پاکستان کی اشتہار ساز کمپنیاں کیا پیغام دے رہی ہیں؟ ایک فکر انگیز تحریر

اشتہار کاپیغام
طاہرہ فاروقی (روزنامہ جسارت)

کریم کی ٹیکسی کے اشتہار میں دلہن کو گھر سے بھاگتا ہوا دکھانے کی کوٸی محتاجی نہیں تھی۔کریم پاکستان میں جتنی کثیرالمستعمل ہے اس نے عام ٹیکسیوں اور رکشوں کی دال روٹی بھی مشکل کردی ہے!!!!
پیپسی اور کوک کے شائقین کو کئی دفعہ انڈین ویڈیوز دکھائی گئیں جن میں اس کولڈ ڈرنک سے واش روم صاف ہورہے ہیں اور ہوٹل والےمچھر مکھی بھی اس سے مار رہے ہیں۔مگر ان لوگوں کے استعمال میں کمی نہی آٸی!!
پھر کیا ان کمپنیوں کو اپنی سیل بڑھانے کے لیے ایک غیر قانونی جوڑے کودیدہ دلیری کے ساتھ پراٸی محفل میں گھس کر زبردستی بوتل پہ ہاتھ صاف کرتے ہوے دکھانا پڑ گیا تھا؟؟؟
اس وقت ٹپال چاۓ کے سوا کوٸی اور چاۓ پاکستان میں بزنس نہیں کررہی ہے جو اسے اپنی سیل بڑھانےکےلیے لڑکوں کو پڑوسیوں کی دیوار پھاندنے کاراستہ دکھانے یا دیوانہ وار اچھل کود کرنے والے اشتہاروں کی ضرورت پڑے۔
دراصل ان شتہاروں کے ذریعے مصنوعات نہیں بلکہ تصورات بیچے جارہے ہیں!!!!!!
معاملات اور معمولات بیچے جارہے ہیں!!!!!
آئیڈیاز دیےجا رہے ہیں اور ٹرینڈ سیٹ کیے جارہے ہیں!!!!!
پیغامات ارسال کیے جارہے ہیں،،،، خفیہ پیغامات جو صرف بھیجنے والوں کو پتہ ہوتے ہیں۔ یا اس کے مددگاروں کو پتہ ہوتے ہیں۔ وصول کرنے والوں اور اسکا نشانہ بننے والوں کو بھی ان پیغامات کی گہراٸی اور اثر پذیری کا اندازہ نہیں ہوتا۔۔۔
جب ”روشن خیال“ والدین بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی پر ہر طرح کے پروگرام دیکھ رہے ہوتے ہیں انھیں اندازہ ہی نہی ہوتا کہ ان پروگرامز سے انکے بچے کون کون سے آئیڈیاز وصول کررہے ہیں اور آگے چل کر کسطرح انھیں سر پہ ہاتھ رکھ کے رونا ہو گا۔۔۔
خوشیوں کے بھرے گھر سے خوشیوں کے پھول نوچ کر اور جان نثار والدین کے سر سے عزت کی چادر کھینچ کر جب لڑکی چپکے سے کریم ٹیکسی میں بیٹھ کر فرار ہوگی تب کون اس گھر کے دکھ سمیٹنے آۓ گا؟؟

الٹا یہ ظالم میڈیا دلخراش سوالات کےنشتروں سے الگ کلیجہ چھلنی کر رہا ہوگا !!!!!
جب بسوں کے انتظار اور رکشوں کے کرایوں سے بچ کر ایک لڑکی” بائیکیا “ کے ہتھے چڑھ جاۓ گی تو اسے کوٸی بچانے نہیں آۓ گا بلکہ یہ تو ہماری موم بتی مافیا کے لیے ترنوالہ ہے اب ”مظلوم کارڈ“ لہرایا جاۓ گا۔کیونکہ”چیخنے“ کا آئیڈیا تو اسکے بعد ہی کارآمد ہوگا۔۔۔
یہ تنخواہ دار ”آنٹیاں “جو ”برباد شدہ عورت“ کی بہت ”قدردان“ ہیں۔بھوکی بلیوں کی طرح ان کی طرف لپکتی ہیں کیونکہ یہی ” بے سمت اور لاوارث عورت“ہی توانکا”چارہ“ ہے۔اب اسکو روتا پیٹتا دکھایا جاۓ گا اور معاشرے میں رول ماڈل بنانے کا کام شروع ہوگا۔ اس چکر میں اسکو مختلف ”ہاتھوں“ اور ”اداروں“ سےگزارا جاۓ گا اور بالآخر یا تو وہ مایوس ہو کر خود کشی کرلے گی یا پھر اس کو قتل کرواکے ”ڈبل مظلوم“ ۔۔ایک چٹ پٹا موضوع کچھ عرصہ ”جگالی“ کرنے کے لیے میڈیا کے ہاتھ آجاۓ گا۔اور اس سے ممکنہ فوائد حاصل کرنے کی بھی کوشش کی جاۓگی۔۔۔۔ !
اسی طرح کولڈ ڈرنک کو لیجیے۔
پیارے نبیﷺ کےفرمان کے مطابق کسی کی دعوت میں بغیر بلاۓ جانے والا ڈاکو ہے ۔کہ ڈاکو بھی زبردستی گھر میں گھس کر دوسرے کی محنت کی کماٸی پر تصرف حاصل کرتا ہے۔۔۔۔ اس تربیت کے حامل معاشرے کو بےغیرتی اور لوٹ کھسوٹ کاپیغام دے رہے ہیں۔
ذرا سوچیےکہ اگراس کولڈ ڈرنک کمپنی کے مالک کے گھر کی تقریب میں بھی ایسےسو(100) آوارہ جوڑے آکر ناچنے کودنے اور کھانے پینے لگیں تو کیا یہ خوداس چیزکو برداشت کر لینگے؟
جی نہیں! ہرگز نہیں!!!
یہ سب پیغامات اس جاہل معاشرے کےکم تعلیم یافتہ متوسط اورنچلے طبقے کے لیے ہیں کیونکہ یہی تو میدان ہے انکے کھیلنے کا۔۔۔ کیونکہ یہیں تو اقدار کی حفاظت ہوتی ہے۔ اس لیے ان ہی کو تو پریشان اور غیر مطمئن کرنا ہے۔ چونکہ اسی طبقے میں آبادی زیادہ ہوتی ہے ، اسی میں جوھرِ قابل پیدا ہوتا ہے۔ متمول طبقے میں تو کرنے کے دوسرے کام ہیں یہ پھندا تو اس ملک کی غالب آبادی ہی کے لیے ہے۔ کاش ہم تفریح کی میٹھی گولی میں لپٹے اس زہر کو پہچان سکیں۔اوراس سےاپنی قوم کو بچا سکیں۔



اپنا تبصرہ بھیجیں