اور طارق عزیز بھی چلے گئے

اور طارق عزیز بھی چلے گئے…لگتا ہے ہر دن موت کے سورج کے ساتھ طلوع ہو رہا ہے لیکن آج جس شخص کی موت کی خبر موصول ہوئ ہے وہ دلوں میں بسنے کے ہُنر سے واقف تھا…جب ایک بڑے سے ہال میں کھڑا ہو


کر اپنی بھاری اور خوبصورت آواز میں کہتا تھا”دیکھتی آنکھوں سُنتے کانوں کو میرا سلام” تو اس آواز کی جانب کوئ بھی متوجہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا…اپنے بچپن سے اُن کو دیکھا اور ہمیشہ اُن کے سحر میں مبتلا رہی کہ یہ شخص کتنا اچھا بولتا ہے اس کے پاس کس قدر معلومات کا ذخیرہ ہے اور اس کا شعری ذوق تو غضب کا ہے…نیلام گھر اُن کا ایسا پروگرام جس کے ساتھ ہم سب کی یادیں جُڑی ہوئ ہیں…نیلام گھر اور طارق عزیز لازم و ملزوم تھے،بڑھتی ہوئ عمر کے باوجود وہ نیلام گھر جس جذبے اور جوش سے کرتے تھے وہ مجھے ہمیشہ ہی متاثر کرتا تھا۔
اور آج یہ خبر آئ کہ وہ نہیں رہے…لوگ تو سچ مچ خشک پتوں کی طرح اُڑ رہے ہیں لیکن کسی ایسے ہر دلعزیز شخص کا رخصت ہونا دل کو اندر تک ویران کر دیتا ہے۔
خدا حافظ طارق عزیز مجھے ہمیشہ یاد رہیں گے آپ…..❤️

ساجد چوہدری ( اسلام آباد )