پریشانیوں میں بد حواسیاں

امیرمحمد خان
———
ہمیشہ سے 200 ماہرین
پریشانیوں میں بد حواسیاں
———-

میں نے پہلے بھی اپنی گزارشات میں لکھا تھا ، کروناء سے پیدا شدہ صورتحال میں اپنے ہوش و حواس کو قابو میں رکھنا ضروری ہے، یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح ہے کہ جب ملک کروناء وباء سے قبل ہی معاش کی ابتر صورتحال ، قرضوں، بے روزگاری میں مبتلاہو اس پر جان لیواء کرونا کا قہر ، وزیر اعظم عمران خان کا دل ہی جانتا ہوگا کہ مشکلات کسقدر ہیں ۔ حکومت کو دوسال ہونے چلے تھے دنیا بھر سے قرض جمع ہوچکا تھا امید کی کرن تھی کہ جس وزیر اعظم نے اقتدار سے قبل غیر ممالک سے لئے جانے والے قرضوں کو ملک کی معیشت کے لئے زہر قاتل اور حکومت کی نااہلی کہا ہو حکومت میں آنے کے بعد انہوں نے کتنی ابتر صورتحال دیکھی ہوگی کہ قرض بھی لیا، نہ صرف دوست ممالک سے قرض لیا بلکہ IMF سے قرض مشکل شرائط پر ، نہ صرف قرض معیشت کو چلانے کیلئے بلکہ بندے بھی انہیں کے لئے گئے اور اسد عمر جیسے ماہر معاشیات کو ایک طرف کردیا گیا۔ ہمارے حکمرانوں کی حکومت میں آنے سے قبل یقینا یہ خواہش ہوتی ہے کہ ملکی معاملات خاص طور پر ملک کی معاشیا ت کو درست کرینگے، تاکہ انکی حکومت عوام کی خواہشات کے مطابق چل سکے، جو

لوگ انتخابا ت سے قبل بھی انکے آس پاس رہنے والے یا جنہیں kitchen cabinet کہا جاتا ہے وہ انہیں تیس مار خان سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انکے یہ لوگ ہر مشکل پر قابو پا سکتے ہیں، 2013 ء میں جب میاں نواز شریف انتخابات کی طرف جارہے تھے پی پی پی کی ناکام حکومت کی وجہ سے منظر نامہ کہہ رہا تھا کہ اب حکومتی بادشاہت میاں نواز شریف کی مقد ر ہوگئی ہے قرعہ فعال انکے نام نکل رہا ہے انتخابات میٰں جانے سے قبل جدہ میں ان سے ملاقات ہوئی ، ملک کو درپیش مسائل پر ان سے بات ہوئی او ر معلوم کرنا چاہا کہ وہ بجلی، پی آئی اے، معیشت ، اسٹیل ملز، امن و امان پر کیا پالیسی بنارہے ہیں چونکہ حکومت میں آتے ہیں انہیں فوری حل کرنا ضروری ہوگا، میاں نواز شریف نہائت اعتماد میں کہاکہ ”خان صاحب ہمارے ماہرین کی ٹیمیں ہیں ، جنہوں نے تمام تر مسائل پر اپنی سفارشات اور پالیسیاں تیار کررکھی ہیں تاکہ حکومت میں آتے ہی ہم مسائل پر قابو پالیں انہوں نے کہ آپ بے فکر رہیں ہمارے پاس دوسوکے لگ بھگ ماہرین ہیں جو اسپر پہلے ہی مامور ہیں اور مشکلات پر قابو پالینگے۔ میاں نواز شریف حکومت میں آگئے ، دیگر معاملات کے علاوہ جن معاملات پر انہوں نے اپنے ”ماہرین“کا ذکر کیا تھا وہ نہ جانے کہاں چلے گئے تھے چونکہ اسوقت کے مطابق مشکلات جو ں کی توں تھیں۔ہمارے حکمرانوں یا یوں کہا جائے کہ انتخابات لڑنے کے خواہش مندوں نے نہ جانے کہاں سے یہ ”دو سو ماہرین“کی بات گرہ سے باندھی ہوئی ہے ،وزیر اعظم عمران خان نے بھی اقتدار میں آنے سے قبل ایسے ہی 200 ماہرین کی بات کی تھی ، فرق صرف اتنا ہے کہ میاں نواز شریف نے ملک کے اندر موجود انکے 200 پوشیدہ ماہرین کی بات کی تھی جبکہ وزیر اعظم عمرانخان نے کہا تھا کہ ان کے پاس 200اوورسیز پروفیشنل موجود ہیں جو اسٹیل مل، پی ٹی اے اور دوسری سرکاری کارپوریشنز کو کھڑا کر دیں گے۔ خیال یہی تھا کہ دنیا بھر میں پھیلے اوورسیز ڈاکٹرز میں سے کوئی مسیحا باہر سے مجرب نسخہ لے کر آئے گا اور ہمارا صحت کا نظام ٹھیک کر دے گا، اندازہ یہ تھا کہ یورپی یا امریکی تعلیم یافتہ کوئی ماہر تعلیم واپس پاکستان آئے گا اور ہمارے تعلیمی نظام میں وہ تبدیلیاں لائے گا کہ ہم یورپ اور امریکا جیسے گریجویٹ پیدا کرنے لگیں گے۔
توقع تھی کہ بیرونِ ملک کا پڑھا کوئی ماہر معیشت آ کر ہمارے معاشی دلدر دور کر دے گا۔ یہ بھی سوچا جا رہا تھا کہ تحریک انصاف عدالتی، سماجی اور انتظامی اصلاحات لائے گی مگر ہوا یوں کہ بیرون ملک سے معیشت کی درستگی میں IMF کے تجویز کردہ افراد آگئے جو نہائت فخر سے ہر کچھ دن بعد ہمیں باور کراتے ہیں کہ آئیندہ چند ماہ ، آئیندہ سال بے روزگاروں ں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا، جبکہ وزیر اعظم کا ویثرن کہتا ہے کہ ایک کروڑ نوکریاں فراہم کرینگے، آج پہلے سے موجود بے روزگاری کے ہوتے ہوئے دس ہزار افراد کو یکمشت اسٹیل ملز سے بے روزگار کرنے کی بات ہورہی ہے۔ کبھی لگتا ہے معصومیت ہے، کبھی لگتا ہے معاملات کا علم نہیں ہے، کبھی لگتا ہے سیاسی رسہ کشی ہے، کبھی لگتا ہے نہ جانے کیاایجندہ ہے؟؟ موجودہ وباء آنے سے پہلے روز سے ہی عوام کو اپنی افسوسناک معصومیت کی بناء پر ”گمراہ“کیا گیا، کہ یہ نزلہ ہے، اور اس بیانیہ میٰں ہر ماہ ہی تبدیلی آتی رہی، وائرس کے معاملے پر مشورہ یا معلومات ڈاکٹرز کے پاس سے زیادہ ہونگیں کسی مشیر، وزیر کا ان معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہئے تھا ، جب ڈاکٹرز نے وارننگ دی کہ فوری لاک ڈاؤں کیا جائے، انہیں حسب اختلاف کا ایجنٹ قرار دے دیکر فارغ بیٹھے مشیر وزیر ان ڈاکٹرز کے پیچھے پڑ گئے کہ ان مخلص ڈاکٹرز کو اپنی عزت بچا کر چپ بیٹھنا پڑا، آج تین ماہ گزرنے کے بعد جب ان ڈاکٹرز کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کیاجارہا ہے تو بہت دیر ہوچکی ہے اللہ ہمارا نگہبان ہو۔ اس دوران اس وباء سے مقابلہ کرنے کے بہانے کرپشن کا بازار بھی حکومتی حلقوں میں رہا، وزیر اعظم مشہور زمانہ ”نوٹس“ لیتے رہے۔ آج ہماری آنکھیں آنسو بہا بہا کر خشک ہوچلی ہیں سوشل میڈیا پر نوحہ خوانی ہورہی ہے۔موت ہمیں للکاررہی ہے۔ہماری لاپروائی۔ حکمرانوں کی بے بصیرتی سے پڑتے شگافوں کے ذریعے ہماری بستیوں میں داخل ہورہی ہے۔ ہمارے بزرگوں۔ جوانوں۔ ڈاکٹروں۔ پولیس افسروں۔ فوجیوں۔ ادیبوں۔ شاعروں کو اٹھاکر نامعلوم منزلوں کو لے جارہی ہے۔ کیا ہم کورونا کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔صورتحال بہت تشویشناک ہے۔ میرے ڈیڑھ لاکھ ہم وطن کورونا سے متاثر ہیں۔ صحت یاب صرف 40ہزار۔ بیمار زیادہ ہیں۔ ڈھائی ہزار بھائی بہنیں اپنے خاندانوں کو روتا ہوا چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ایسے میں یہ کون لوگ ہیں جو اپنی سیاسی لڑائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میڈیا یہ محاذ آرائی کیوں دکھارہا ہے۔ ایک ہلاکت خیز وبا کا مقابلہ کرتی جفاکش قوم کو حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ اس طرح تو فروری سے رات دن زندگی بچانے والے ڈاکٹروں نرسوں۔ میڈیکل اسٹاف کے حوصلے بہت پست ہوسکتے ہیں۔ اسپتالوں میں لڑی جانے والی پاکستان کی سا لمیت کی جنگ میں سرخروئی کے لیے اولیں ترجیح ملک میں خیر سگالی کی فضا کا قیام ہے تاکہ ہم سب یکسو ہوکر کورونا کی یلغار روک سکیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی صفوں میں کورونا گھسنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ قیمتی جانیں جارہی ہیں۔ ہمارے بھائی بہن سانس لینے میں مشکلات محسوس کررہے ہیں۔ آج کئی ممالک جو اس وباء کا شکارہیں وہاں سخت ترین سیاسی مخالفوں کو یا تو بھلادیا گیا ہے یا خاموشی اختیار کرلی گئی اور حکومتیں بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے حزب اختلاف سے بغل گیر ہے تاکہ مشترکہ طور پر ہاتھ میں ہاتھ ڈالکر اس وباء سے نمبردآزماء ہوسکیں۔۔ مگر ہمارے مشیروں وزیرون کو اس موقع پر بھی اللہ سے پناء مانگنے کے بجائے حزب اختلاف کا میڈیا ٹرائل کرنے سے فرصت نہیں۔ ایسی قیامت خیز وباء تو تقاضہ کرتی ہے کہ اندرونی معاملات پر عام معافی کی جائے، چونکہ احتسابی کاروائیاں تو ہمارے قانون کی وجہ سے جہاں بغیر کسی ثبوت کہ نیب کو اجازت ہے کہ جیل میں ڈال دو، احتسابی کاروائیاں طوالت کا شکار ہیں۔ کیا ہی بہتر ہو کہ ایسے سب اقدامات 3ماہ کے لیے سرد خانے میں ڈال دیے جائیں۔ نیب بھی 3ماہ تک اپنے گھوڑوں کو لگام دے۔ زیر سماعت مقدموں کے سب ملزمان کو گھر جانے دیں۔ جیلوں میں بھی ہجوم کم کریں۔ معمولی جرمانے نہ دے سکنے والوں کو عام معافی دے دی جائے۔ صرف سنگین مقدمات کے سزا یافتگان کو سلاخوں کے پیچھے رہنے دیں۔سوچئے کہ اس عام معافی سے ملک میں کتنی خوشگوار فضا پیدا ہوگی۔ کوئی اس ملک سے نہیں بھاگ رہا، جسے آپ نہیں چاہتے کہ ملک سے باہر جائے وہ چلا جاتا ہے، چاہے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف ہوں یا موجودہ حکومت کے موجد چینی، آٹا معاملات فیم جہانگیر ترین۔سب سے پہلے پیراگراف میں میں نے ذکر کیا تھا کہ نا تجربہ کاری میں پریشانی مزید مشکلات پیدا کرتی ہے۔ اگر پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد لاہور میں تین سابقہ انتخابات میں شکست سے دوچار ہوچکی ہیں تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ ان لاہورئیوں کو جاہل، پاکستان کے عوام کو جاہل کہہ دیا جائے۔ یہ تو انہوں نے حد کردی ہے ، ناکام شخص چاہے حکومت میٰں ہو یا حزب اختلاف میٰں اپنی ناکامیوں پر اکیلے بیٹھ کو عوام کو کوستا تو ہوگا مگر یہ نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کو محترمہ یاسمین راشد نے عوام کو جاہل کہہ کر تو حد ہی کردی، عوام کو توقع ہے وزیر اعظم سے یا تو محترمہ کو برطرف کریں یا یا محترمہ ٹیلی ویثر ن پا آکربغیر کسی آئے بائین شائین کہ صرف معافی مانگیں۔