اوپن مارکیٹ میں ڈالر 30 پیسے مہنگا ہوگیا

یکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر 165 روپے سے بڑھ کر 165.30 روپے ہوگیا۔

خیال رہے کہ ایک سال کے دوران صرف لاک ڈاون کے عرصے میں ڈالرکی قیمت میں 10 روپےتک اضافہ ہوا اور اس کی قیمت ملکی تاریخ کی بلندترین سطح 169 روپے تک پہنچ گئی تھی۔

الی سال2019-20 کا بجٹ پیش ہوا تو ڈالرکی قیمت انٹربینک مارکیٹ میں 158 روپےاور اوپن مارکیٹ میں 159 روپے پرٹریڈ کررہی تھی۔دسمبر2019 تک ڈالرکی قیمت 155 اور158 کےدرمیان ٹریڈ کرتی رہی لیکن رواں برس مارچ کا مہینہ پاکستانی معیشت اور قرضوں کے بوجھ کےحوالے سے بھاری رہا۔ 23 مارچ کوکورونا وبا سے بچاؤ کیلئےلاک ڈاؤن کیا گیا جس کےنتیجےمیں ہاٹ منی جسکی مجموعی مالیت 3 ارب کےقریب ہے، اس کا مقامی مارکیٹوں سے انخلا ہوگیا۔

جنرل سیکرٹری آل پاکستان کرنسی ڈیلرزایسوسی ایشن ظفرپراچہ نے ہم نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ڈالر کی قیمت میں عارضی اضافے نے ملکی معیشت کوہلاکررکھ دیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال اپریل کےمہینےمیں ڈالر163، مئی میں 161 اور جون میں 165 روپے کی سطح کو چھوکراب 164.25 روپے کی سطح پرٹریڈ کررہا ہے

ہاٹ منی کے انخلا کا براہ راست اثرڈالرکی قیمت پرپڑا اورصرف 4 روزمیں ڈالر10 روپےتک مہنگا ہو کرملکی تاریخی کی بلند ترین سطح 169 روپے تک چلا گیا۔

دریں اثناء صرافہ بازار میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 600 روپے اضافے کے بعد 9،8700 روپے فی تولہ ہوگئی۔

صرافہ مارکیٹ ذرائع کے مطابق 10گرام سونے کی قیمت 515 روپے اضافے کے بعد 84619 روپے ہوگئی

Courtesy Hum news