شاھ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کے پروفیسر ساجد سومرو کے خلاف توھین مذھب کا مقدمہ درج

حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر اقبال ملاح۔ جنرل سیکریٹری منصور مری و دیگر عھدیداروں نے اپنے مشترکہ بیان میں شاھ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کے پروفیسر ساجد سومرو کے خلاف توھین مذھب کا مقدمہ درج ہونے اور سند یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عرفانہ ملاح کے خلاف توھین رسالت کے الزام کے تحت مقدمہ درج کرنے کی کوشش اور ان کے خلاف مھم چلانے پر سخت تشویش کا اظھار کرتے ہوئے اس عمل کو اظھار راء کی آزادی کو زبردستی دبانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے انھونے کہا کے پروفیسر ساجد سومرو کے اوپر لگائے ہوئے الزام کی کوئی بھی تحقیق کرنے کے بغیر توھین مذھب کا داخل مقدمہ کا پسمنظر شاھ عبداللطیف یونیورسٹی کی اساتذہ تنظیم اور سندھی ادبی سنگت کی اندرونی گروہ بندی محسوس ہو رہی ہے۔ انہونے کہا کے ریربحث قانون کو کچھ فرد اور گروہ اپنے ذاتی۔ گروہی اور مسلک کے بنیاد پر اپنے مخالفوں کے خلاف استعمال کرتے آ رہے ہیں جو کے آگے چل کے عدالتوں میں جھوٹے ثابت ہوئے ہیں. ساجد سومرو پر بھی بغیر انکوائری کے مقدمہ درج ہونے پر ڈاکٹر عرفانہ ملاح کی جانب سے ان قانون و عمل ہر تنقید کرنے کو توہین رسالت کا عنوان دیے کر اس کے خلاف لوگوں کو اتسایا جا رہا ہے جو کہ سماج کو تقسیم کرنے اور لڑانے کی کوشش ہے، انہوں نے مزید کہا کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وصلم کو آخری بنی اور ان کی عظمت، حرمت کو ایماب سمجھتے ہیں، کچھ افراد کی جانب سے بنائے گئے قوانین جب بھی گناہوں کے خلاف استعمال ہوتے ہیں تو ان پر تنقید ہوتی ہے اور اس کے استعمال پر سماج سوال اٹھاتا ہے اس لیے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پروفیسر ساجد سومرو پر درج مقدمے کی شاف انکوائری کروائی جائے اور ڈاکٹر عرفانہ ملاح کے خلاف چلنے والی مہم کو روک کر عرفانہ ملاح کو تحفظ فراہم کیا جائے اور سندھ کو مذہبی تکرار سے بچانے کے لیے اقدام اٹھائے جائیں۔