جدہ کی ڈائری۔ امیرم محمد خان

جدہ کی ڈائری۔ امیرم محمد خان
پاکستان مسلم لیگ کے نائب صدر شیخ سعید کا ظہرانہ

گزشتہ دنوں پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی چوہدری نور الحسن تنویر نے سعودی عرب اور دنیا کے بیشتر ممالک میں موجود مسلم لیگی اراکین سے ایک آن لائین کانفرنس کی جسکااہتمام صدر مسلم لیگ سعودی عرب رانا خالد اور انکے ساتھیوں نے سعودی عرب سے کیا۔ چوہدری نور الحسن تنویر ریاض میں رہ چکے ہیں جب وہ یہاں تھے اسوقت حالات بھی کچھ اور تھے مسلم لیگ میں پاکستانیوں کی اکثریت تھی ، بعد میٰں ناگزیر وجوہات کی بناء کچھ لوگ سرگرم نہ رہے۔ یا کچھ آپس کی ناراضگیاں بھی ہونگی۔ چوہدری نور الحسن نے اس کانفرنس میں ان لوگوں کا ذکر کیا۔اور خواہش ظاہر کی کہ انہیں منا کر دوبارہ اکھٹا کیا جائے ، وہ سب اکھٹے تو نہ ہوسکے بلکہ جن مسلم لیگیوں کو چوہدری تنویر ڈھونڈ رہے تھے انہوں نے ایک اجلاس کا انعقاد کیا ، مسلم لیگ کے صدر رانا خالد وہاں نظر نہیں آئے اس سے علم ہوا کہ سیاسی جماعتوں میں جو روائیتی نارضگیاں یا گروہ بندیاں ہوتی ہیں وہ ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے سئینیر نائب صدر شیخ سعید احمد کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میٰں ریاض کے سرگرم افراد نے شرکت کی ۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد سفیر پاکستان کے خلاف ہونے والے سوشل میڈیا پروپگنڈہ کی مذمت کرنا تھا تقریب میں خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ حکومت پاکستان کو چاہئیے کہ وہ سعودی عرب کے لئے فلائٹس کی تعداد کو مزید بڑھائے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد وطن واپس لوٹ سکیں۔ اجلاس میں لیگی عہدیداروں نے کہا کہ سفارت خانہ پاکستان کے خلاف بے بنیاد اور حقائق کے منافی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے سفارت خانہ اپنے محدود وسائل کو بروکار لاکر کیمونٹی کی خدمت کر رہا ہے تاہم حکومت پاکستان کا فرض بنتا یے کہ وہ سعودی عرب کے لئے فلائٹس کو بڑھائے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد وطن واپس لوٹ سکیں اور ایسے وہ تمام افراد جو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر دیار غیر میں سفارت خانہ پاکستان کی آڑ میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں انہیں چاہئیے کہ وہ اس پروپگنڈے سے باز رہیں کیونکہ حالات نارمل نہیں ہیں اور ہمیں پاک سعودی ملکی تعلقات اور دونوں ممالک کے عوامی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ تقریب سے شیخ سعید ، فریاد چوہدری، محمود احمد باجوہ، عدنان بٹ، مخدوم امین تاجر، وقار نسیم وامق نے خطاب کرتے ہوئے سفیر پاکستان کے خلاف مہم کی مذمت کی، سفیر پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کا جواب سوشل میڈی کے ذریعے جواب دینے سے بہتر ہے کہ سفیر راجہ علی اعجاز پاکستان کی قومی اخبارات میں خبروں پر توجہ دیں مگر نہ جانے کیوں سفیر پاکستان سوشل میڈیا کا جواب شائد سوشل میڈی سے دینے کے خواہش مند ہیں۔

کروناء وائرس کے دوران خواتین کی ذمہ داریاں
سعودی عرب میں کورونا وائرس سے تبدیل ہوتی صورت حال کے دوران عورت کے مثالی کردار کے حوالے سے پاکستان رائٹر کلب لیڈی
چیپٹر کی جانب سے آن لائن کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مختلف شعبہ ہائے سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے شرکت کی اور عورت کے کردار کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا اس موقعہ پر مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ صنف نازک کہلانے والی عورت نے یر دور میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے آج بھی کورونا وائرس کے دوران اور اس سے تبدیل ہوتی صورتحال سے جہاں پوری دنیا کے معاملات تبدیل ہوئے ہیں اسی طرح ان حالات میں دنیا بھر کہ عورتوں کی ذمے داری میں اضافہ ہوا ہے، لاک ڈاؤن اور کرفیو سے عورتوں کے گھریلو ماحول میں تبدیلی آئی ہے جس سے عورتوں نے اپنی ذمے داری کو قبول کیا ہے اور حالات کا مقابلہ کر رہی ہیں، عورتوں کا کام اب چوبیس گھنٹوں پر محیط ہوچکا ہے ہمارے معاشرے میں جہاں عورت پہلے ہی مسائل سے دوچار تھی اب اسکے مسائل میں بھی اضافہ ہوا ہے مگر خواتین نے موجودہ حالات کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا یے اور وہ مردانہ وار اپنی کارکردگی کے بل بوتے پر آگے بڑھ رہی ہیں بلکے ایسی بھی خواتین ہیں جو ورکنگ لیڈیز کے طور پر معاشرے کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں کام کر رہی ہیں ان کے کندھوں پر دوہری زمے داری عائد ہوچکی یے ہماری ایسی وہ فی میل ڈاکٹرز اور نرسز جو دن رات فرنٹ لائن ہر کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں ان کے حوصلے کی داد دئیے بغیر نہیں رہا جاسکتا، ایسی تمام خواتین معاشرے کو ایک نئی سمت اور ایک نئی سوچ دے رہی ہیں کہ عورت صنف نازک ہونے کے ساتھ ساتھ گھریلو معاملات سے لیکر معاشرے کو درپیش مشکل وقت میں بھی اپنا کردار ادا کرکے سدھار لا سکتی ہیں آج کورونا وائرس کی وجہ سے زیادہ تر ذمے داریاں گھریلو خواتین کے کندھوں ہر عائد ہیں جو اپنے بچوں سمیت دیگر اہل خانہ کو کورونا وائرس سے بچاو اور ان کی دیکھ بحال میں اپنا وقت صرف کر رہی ہیں اس دوران ضروری ہے کہ اہل خانہ کی جانب سے خواتین کو سراہا جاے تاکہ انکی حوصلہ افزائی ہوسکے اور ان میں مزید آگے بڑھنے کی جستجو پیدا ہو، کورونا وائرس سے جو حالات تبدیل ہوئے ہیں ان سے کچھ مثبت تبدیلیاں بھی رونما ہوئی ہیں اس تیز رفتار دور میں اہل خانہ کے درمیان ایک ایسی خلیج حائل ہوچکی تھی جو اب ایک ساتھ رہنے سے کم ہونا شروع ہوئی ہے جہاں میاں بیوی ایک سمجھ رہے ہیں وہیں بچے بھی والدین کے قریب آ رہے ہیں اور ایک دوستانہ ماحول بن رہا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل رہ کر درگزر کرنے کا حوصلہ اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقعہ بھی مل رہا ہے وبا تو یقینا جلد ختم ہو جاے گی مگر یہ سنہری پل ہمیشہ آئندہ زندگی میں آنے والے سالوں میں ہماری رہنمائی کریں گے جو اس دوران ہم سیکھ چکے ہیں،آن لائن کانفرنس سے ماہر ڈاکٹرز نے کہا کہ وہ جذبہ انسانیت کے تحت کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن میں کھڑے ہیں کورونا وائرس کے حوالے سے ابھی تک کوئی ویکسین تیار نہیں ہوئی اس لئے ضروری ہے کہ اس وبا سے بچنے کی جو احتیاطی تدابیر واضع کی گئی ہیں ان پر عمل کیا جائے، کورونا وائرس ایک ایسی حقیقت ہے جس کو جھٹلانا ایک سنگین غلطی ہے اور ایسی ہی غلطی کے مرتکب ہونے والے افراد کورونا وائرس کے پھیلاو کا موجب بن رہے ہیں انہیں چاہئیے کہ حکومتی اقدامات یا سختی سے بالاتر ہو ایک اپنی ذمے داری کو سمجھیں جس سے وہ اپنی جان کو بھی بچاہیں گے اور دوسروں جو بھی محفوظ کریں گے، کورونا وائرس سے بچاو کے لئے سماجی فاصلہ، چہرے پر ماسک، دن میں کئی بار ہاتھوں اور منہ جو دھونا بنیادی تدابیر ہیں، اس کے علاوہ کورونا وائرس سانس کے ذریعے منتقل ہوتی ہے اور متاثرہ شخص سے ہاتھ ملانے سے یہ بیماری پھیلتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ احتیاط برتی جائے، آن لائن کانفرنس سے پاکستان رائٹر کلب کے صدر فیاض ملک، کنونیئر ڈاکٹر فرح نادیہ، مدیحہ نعمان، ڈاکٹر نعمان، ڈاکٹر طاہرہ، ڈاکٹر نخمہ ریحان، خورشید حیدر، طاہرہ کاشف،
الماس، قندیل سمیت دیگر نے خطاب کیا جبکہ نظامت کے فرائض مدیحہ ملک نے سرانجام دئیے