اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران 377 پوائنٹس کا اضافہ

کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بدھ کو اسٹاک مارکیٹ کا آغاز مثبت زون میں ہوا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس کاروبار کے آغاز پر 34 ہزار 19 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا۔

کاروبار کے دوران انڈیکس مثبت زون میں ہی ٹریڈ کرتا نظر آیا۔ ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران انڈیکس میں 311 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور انڈیکس 34 ہزار 330 کی سطح پر ٹریڈ کرتے دیکھا گیا۔

کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کے دوران 91,829,564 شیئرز کی لین دین ہوئی جس کی مالیت پاکستانی روپوں میں 4,528,822,762 بنتی ہے۔

گزشتہ روز بھی اسٹاک مارکیٹ کا آغاز مثبت زون میں ہوا تھا اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں ابتدائی دو گھنٹے کے دوران 242 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 786 پوائنٹس کی کمی پر بند ہوا تھا اور انڈیکس کا اختتام 33 ہزار 824 پوائنٹس کی سطح پر ہوا تھا\

پیر کو 232 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی جبکہ 81 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں اسٹاک ایکسچینج کی صورتحال میں مجموعی طور پر کوئی بہتری نہیں آسکی۔

پی ٹی آئی جب حکومت میں آئی تو اسٹاک مارکیٹ48 ہزارکی سطح پرٹریڈ کر رہی تھی جو28 ہزارپوائنٹس تک نیچے آنے کے بعد اب 34 ہزارکی سطح پرٹریڈ کررہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آنے کے بعد سے اب تک اسٹاک ایکسچینج کیلئےکوئی بڑا فیصلہ نہیں کر سکی ہے۔ انہوں نے 20 ارب روپے کےبیل آؤٹ پیکیج مارکیٹ سپورٹ فنڈ کی مد میں دینے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے بعد سابق وزیرخزانہ اسد عمرکو وزارت سے ہٹا دیا گیا۔

اپریل 2019میں مارکیٹ 3 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی جوکہ 35 ہزار تھی اور مارکیٹ کپیٹلائزیشن میں 1200 ارب روپے کی کمی آ چکی تھی۔

مئی 2019 میں آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر قرض لیا گیا اور مارکیٹ 34 ہزارکی سطح تک پہنچ گئی۔ مئی میں ہی ڈالرنے اونچی اڑان بھری اور اسٹاک ایکسچینج 33 ہزارکی سطح پر پہنچ گئی۔

حکومت نے جولائی کے مہینےمیں شرح سود ساڑھے 13 فیصد پربرقرار رکھی تو مارکیٹ 32 ہزارکی سطح پرپہنچ گئی۔ اگست میں مارکیٹ 30 ہزارکی سطح پرپہنچ گئی سرمایہ کاروں کوایک دن میں125 ارب روپے کا نقصان ہوا

Courtesy hum news