دس لاکھ اساتذہ کو بے روزگاری کا سامنا ہے

وفاقی وزیر شفقت محمود کی زیر صدارت اجلاس میں تجویز دی گئی ہے کہ تعلیمی اداروں کو کھولے جانے کے لیے خصوصی ایس او پیز تشکیل دئیے جائیں۔تفصیلات کے مطابق وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت میں گزشتہ روز تعلیمی اداروں کے حوالے سے اجلاس ہوا۔جس میں وزیر تعلیم شفقت محمود کی موجودگی میں تعلیمی اداروں کے کھولے جانے کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔
اجلاس میں تجویز کیا گیا کہ تعلیمی اداروں کو کھولنے کے لیے خصوصی نشستوں کی تشکیل دیے جائیں۔ذرائع وزارت تعلیم کے مطابق تعلیمی اداروں کے لیے ماڈل ایس او پیز ابتدائی طور پر وفاقی دارالحکومت میں نافذ کیے جائیں گے۔ ذرائع وزار تعلیم کے مطابق ایس او پیز اور تعلیم ادارے و مدارس کھولے جانے کے لیے بین الصوبائی کمیٹی کا اجلاس جولائی کے آغاز میں طلب کیا جائے گا۔


بین الصوبائی کمیٹی کی سفارشات ملک میں کرونا کی صورتحال کے مطابق فیصلوں کے مطابق تعلیمی ادارے کھولے جانے کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق کرونا وائرس کے سبب ملک بھر کے ترلیمی ادارے تیرہ مارچ کی شام سے اب تک بند ہیں اور ہندرہ جوالئی تک کھولے جانے پر پابندی ہے۔ آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے کورونا وبا کے دوران نجی تعلیمی اداروں کے مسائل حل کرانے میں ناکامی اور لاکھوں طلبا کا مستقبل تباہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے اور کہا ہے حکومتی ناقص حکمت عملی کے باعث ملک بھر کے تقریباً بیس فیصد نجی تعلیمی ادارے بند ہو چکے ہیں جبکہ دس لاکھ اساتذہ کو بے روزگاری کے عفریت کا سامنا ہے۔
حکومت مناسب ایس او پیز کے تحت نجی تعلیمی ادارے کھولنے کی اجازت دے جبکہ کرایوں، تنخواہوں اور دیگر اخراجات کی مد میں مناسب ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے