جسٹس قاضی فائز عیسیٰ برطانیہ میں عمران خان کی جائیداد کی دستاویزات لے آئے

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے معاملہ سے متعلق کیس پر سماعت ہوئی۔ جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے کیس پر سماعت کی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواست میں مزید دستاویزات جمع کرا دی ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نیازی کے نام پر برطانیہ میں6 اور شہزاد اکبر کے نام پر پانچ جائیدادیں ہیں۔
اور یہ معلومات برطانوی لینڈ ریکارڈ کی سرچ انجن 192 ڈاٹ کام سے لی گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے مطابق میرے اہل خانہ کی جائیدادیں بھی اسی ویب سائٹ سے تلاش کی گئیں۔جواب میں کہا گیا کہ شہزاد اکبر کے نام پر برطانیہ میں پانچ،زلفی بخاری کے نام پر 7جائیدادیں ہیں۔


جب کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اور فردوس عاشق وان کے نام پر بھی برطانیہ میں جائیدادیں ہیں۔

علاوہ ازیں جہانگیر ترین اور پرویز مشرف بھی برطانیہ میں جائیدادوں کے مالک ہیں۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ الزام نہیں لگاتا کہ حکومتی شخصیات نے یہ جائیدادیں ناجائز ذرائع سے بنائیں۔تاہم ایف بی آر تعین کرے کہ حکومتی شخصیات نے کتنی قابل ٹیکس آمدن ظاہر کی ہے۔اسٹیٹ بینک بھی تعین کرے کہ کیا حکومتی شخصیات نے یہ پیسہ جائز طریقے سے بیرون ملک بھیجا۔
درخواست میں اثاثہ جات ریکوری یونٹ اور اس کے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دینے اور شہزاد اکبر اور اے آر یو کے ماہر انٹرنیشنل کریمنل لاء ضیاءالمصطفی نسیم سے تمام تنخواہیں اور مراعات واپس لینے کی استدعا کی گئی ہے۔گذشتہ روز پیر کو سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکومتی موقف پر اپنا جواب جمع کروادیا ۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے حکومت کی جانب سے فیملی کی جائدادوں کو مختلف ویب سائیٹس کے ذریعے ڈھونڈنے کے موقف کی تردید کردی ۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ حکومت نے میرے اہلخانہ کی جاسوسی کرکے جائیدادوں کی معلومات حاصل کیں ،شہزاد اکبر اور ضیا ء المصطفیٰ نے عدالت کو اپنے پہلے موقف کے زریعے گمراہ کرنے کی کوشش کی ۔انہوںنے کہاکہ شہزاد اکبر اور ضیا ء المصطفیٰ نے عدالت کو گمراہ کرنے پر معافی مانگنے کی بجائے چودہ ماہ بعد ایک نیا موقف اپنا لیا، موقف اختیار کیاگیاکہ فریقین کی جانب سے نیا موقف یکم جون اور چھ جون کو جمع کروائے گئے دستاویزات میں اپنایا گیا،نئے موقف کے مطابق میرے اہلخانہ کی جائیدادیں مختلف ویب سائٹس /سرچ انجن کے ذریعے تلاش کی گئیں،ویب سائٹس یا سرچ انجن کے ذریعے جائیدادوں کی تلاش عام ویب سائٹ طرز کی نہیں،سرچ انجن کے ذریعے جائیدادوں کو تلاش کرنے کیلئے ادائیگیوں سمیت مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے،موقف اختیار کیاگیاکہ اگر حکومت نے جائیدادوں کو سرچ انجن کے ذریعے تلاش کیا ہے تو اس کے دستاویزی