لازمہ کی فروخت میں ملوث گروہ پر یاسر حسین کی تنقید

کراچی : اداکار و مصنف یاسر حسین نے پلازمہ فروخت کرنے والے دردنہ صفت انسانوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

دنیا بھر کے انسان کرونا وائرس کی اس وبائی صورتحال کے دوران ہر طریقے سے متاثرہ افراد کی مدد کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن پاکستان میں بسنے والے درندہ صفت انسانوں نے کرونا سے صحتیابی کےلیے ضروری پلازمہ کو کاروبار کا ذریعہ بنالیا۔

اداکار و مصنف یاسر حسین نے وبائی صورتحال کے دوران بھی بے حسی کا مظاہرہ کرنے والے پلازمہ کے بیوپاریوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

یاسر حسین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنی اسٹوری شیئر کرتے ہوئے پلازمہ کی فروخت میں ملوث افراد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’دنیا میں کسی کافر نے پلازمہ بیچا؟ لیکن ہمارے ہاں باقی دنیا کو کافر کہنے والے پلازمہ بیچ رہے ہیں
واضح رہے کہ اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’ذمہ دار کون‘ کے اسٹنگ آپریشن میں کراچی میں وائٹ سیل بلڈ کے نام پر پلازمہ کی فروخت کا انکشاف ہوا، کے کے ایف اور پٹیل اسپتال کے نام سے میگا یونٹ کی فروخت کی جانے لگی
نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق ہمیں اطلاعات موصول ہوئی تھیں کراچی میں ایک ایسی مافیا سرگرم ہے جو کہ میگا یونٹ کی فروخت کررہی ہے۔

اسٹنگ آپریشن کے دوران اے آر وائی کی ٹیم نے شہر کے مختلف مقامات سے میگا یونٹ 16 سے 20 ہزار روپے میں خریدے، جس میں حیران کن طور پر سیل موجود ہی نہیں تھے یا کچھ ایسے میگا یونٹ تھے جس میں سیل کی مقررہ مقدار موجود نہیں تھی۔