امریکی سیاست میں فوجی مداخلت پر تحفظات ! ………

…….. قادر خان یوسف زئی کے قلم سے   امریکی ریاست جارجیا کے دار الحکومت اٹلانٹا میں میں پولیس کے ہاتھوں ایک اور سیاہ فام شہری ریشر بروکس کی ہلاکت کے بعد پرتشدد ہنگاموں میں شدت آگئی۔ اس واقعے کے بعد   اٹلانٹا پولیس چیف ایریکا شیلڈزنے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، انہوں نے تسلیم کیا کہ پولیس کو طاقت کا ایسے بہیمانہ استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا۔ 25مئی سے امریکی شہر منی ایپلس میں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد امریکا، سمیت کئی ممالک میں نسل پرستی کے خلاف احتجاجی و پُر تشدد مظاہرے ہو رہے ہیں۔  نسل پرستی کے خلاف عوام سراپا احتجاج اور صدر ٹرمپ کی ٹویٹس و پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، احتجاج میں تشدد شامل ہونے پر صدر ٹرمپ نے مظاہروں کو دَبانے کے لئے فوج(نیشنل گارڈز) کو استعمال کرنے کی کوشش کی، 3جون کو وائٹ ہاؤس کے قریب مظاہرین اور فوجی اہلکار آمنے سامنے ہوئے اور صدر ٹرمپ نے اپنی ٹو یٹس میں بھی بڑے سخت ردعمل کا اظہار کیا،جس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایاجارہا ہے کہ ملکی سیاست میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔امریکی دانشور وں کی اکثریت کا ماننا ہے کہ”امریکی بانیوں کا ماننا تھا کہ سیاست سے پاک فوج عوام کی بہتر خدمت کرسکتی ہے، ان کا مزید کہنا ہے کہ فوج کو امریکا کے سب سے محترم ادارے کی حیثیت حاصل ہے“۔ لافیا سکوائر پر تعینات نیشنل گارڈز کے درمیان محاذ آرائی کے دوران ایک گرجا گھر کو نقصان پہنچا، جب صدر ٹرمپ کے ساتھ وزیر دفاع ایسپر اور اعلیٰ فوجی عہدے دار جنرل مارک مائلی وہاں فوٹو سیشن کے لئے پہنچے تو مظاہرین کے خلاف نیشنل گارڈز کی ”خدمات“ پر ٹرمپ نے شکریہ ادا کیا گیا۔ مظاہرین کے خلاف امریکی فوج کو استعمال کئے جانے کے عمل کو سخت ناپسند کیا گیا اور پینٹاگون کو وضاحت جاری کرنی پڑی کہ وزیر دفاع اور جنرل مائرک مائلی کو صدر ٹرمپ کے ارادوں کا علم نہیں تھا۔وزیر دفاع نے لافیا سکوائر جانے پر اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ”ان کے جانے کا فیصلہ درست نہیں تھا، اس سے یہ تاثر گیا کہ سیاسی معاملات میں امریکی فوج بھی ملوث ہے“۔ امریکا میں دو جماعتی صدارتی نظام کے تحت انتخابات منعقد ہوتے ہیں اور صدر کے انتخاب سے قبل پرائمری انتخابات میں ڈیمو کرٹیک و ری پبلکن پارٹی اپنے صدارتی امیدوار کی مقبولیت کا جائزہ لینے کے لئے ریاستی سطح پر تقریبات منعقد کرتے اورفنڈ اکھٹا کرتے ہیں،صدارتی میدواروں کے درمیان مباحثہ، رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے ٹاک شوز کا انعقاد کیا جاتا ہے، عوام کی انتخابات میں بھرپور شرکت کو یقینی بنانے اور سیاسی جماعتوں کے منشور پر عمل درآمد اور وعدوں کی تکمیل پر اہمیت دی جاتی ہے۔ امریکی عوام عموماََ صدر اور منتخب سینیٹرز کو کارکردگی کی بنیاد پر کامیاب کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ امریکی انتخابات میں فوجی مداخلت کے الزامات کی بازگشت سنائی نہیں دیتی اور مخالفین اپنی شکست کا ذمے دار فوج کو نہیں ٹھہراتے۔ صدر ٹرمپ کی گذشتہ انتخاب میں مبینہ کامیابی کو مشکوک سمجھا گیا، مخالفین نے الزامات عائد کئے کہ انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لئے روس نے مداخلت کی تھی، گو  صدر ٹرمپ نے اپنے انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹ کی تردید کی، بلکہ مواخذے کا سامنا بھی کیا۔ واضح رہے کہ 2016کے انتخابات میں ہیلری کلنٹن کے خلاف سوشل میڈیا  پر جعلی خبریں اور سائبر حملے کے الزامات عائد کئے گئے، جس کی وجہ سے ہلیری کلنٹن کے حق میں رائے عامہ متاثر ہوئی اوراس شکست کا ذمے دار ٹرمپ کو گردانا گیا۔ صدارتی انتخابات میں قریباََ پانچ ماہ رہ گئے ہیں اور ٹرمپ کی فتح یا شکست پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ حالیہ پُرتشدد ہنگامہ آرائیاں و مظاہروں کوامریکی سیاست میں صدر ٹرمپ کے لئے اچھا شگون نہیں سمجھا جارہا، بالخصوص فوج کو سیاست میں لانے کی کوشش کو مخالفین نے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیاہے کہ صدرٹرمپ انتخابات میں کامیاب ہونے کے لئے امریکی فوج کا استعمال کرسکتے ہیں۔ ان قیاس آرائیوں کو امریکی عوام کے لئے اچھی خبر قرار نہیں دی جارہی، اہم سابق و موجودہ فوجی شخصیات نے احتجاجی مظاہرے کے خاتمے کے لئے فوج کو استعمال کو مناسب قرار نہیں دیا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے نیشنل گارڈز کے استعمال پر امریکی فوج کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا تھا کہ وہ اپنی عوام کے خلاف کاروائی نہیں کرسکتے۔ صدر ٹرمپ کے احکامات کو وزیر دفاع نے بھی ماننے سے انکار کرتے ہوئے نیشنل گارڈز کو غیر مسلح کر دیا تھا۔ جمہوریت کے صدارتی و پارلیمانی نظام میں سیاسی جماعتوں کا ریاستی اداروں سے ان کے مینڈیٹ کے مطابق کام لینے کی روایت کو عالمی برادری میں پسند کی جاتی ہے، تاہم کئی ایسے ممالک بھی ہیں جہاں سیاسی حکومتوں میں فوجی مداخلتوں نے جمہوری نظام کی حقیقی شکل کو مسخ کرکے طاقت کے استعمال کو فروغ دیا۔ امریکا سیاست میں فوجی مداخلت کے بغیر چلنے والا صدارتی نظام کے تحت قائم مملکت ہے، جو عمومی طور پر ان پالیسیوں کو سیاسی طور پر نافذ کرتی ہے جو امریکن اسٹیبلشمنٹ بناتی ہے۔تاہم حیران کن طور پر صدر ٹرمپ کی امریکی انتخابات میں کامیابی کے بعد، اسٹبلمشنٹ و وائٹ ہاؤس میں تنازعات سامنے آتے رہے ہیں جس کی ایک طویل فہرست ہے،ڈونلڈ ٹرمپ کی ملتون مزاجی کے سبب کئی اہم عہدے داروں نے استعفیٰ دیئے یا برخاست ہوئے، صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو ہدف تنقید کا نشانہ بنایا، عالمی بنیادوں پر صدر ٹرمپ کے کئی تاریخی یو ٹرن نے مختلف خطوں کی صورتحال کو کشیدہ بنایا۔ ایٹمی جنگ کے خدشات کو بڑھایا، ان کی محاذ آرائیاں امریکی عوام کو پریشان کررہے ہیں کہ آیا صدر ٹرمپ اگلی مدت صدارت کے لئے قابل اعتماد ہوسکتے ہیں یا نہیں۔ امریکی صدر نے اس اَمر کا اظہار تو کردیا ہے کہ اگر وہ اگلے انتخابات میں کامیاب نہ ہوسکے تو یہ ’امریکا کی بدقسمتی ہوگی تاہم وہ دیگر طریقوں سے اپنا کام جاری رکھیں گے‘۔ڈیموکرٹیک کے نامزد امیدوار جوبائیڈن نے صدر ٹرمپ کے دوبارہ کامیاب ہونے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ ٹرمپ سے کچھ بعید نہیں کہ وہ میرے ووٹ چوری کرسکتا ہے۔گمان کیا جارہا ہے کہ کرونا وبا کو قابو پانے میں بدترین ناکامی، انتخابی منشور پر مکمل عمل درآمد نہ ہونا، کروڑوں افراد کے بے روزگار ہونے اور حالیہ دو ہفتوں سے جاری پُر تشدد مظاہرے صدر ٹرمپ کے انتخابی مستقبل کے اچھی شکل پیش نہیں کررہے، یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی فوج کے استعمال کی ممکنہ غلط روایت پر سخت تحفظات نے سوالیہ نشان بھی کھڑے کردیئے ہیں، جس کا کھل کر اظہار کیا جارہا ہے کہ یہ امریکا کے حق میں بہتر نہیں۔