…خود کشی…

خود کشی
(تحریر : صائمہ نفیس)
اپنے آپ کو قصداً اور غیر قدرتی طریقے سے نقصان پہنچا کر ہلاک کرنے کو خود کشی کہتے ہیں.
عورتوں کے مقابلے میں مردوں میں خود کشی کا رجحان زیادہ ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین میں پچیس برس کے بعد خود کشی کارجحان تقریباً ختم ہوجاتا ہے جبکہ مردوں میں عمر کے ساتھ ساتھ خود کشی کی شرح بڑھ جاتی ہے.
اسی طرح دنیا میں سیاہ فام کے مقابلے میں سفید فام لوگ زیادہ تعداد میں اپنے آپ کو قصداً ہلاک کرتے ہیں.
جاپان دنیا کا واحد ملک ہے. جہاں خودکشی کو ایک مقدس اور بہادرانہ فعل سمجھا جاتا ہے اور جاپانی ہتک عزت، کاروبار میں نقصان، عشق میں ناکامی پر خودکشی کر لیتے ہیں.
پوری دنیا میں سویڈن میں خود کشی کی شرح سب سے زیادہ ہے جبکہ اسلام اور دوسرے الہامی مذاہب میں اس کی سختی سے ممانعت کرتے ہوئے اسے حرام قرار دیا ہے.
قرآن مجید سورۃ البقرہ آیت 195
ترجمہ: اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالواور صاحبان احسان بنو بے شک اللہ احسان والوں سے محبت فرماتا ہے.
اسلام امن و سلامتی والا مذہب ہے جوانسانوں کو صبر و تحمل، اعتدال اور توازن پر قائم رہنے کی تلقین کرتا ہے.
زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے. انسان کا جسم اور زندگی دونوں اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ امانتیں ہیں جس میں ذرا سی بھی خیانت دنیا اور آخرت کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے. اسی لیے اسلام جسم و جان کے تحفظ کا حکم دیتا ہے. اسی لیے مایوسی جو خودکشی کی طرف بڑھتا ہوا پہلا قدم ہےاسے کفر قرار دیتے ہوئے اس سے بچنے کی تلقین کرتا ہے اور ہر مشکل و پریشانی میں صبر کی تلقین کر کے فرماتا ہے
ترجمہ: اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے.
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صبر کو ذہنی تناؤ کے حل کے طور پر پیش کیا ہے.
قرآن میں ارشاد باری ہے.
ترجمہ: اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان ومالکے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے آزمائیں گے. ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے. انہیں خوشخبری دے دو ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوگی. (البقرہ).
اس آیت میں رجوع الہی اللہ اور صبر کو خود کشی کے سدباب کے طور پر پیش کیا گیا ہے.
موجودہ دور میں عالمی ادارہ صحت ڈیبلیو ایچ او کے مطابق خودکشی ایک عالمی وباء کی صورت اختیار کر چکی ہے
چنانچہ 10 ستمبر 2003 کو پہلی مرتبہ خودکشی سے بچاو کا عالمی دن قرار دیا گیا.
عالمی ادارہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ دس لاکھ لوگ خود کشی کے نتیجے میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں. 2020 تک دنیا میں خودکشی کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تعداد پندرہ لاکھ سے بھی تجاوز کر جائے گی. اسلامی ممالک میں خود کشی کی شرح دنیا کے باقی ممالک سے قدرے کم پائی جاتی ہے.
خودکشی کے محرکات یا اسباب کیا ہو سکتے ہیں.
رپورٹس کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ دنیا کے تقریباً ہر ہی ملک میں کسی نہ کسی صورت سماجی ناہمواری اور عدم توازن موجود ہے. جس کی وجہ سے لوگ ذہنی انتشار کا شکار ہو رہے ہیں اور یہی ذہنی کیفیت بسا اوقات خود کشی جیسے فعل کا مرتکب بنتی ہے.
خود کشی کی اہم وجوہات میں ذہنی و نفسیاتی امراض، غربت، بے روزگاری، منشیات کا استعمال، امتحان میں نا کامی، کم عمری میں شادی، گھریلو تشدد، طعنہ زنی، بےعزتی کا خوف، منفی مقابلے کا رجحان، لامتناہی خواہشات وغیرہ شامل ہیں.
