مرد کو بھی درد ہوتا ہے

صائمہ خان، اینکر پرسن دور درشن، دہلی
——–


بھارتی فلم انڈسٹری کے کم عمر اور خوبرو نوجوان اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کی خبر نے سبھی کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ایک چمکتا ہوا ستارہ اچانک ٹوٹ گیا۔ اپنی فلموں کے ذریعہ زندگی کی مشکلوں کے آگے کبھی ہار نہ ماننے کی سیکھ دینے والا یہ اداکار اپنی زندگی سے اتنا مایوس ہو گیا کہ یکایک جان کی بازی ہی ہار بیٹھا۔ ایک چھوٹے سے شہر سے آئے سوشانت نے اتنے مختصر عرصے اور کم عمر میں جو کامیابی حاصل کی اسے سنبھالنا آسان نہیں تھا۔

کامیابی سے سرشار ہونے اور شہرت پر گھمنڈ کرنے میں بڑا باریک فرق ہوتا ہے لیکن سوشانت اس محاذ پر بھی سرخرو ہوئے۔ ان کی بول چال اور انٹرویو دینے کے انداز سے کبھی ایسا نہیں لگا کہ ان میں شہرت حاصل کر چکے اداکاروں جیسا کوئی تکبر آ گیا ہو، بلکہ وہ ہر جگہ مسکراتے اور کئی دفعہ تو شرماتے بھی نظر آئے۔ خودکشی کرنے سے پہلے انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے ظاہر ہوتا کہ ان کے اندر کوئی تلاطم برپا ہے۔ تو پھر آخر ہوا کیا کہ یوں ’اچانک اٹھے اور جانے لگے‘ کے حالات بن گئے؟

یہ وہ سوال ہے جو ان کے چاہنے والوں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔ سب کو حیرانی ہے کہ اتنی کم عمر میں جس لڑکے کو نام و نمود، شہرت، دولت اور عزت سب کچھ مل گیا ہو اس نے اتنا سنگین قدم کیوں اٹھا لیا؟ بہر کیف حقیقت یہی ہے کہ سوشانت اب اس دنیا کو خیرباد کہہ کر جا چکے ہیں۔ البتہ انہوں نے جانے کا جو ڈھنگ چنا اس کی وجہ سے وہ اپنے پیچھے ایک لمبی بحث بھی چھوڑ گئے ہیں۔ بہت سے سوال ہیں جیسے آخر انسان پر وہ کون سے حالات گزرتے ہیں کہ وہ ان کے دباؤ میں آکر اپنی ہی زندگی کو ختم کر لیتا ہے۔

نفسیات کی اصطلاح میں اس حالت کو ڈپریشن کہا جاتا ہے۔ سوشانت کے کمرے سے ملا سامان بھی ظاہر کرتا ہے کہ سوشانت ڈپریشن کا علاج کروا رہے تھے۔ جو شخص بظاہر ہر نعمت سے مالا مال تھا درحقیقت وہ اپنی زندگی میں سکون تلاش کر رہا تھا۔ ذہن میں سوال سر اٹھاتا ہے کہ وہ کون سی بات تھی جس نے سوشانت کو اتنا مایوس اور نا امید کر دیا تھا؟ ان کے گھروالوں، رشتے داروں، ان کے ساتھ کام کرنے والوں حتی کہ ان کے دوستوں تک کو ان کی خودکشی کی وجہ سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔ سب حیران ہیں کہ ایسی کون سی پریشانی تھی جس کی اذیت وہ اندر اندر ہی سہتے رہے؟

کیا ہمارے سماج میں ایک مرد کا حالات کے آگے کمزور پڑنا اور اپنی پریشانی ظاہر کرنا اتنا برا سمجھا جاتا ہے کہ اس کے پاس موت کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا؟ معاف کیجئے گا میں اسی سماج کی بات کر رہی ہوں جہاں کسی مصیبت میں کمزور پڑتے مرد کو نامرد کہہ دیا جاتا ہے۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مرد بھی انسان ہے، اس کے بھی جذبات ہوتے ہیں، اس کا بھی دل ہوتا ہے اور اس کے بھی احساسات ہوتے ہیں۔ مردوں کو بھی کسی بات سے تکلیف پہنچتی ہوگی، وہ بھی کبھی ٹوٹنے لگتا ہوگا، جذباتی طور پر وہ بھی بکھرتا ہوگا، اور جب ایسے حالات گزرتے ہوں گے تو فطری بات ہے کہ مرد بھی کوئی اپنا ڈھونڈھتے ہوں گے جس کے کاندھے پر سر رکھ کر رو لیں یا اپنے دل کا حال کہہ سکیں۔

ایک مرد چاہے جتنا طاقتور کیوں نہ ہو اس کی زندگی میں ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب وہ خود کو بے بس اور کمزور محسوس کرتا ہے۔ ہاں، ان لمحات میں نہ تو وہ کھل کر رو سکتا ہے، نہ ہی آنسو بہا سکتا اور نہ ہی اپنا درد اپنی تکلیف کسی کو دکھا سکتا ہے۔ وہ تو بس مرد ہونے کے ناتے کی جانے والی سماجی توقعات کے بوجھ میں گھٹ کر رہ جاتا ہے۔ کئی بار شاید یوں بھی ہوتا ہو کہ مرد کو یہ اندیشہ ہوتا ہو کہ اگر اس کی جذباتی کمزوری ظاہر ہوئی تو اسے جنم سے حاصل برتری کا تاج چھن نہ جائے۔ اسے یہ خوف مار جاتا ہوگا کہ اگر کسی خاتون یا دیگر لوگوں نے اسے جذباتی طور پر بکھرتے ہوئے پایا تو اس پر حاوی ہونے کی کوشش بھی کریں گے اور الٹے سیدھے طعنے الگ ملیں گے۔

ہمارے سماج میں مرد کا تصور ہی دراصل ایک سخت اور مضبوط انسان سے عبارت ہے۔ ایسا انسان جسے ہر طرح کے فیصلے لینے کا اختیار حاصل ہے۔ مرد کا یہ سماجی تصور بچپن سے ہی اس کے دل و دماغ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اسے سمجھایا جاتا ہے کہ تم ہی بڑے ہو، تمہیں ہی تمام ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اسے اپنی زندگی جیسے چاہے جینے کا پورا حق ہوتا ہے، وہ جو چاہے فیصلہ کر سکتا ہے اور اس کے فیصلے حتمی ہوتے ہیں۔ ایسے میں اس میں یہ احساس پروان چڑھتا ہے کہ اب مجھے کسی حال میں کمزور نہیں پڑنا ہے۔ طاقت ور بنے رہنے کی یہی پابندی مرد کو اندر ہی اندر کمزور بنا دیتی ہے۔ آخرکار سوشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کرکے بھی تو یہی پیغام دیا ہے کہ ’مرد کو بھی درد ہوتا ہے‘ ۔