کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو

آجکل مسلم لیگ نون کے صدرقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی ایک ہنسی مسکراتی اور خوشگوار موڈ میں لی گئی تصویر کو بڑا چرچا ہے ادائے جاتا ہے کہ یہ تصویر ان کی جیل سے رہائی کے بعد لی گئی ہے جس میں ان کی خوشی دیدنی ہے لیکن بعض دوستوں کو یقین نہیں آ رہا کہ یہ تصویر تازہ ہے ان کا خیال ہے کہ یہ تصویر ان کے دورے اقتدار کی ہے ۔۔۔۔یہ تصویر کب کی ہے اس کے بارے میں صحیح بات تو خود میاں شہباز شریف ہی جانتے ہیں یا جس نے یہ تصویر کھینچی ہے وہی بہتر بتا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیاسی حلقوں میں اس تصویر پر تبصرہ شروع ہو گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کہا جا رہا ہے کہ اگر یہ تصویر موجودہ حالات میں بنائی گئی ہے ۔۔۔۔پریس کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔

کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو

کیونکہ موجودہ حالات میں مسلم لیگ نون تاحال زیر عتاب ہے اس کی قیادت پر مقدمے ہی گرفتاریاں ہیں مقدمات عدالتوں میں ہیں نام ای سی ایل میں ہے کی مرکزی رہنما جیل میں ہیں یا مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں ان کے گرد نیب کا گھیرا تنگ ہیں خود مسلم لیگ نون نے اقتدار سے باہر ہے خود میاں شہباز شریف اور ان کے بڑے بھائی میاں نواز شریف بیمار ہیں ہسپتالوں کے چکر لگا رہے ہیں پورے خاندان پر زبردست سیاسی دباؤ ہے سیاسی زبان بندی ہے اور نہ جانے کیا کیا دباؤ ہے اگر ان حالات میں وہ کھل کر کہ ہنس رہے ہیں تو پھر یہ کہنا تو بنتا ہے

کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو

دوسری طرف بعض دوستوں کا کہنا ہے
کہ میاں شہباز شریف اپنے غم چھپانے سے زیادہ پی ٹی آئی کی حکومت کی بدحواسیاں پر ہنس رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں