جسٹس قاضی فائز عدالت میں پیش اور پیشکش

جسٹس قاضی فائز عدالت میں پیش اور پیشکش
جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ ان کی اہلیہ ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کر عدالت کو بیرون ملک جائیداد خریدنے کی تفصیل بتانے کو تیار ہیں۔ وفاقی حکومت نے پیشکش قبول کرلی۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

بدھ کی صبح سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک میں اس وقت ڈرامائی صورتحال پیدا ہوئی جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔ وہ عدالت میں ججز کے سامنے وکلا کے ساتھ نشست پر بیٹھے۔ سماعت کے آغاز پر انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوکر بیرون ملک جائیدادوں کے خریدنے کی تفصیل دینا چاہتی ہیں، یہ مقدمہ ایک جج کا نہیں بلکہ پوری عدلیہ کا ہے۔

وفاقی حکومت کے وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ ان کو یہ پیشکش قبول ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنی بات کا آغاز قرآن کی آیت سے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک قرآن کی آیت ہے الزام تراشی موت سے بدتر ہے، اس قرآنی آیت کی اب سمجھ آئی، یہ مقدمہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نہیں بلکہ عدلیہ کا ہے، یہ عدلیہ کیلئے ایک مشکل ترین وقت ہے۔

وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ انہوں نے جج صاحب یا ان کی اہلیہ پر طنز یا الزام تراشی نہیں کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کو میں اپنی بہن مانتا ہوں۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے جسٹس قاضی فائز سے کہا کہ حکومتی وکیل کے پاس آج آخری دن ہے ان کو دلائل مکمل کرنے دیں۔ اگر آپ نے کوئی بات کرنی ہے تو تحریری صورت میں پیش کریں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وقفہ کرتے ہیں اور ہم پانچ منٹ بعد دوبارہ آتے ہیں۔

وقفے کے بعد بینچ کے سربراہ نے کہا کہ جج صاحب کے بیان پر غور کیا ہے، جج صاحب نے اہلیہ کی جانب سے بیان دیا، اہلیہ کا بیان بڑا اہم ہوگا، تاہم ہماری ان سے درخواست ہے کہ وہ تحریری جواب داخل کر کے موقف دیں، تحریری جواب آنے کے بعد مقدمے کو سماعت کیلئے مقرر کیا جائے گا۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ میری اہلیہ وکیل نہیں ہیں، ان کو کو کسی وکیل کی معاونت نہیں ہوگی، اہلیہ کہتی ہیں اکاونٹ بتانے پر حکومت اس میں پیسہ ڈال کر نیا ریفرنس نہ بنا دے، اہلیہ تحریری جواب جمع کرانے کی پوزیشن میں نہیں، اہلیہ کا موقف سن کر جتنے مرضی سوال کریں، انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہئے، میری اہلیہ کو ریفرنس کی وجہ سے بہت کچھ جھیلنا پڑا ہے، اہلیہ کو عدالت کے سامنے موقف دینے کی اجازت ہونی چاہیے، اپنی اہلیہ کا وکیل نہیں ان کا پیغام لے کر آیا ہوں۔

جسٹس عمر عطا نے جسٹس قاضی فائز کو مخاطب کر کے کہا کہ دیکھیں جج صاحب۔

جسٹس فائز نے جواب میں کہا کہ میں یہاں جج نہیں درخواست گزار ہوں۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ہم آپ کی پیش کش پر مناسب حکم جاری کریں گے، اہلیہ کا پیغام ہم نے سن لیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ میری اہلیہ کی استدعا کو تبدیل نہ کریں، جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ہم اہلیہ کی زبانی موقف دینے کی پیش کش پر غور کریں گے۔

جسٹس فائز نے کہا کہ میں منافق نہیں ہوں۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کا قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے آواز رندھ گئی۔

قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دیتے وقت جسٹس قاضی فائز عیسی جذباتی ہوگئے، انہوں نے کہا کہ میری ایک استدعا ہے، اہلیہ کی جانب سے ویڈیو لنک کے زریعے پیش ہوکر تفصیل بتانا الگ معاملہ ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ صدارتی ریفرنس میں بدنیتی اور جاسوسی سے متعلق اپنے مقدمے پر کھڑا رہوں گا، ریفرنس کے خلاف اپنے آئینی مقدمے پر قائم ہوں، وزراء پریس کانفرنسوں میں زیر سماعت مقدمے پر بات کررہے ہیں، سپریم کورٹ میں یہ بات کہی گئی کہ ایف بی آر نے ہاتھ کھڑے کردیے، عدالت میں کہا گیا جج کی اہلیہ کے خلاف ایف بی آر کیسے کارروائی کرے گا۔