اس کے علاوہ دماغی امراض کے ڈاکٹروں کے مطابق ذہنی بیماریاں (عموماً جن کا تعلق نفسیاتی امراض سے ہی ہوتا ہے) غیر خوشگوار تجربات جیسے ایذا رسائی، ڈرانا دھمکانا، نشیلی ادویات کا استعمال، بے روزگاری. اکیلا پن، رشتے اور تعلقات سے جڑے مسائل، جینیاتی و موروثی امراض.
غیر ضروری فلسفیانہ نکتہ نگاہ، فلسفیانہ خواہشات کی عدم تکمیل، وجو کا بحران، جان لیوا امراض، دائمی جسمانی اور ذہنی درد و تکلیف، معاشی مسائل اور ادویات کے استعمال سے ان کے سائیڈ افیکٹ کی پیچیدگیاں،
اس کے علاوہ جسمانی تشدد، گھریلو تشدد، خانہ جنگی اور جنگ کی وجہ سے رونماہونے والے اثرات خودکشی کے اسباب میں شامل ہیں.
ہمارے مشرقی معاشرے میں ٹوٹتا ہواخاندانی نظام بھی اس قسم کے مسائل کو جنم دیتا ہے.
خودکشی کے تدارک کے لئے ضروری ہے کہ منفی رجحانات سے نبرد آزمائی کے لیے نئی نسل کی اوائل عمری سے ذہنی تربیت کی جائے.
ذہنی طور پر نوجوان نسل کو مضبوط بنانے کے لیے والدین اور اساتذہ اپنا کلیدی کردار ادا کریں اور بچوں کو زندگی کے نشیب و فراز، سرد و گرم ہر طرح کے حالات کا علم فراہم کریں.
بچوں اور جوانوں پر کسی قسم کا. دباو ڈالنے کے بجائے ان میں امید، حوصلہ اور ہمت کو اجاگر کریں ان کے مسائل اور ان کی ذہنی حالت کا صحیح ادراک کریں. ان کے مستقبل کے فیصلے خواہ ان کی تعلیم یا ہنر یا رشتوں سے متعلق ہوں اس میں ان کے ذہنی استدلال اور پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کو اعتماد میں لیں.
والدین اور اساتذہ مل کر نئی نسل کو نا امیدی، ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کو کم کرنے اور اس سے نجات پانے کے طریقوں کی تعلیم و تربیت فراہم کریں
اذیت ناک واقعات، تکلیف دہ تجربات سے باہر نکلنے کا حوصلہ اور طریقے، معاشی، معاشرتی اور سماجی دباؤ کو کنٹرول کرنے کے گر سکھائیں.
شعور وآگہی، کونسلنگ اور راہنمائی خود کشی پر قابو پانے میں اہم کردار انجام دے سکیں گے.
ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال سے آج کا ہو انسان تنہائی پسند ہوتا جارہا ہے تنہائی پسندی اور ہر وقت کی یاسیت بھی زندگی کی گہما گہمی سے دور لے جاتی ہے. اس کے لیے ضروری ہے کہ روز مرہ کی روٹین میں کھیل اور ورزش شامل ہو. صبح یا شام کی چہل قدمی ذہنی تناؤ کو کم کرتی ہے.
والدین جہاں بچوں کی کامیابیوں پر خوش ہوتے ہیں وہاں ہی انہیں چاہیے کہ بچوں کی ناکامیابی پر اپنے تجربے کی روشنی میں اس کا حل نکالیں مگر بہت احتیاط اور محبت سے لبریز انداز سے.
شروع ہی سے بچوں میں مطالعے کی عادت ڈالیں اور ایسی کتب کا انتخاب کریں جو سوانح عمری یا دوسروں کے تجربات کا نچوڑ ہوں بڑی اور کامیاب شخصیات کے زندگی کےواقعات ہوں.
فنون لطیفہ کا نئی نسل کو شعور دیجیے اس سے انہیں اپنے اندر کو ہلکا پھلکا کرنے میں بہت مدد ملے گی اور ذہنی پختگی کے لیے ضروری ہے کہ انسان پرسکون رہے. اور آخر میں یہ ہی کہوں گی کہ ہمیشہ قدرت کے ساتھ چلیں نیچر سے بغاوت گھاٹے کا سودا ہے….
ہم سب دنیا میں اپنے اپنے وقت پر بھیجے گئے ہیں اپنے اپنے کام کرنے اور ہمارا کام اس دنیا کو خوبصورت بنانا ہے آیندہ آنے والوں کے لیے جیسے ہم سے پہلے لوگ اسے ہمارے لیےخوبصورت بنا گیے. نا کہ اپنا کام ادھورا چھوڑ کر اپنی جاں سے گزر جانا…..