حکومت سندھ 12 سال کے دوران 10 کھرب روپے کہاں خرچ کیئے?

شکیل خان صاحب آرٹس کونسل کے ممبر ہیں اور اکثر حکومت سندھ کی حمایت میں لمبی لمبی تحریریں لکھتے رہتے ہیں جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہاں سے انہیں لفافے کسی شکل میں ملتے رہتے ہیں۔لیکن ان کی تحریریں صحیح معلومات سے خالی ہوتی ہیں۔
اب ان کی حالیہ تحریر کو ہی دیکھ لیں جس میں وہ لکھتے ہیں کہ وزیر اعظم کراچی آئے اور وزیر اعلی سے

ملاقات نہیں کی۔ان کی بے علمی کا یہ حال ہے کہ انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ جب وزیر اعظم کسی صوبے میں جاتے ہیں تو اس صوبے کے وزیر اعلی پر فرض ہے کہ وہ ان کا استقبال ایرپورٹ پر کرے۔اگر وزیر اعلی ایرپورٹ نہیں جاتا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ رولز کی خلاف ورزی کر رہا ہے ایسے وزیر اعلی کو برطرف کر دینا چاہیئے۔۔۔۔لیکن افسوس یہ ہے کہ شکیل خان اتنے بے خبر ہے کہ انہیں رولز اور ریگولیشن ہی کا نہیں پتہ لیکن لمبی لمبی بے مقصد تحریریں لکھنے کا بہت شوق ہے۔ انہیں پتہ ہونا چاہیئے کہ سندھ کا وزیر اعلی پروٹوکول کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔جب وہ ایرپورٹ ہی نہیں گیا تو اس سے ملاقات ہی نہیں کی جا سکتی۔
شکیل خان جیسے بے خبروں کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ جب محترمہ بینظیر بھٹوپہلی دفعہ وزیر اعظم بننے کے بعد لاہور گئی تھیں تو نواز شریف نے ایرپورٹ پر ان کا استقبال نہیں کیا تھا جس پر محترمہ نے ان کے خلاف پریس بھی کانفرس کی اور ان سے ملاقات بھی نہیں کی جبکہ عمران خان نے یہ سب کچھ نہیں کیا۔
شکیل خان مسلسل اس پارٹی کی حمایت کر رہے ہیں جو گردن تک کرپشن میں پھنسی ہوئی ہے،لیکن شکیل خان مسلسل عمران خان پر تنقید کر کے ان ڈائریکٹ حکومت سندھ کی حمایت کر رہے ہیں کیوں؟۔کیونکہ حکومت سندھ سے آرٹس کونسل کو جو امداد ملتی ہے اس میں ان کا بھی حصہ ہوتا ہے حصہ بقدر جثہ۔۔۔۔۔
حکومت سندھ ہر سال صحت پر 125 ارب روپے بجٹ میں دکھاتی ہے۔یعنی 8 سال میں ساڑھے 5 کھرب روپے۔12 سال میں 10 کھرب روپے۔پہلے زرداری صاحب کے بہنوئی فضل اللہ پیچوہو سیکریٹری صحت تھے۔7 سال وہ ہیلتھ سیکریٹری رہے۔اس دوران وزیر صحت کی مجال نہیں تھی کہ ان سے کچھ کہہ سکے۔حتی کہ وزیر صحت سیکرٹری کے روم میں چل کر جاتے تھے۔پھر جب وہ ریٹائر ہوئے تو دوسرے ہی دن ان کی بیگم زردار کی بہن عذرا پیچوہو کو وزیر صحت بنا دیا گیا لیکن وہ بھی شاذ و نادر ہی آفس آتی ہیں بڑے بڑے معاملات مع لین دین کے وہی ڈیل کرتے ہیں باقی معاملات ان کے فرنٹ مین فہیم چاچڑ دیکھتے ہیں۔کام دھیلے کا نہیں کرتے بلکہ ہر وقت ٹرانسفر پوسٹنگ میں لگے رہتے ہیں کیونکہ اس کام کا معاوضہ کم از کم 5 لاکھ روپے ملتا ہے۔آج بھی محکمے کے تمام معاملات ان کے میاں چلا رہے ہیں جن کے فرنٹ مین ریحان بلوچ ہیں جبکہ ان کی بیگم کے فرنٹ مین فہیم چاچڑ ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ 12 سال سے دونوں میاں بیوی صحت کا سارا بجٹ کہاں خرچ کرتے رہے ہیں اس کا وہ حساب دے ہی نہیں سکتے بلکہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق زردار نے سب کو کہہ دیا کہ میری بہن بہنوئی بیشک مال بناتے رہیں لیکن کوئی بھی ان کی طرف دیکھے گا بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلی اور چیف سیکریٹری کی مجال نہیں ہے کہ ان سے کچھ پوچھ سکے۔پہلے خود زردار کی حکومت تھی تو میاں محکمہ صحت کو لوٹ رہے تھے۔پھر نواز شریف کی حکومت تھی جو مک مک پر چل رہی تھی۔میاں لوٹ مار کر رہے تھے لیکن دکھاوے کو شوباز شریف بیچ روڈ پر زردار کو گھسیٹنے اور پیٹ پھاڑنے کی دھمکی دیتے لیکن اندرون خانہ انہیں تسلی دیتے لیکن جب سے عمران خان آیا ہے واقعی کرپشن کا پیٹ پھاڑا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اب دکھاوے کے لیئے زبردستی پیسے خرچ کیئے جا رہے ہیں۔ پی آئی اے۔اسٹیل مل کا بیڑہ غرق پیپلز پارٹی نے کیا۔انہوں نے بغیر ضرورت کے سینکڑوں لوگ ایسے بھرتی کر لیئے جیسے یہ ان کے اجداد کا ادارہ ہو۔اگر انہیں لوگوں کو بھرتی کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو اومنی گروپ سے ان کو تنخواہ دلائیں۔۔۔۔اپنی جیب سے دیں لیکن ٹیکس پیئر کے پیسے سے ہڈ حراموں کو پالنے کا انہیں کوئی اخلاقی اور قانونی حق حاصل نہیں ہے ۔مثلا” اگر دنیا میں ایک جہاز پر 60 افراد کا عملہ کام کرتا ہے تو پی آئی اے میں 583 افراد کام کرتے ہیں۔اسی وجہ سے پی آئی اے ڈوب رہی ہے اور اسٹیل مل ڈوب چکا ہے۔اب اس کی نماز جنازہ پڑھنی رہ گئی ہے۔وہ گذشتہ 5 سال سے بند ہے۔اب آجائیے ان تینوں ہسپتالوں کا جائزہ لیتے ہیں۔گذشتہ 12 سال کے دوران جہاں 100 افراد کی گنجائش ہوتی ہے وہاں 1500 افراد بھرتی کر لیئے گئے ۔پھر ہر سال کے بجٹ کو ٹھکانے لگانے کا جواز پیش کرنے کے ہسپتال میں فری علاج کا ڈھونگ رچایا گیا۔ان سب باتوں کے باوجود حکومت سندھ 12 سال کے دوران 10 کھرب روپے کہاں خرچ کیئے اس کا وہ جواب دے ہی نہیں سکتے۔صرف ساڑھے 5 کھرب کا حساب مانگنے پر سعید غنی صاحب جواب دینے کے بجائے اے آر وائی نیوز کے اینکر کو گالم گلوچ پر اتر آئے۔-
M-Ali-karachi
————–
یہ ایک نقطہ نظر ہے اس موضوع پر مزید لکھنے والوں کی تحریروں کو خوش آمدید کہا جائے گا