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ آپ مفروضے پر بات نہ کریں، جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ یہ مفروضہ نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی کہی ہوئی بات ہے، وفاقی حکومت نے بھی مفروضے پر مشتمل بات کی۔

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ہم ججز ٹیکس پیئر ہیں، ایف بی آر ججز کو نوٹس جاری کر سکتا ہے، جج صاحب آپ کا بڑا احترام ہے ہم اپنے نرم رویے کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ میری اہلیہ اور بیوی بچوں پر جائیداد بنانے کا الزام عائد کیا گیا، یہ کہا گیا بتادیں جائیدادیں کیسے خریدی گئیں، جائیدادوں کی حقیقت سے کبھی انکار نہیں کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں کہا مجھے علم ہے جائیدادیں اہلیہ اور بچوں کی ہیں اور ان کے جج بننے سے قبل کی ہیں، علم ہے ٹرسٹ کے ذریعے جائیدادوں کی ملکیت چھپائی جاتی ہے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ میں نے، اہلیہ اور بچوں نے میڈیا پر آکر کوئی بات نہیں کہی۔

سربراہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ شہزاد اکبر نے گزشتہ روز بھی ٹی وی چینل پر بیٹھ کر زیر سماعت مقدمے پر بات کی، کیا بطور انسان اور بطور پاکستانی میرے حقوق نہیں ہیں، سابقہ اٹارنی جنرل کہتے رہے مجھ پر مقدمہ ثابت ہوگیا، میرے خلاف ایک بھاری دستاویزات پر مشتمل جواب الجواب دائر کیا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ان کی اہلیہ پر طنز کیا گیا کہ سلائی مشین چلا کر کمائی گئی، میری اہلیہ کے بارے میں کہا گیا سلائی مشین چلا کر چھ ملین پاؤنڈ کمائے گئے۔

جسٹس عمر عطا نے کہا کہ آپ برا مان گئے ہیں، میں نے تو ایک مثال دی تھی، اسی مثال کو حکومتی وکیل نے آگے بڑھایا، ہمارے دل میں آپ کیلئے بڑا احترام ہے، آپ جو باتیں کہہ رہے ہیں وہ موثر انداز میں وکیل کے ذریعے کہہ سکتے ہیں، آپ جذباتی ہو رہے ہیں، ناراض نہ ہوں، جسٹس قاضی نے کہا کہمجھ پر الزام لگایا گیا کہ دس رکنی بنچ میں سے ایک یا دو ججز نے میری درخواست ڈرافٹ کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ سپریم کورٹ ایسا کہنے پر توہین عدالت کا نوٹس کیوں جاری نہیں کیا؟

آپ اس بات کو چھوڑ دیں، جسٹس عمر عطا بندیال

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے مجھے طلب کرکے کیوں نہیں پوچھا، میری اہلیہ دو مرتبہ ایف بی آر کے دفتر گئیں، اہلیہ سرکاری سکواڈ اور سرکاری گاڑی کے بغیر ایف بی آر کے دفتر گئیں، اہلیہ نے ایف بی آر سے پوچھا غیر ملکی جائیدادوں سے متعلق کیوں نہیں پوچھا گیا، ایف بی آر نے میری اہلیہ سے تضحیک آمیز رویہ اپنایا۔ میں نے اہلیہ سے کہا کہ ٹیکس ادا کرنے والون کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ یہ مقدمہ ایک جج کا نہیں بلکہ عدلیہ کا ہے۔

سرکاری وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ میرا جسٹس قاضی فائز عیسی کے ساتھ ذاتی عناد نہیں ہے، جسٹس قاضی فائز عیسی میرے بڑے ہیں۔

وفاقی حکومت کے وکیل فروغ نسیم کے دلائل جاری ہیں۔
jehanzaib-abbasi-pakistan24.tv-report