طریقے سے اسمگلنگ کئے جانے والا لینڈ کروزر کو نان کسٹم پیڈ کاغذات نہ ہونے کی وجہ سے تحویل میں لے لیاگیا۔ ملزم رات کی تاریکی کافائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔
2 ۔گوادر(بلوچستان) میں کھلے سمندر میں مچھلی کا شکار کر نے والی لانچ کے خفیہ خانوں میں چھپایاگیا 18,000لیٹر ایرانی ڈیزل برآمدکر کے ایک فر د کو گرفتار کر کے لانچ کو قبضے میں لے لیا گیا۔
3۔جیوانی جٹی (گوادر)سے 25تارکین وطن جن میں 01نائیجرین بھی شامل ہے گرفتارکرلیا گیا۔یہ تمام غیر قانونی طورپر بیرون ملک سے پاکستان آنے کی کوشش کر رہے تھے۔ابتدائی تفتیش کے بعدتمام تارکین وطن کو FIA کے حوالے کر دیاگیا۔
تمام اسمگل کی جانے والی چھالیہ،ایرانی ڈیزل،23گاڑیاں، 01 لانچ، اور18افراد کوپاکستان کوسٹ گارڈزنے اپنی تحویل میں لے کر مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ پکڑی جانے والی چھالیہ،ایرانی ڈیزل،لانچ اورگاڑیوں کی مالیت تقریباً10کروڑ74لاکھ روپے کے لگ بھگ ہے۔
پاکستان کوسٹ گارڈز اس امر کا اعادہ کرتی ہے کہ مستقبل میں بھی اس طرح کی کاروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی تا کہ وطنِ عزیز کو اس لعنت سے نجات دلائی جا سکے اور اس مقصد کے حصول کے لئے تمام دستیاب وسائل کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لایا جائے گا۔
ترجمان پاکستان کوسٹ گارڈز