… ادھار….

ادھار

یہ لفظ ہماری زندگی میں نیا نہیں, ہر جگہ چلتا ہے,,, ایک سوال ہے,, کبھی رب سے ادھار مانگا آپ نے,,,, ؟ میں نے مانگا تھا ایک بار اس نے دیا,,, پھر واپس بھی لیا,,,, بالکل ایسے ہی جیسے ہم ایک دوسرے کو دیتے ہیں اور مقررہ وقت پہ واپس لے لیتے ہیں,ایسے ہی ہوا, میرے والد کو تیسری بار دل کا دورہ پڑا رات کے ڈیڑھ بجے, اور باہر آندھی اور بارش, وہ فوجی آدمی تھے بہت باہمت, سب کو جگایا اور کہنے لگے اب جانے لگا ہوں مجھے ملو, اپنی جان سے پیارے پوتے پوتیوں کا منہ چومنے لگے, مجھے کہا عائشہ ملو, لیکن میں نے انکار کر دیا,,, بھلا ایسا کوئی بیٹی اپنے بابا کو مل سکتی,,,کبھی نہیں,,, میں نے لائن لینڈ سے کال ملائی, گاڑی سڑک پہ آئی, گھر سے کافی فاصلہ تھا, ابو جی کے ماشاءاللہ تین بیٹے لیکن تینوں پردیسی, اپنے بابا کے بہت فرمانبردار,,, میں نے کبھی انھیں اپنے والد صاحب کی حکم عدولی کرتے نہیں دیکھا, اور وہ باقاعدگی سے گھر بھی آیا کرتے ہر ہفتے,,,, یہاں ایک اور بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ بعض اوقات کوئی مصیبت آے تو ہم عورتیں یہ سمجھتی ہیں کہ ہم کیا کریں,,, کیسے کریں,,,,, نہیں ایسا نہیں,,, ہم خود بھی ہمت کریں تو بہت سے مسائل سے نمٹ سکتی ہیں, ہماری والدہ بھی گھر موجود نہیں تھیں, میری بھابھی میرے ساتھ گئیں اور ہم دو عورتیں اپنے بابا کو لے کے کھاریاں سی ایم ایچ روانہ,, بابا کی حالت بہت خراب, 90% سےزیادہ لوگ تیسرے ہارٹ اٹیک کو برداشت نہیں کر سکتے اور جان کی بازی ہار جاتے ہیں, ہم ساڑھے تین بجے سی ایم ایچ پہنچے, خوش قسمتی سے ڈاکٹر صاحب کسی ایمر جنسی کیلئے ہسپتال آے ہوے تھے, جب میرے بابا کو گاڑی سے سٹریچر پر ڈالا گیا تو ڈاکٹر صاحب بولے, only 20% chances to survive, بہت مشکل ہے,میں صرف اتنا کہہ سکی کہ ڈاکٹر صاحب سانس تو چل رہی ناں میرے باپ کی, وہ میرے بابا کو آئی, سی,یو میں لے گئے, تب میں نے اپنے اللہ سے اپنے بابا کو ادھار مانگا, میرے مولا آج بابا ادھار دے دو آج نہ لے کے جانا, میری ماں انکے پاس نہیں, وہ اپنے ایک بیٹے سے بھی نہیں مل پائے, او ربّا آج نہیں, میری دعا میں وہ تڑپ, وہ درد, وہ یقین میں نے زندگی میں پہلی بار محسوس کیا, تب ہسپتال سٹاف سے کوئی مجھے بلانے آیا کہ آپکو آپکے والد بلا رہے ہیں, تب میں اپنے بابا سے ملی, جب وہ زندگی کی طرف دوبارہ لوٹ آئے,,بات کرنے کا مقصد اپنی تعریف ہرگز نہیں, نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ اس سے مانگو تو وہ ضرور دیتا ہے, مانگنے والے کے دل میں سچائی اور تڑپ ہو,, ہم پہلے ہی مایوس ہو کے بیٹھ جاتے ہیں,,,
یہ زندگی ہے صاحب
الجھے گی نہیں تو
سلجھے گی کیسے,,
پھر وہ ادھار واپس لینے آیا جس نے مجھے میرے بابا کی سانسیں ادھار دی تھیں, بالکل اسی طرح, وہی حالات, اسی جگہ جہاں اس نے مجھے ادھار دیا تھا, لیکن تب میرے ساتھ میرے والد کے پاس میری والدہ موجود تھیں, دکھ تو بہت ہوا لیکن شکوہ کوئی نہیں تھا,,, ادھار جو تھا,,,, واپس تو کرنا تھا,,,,
(تحریر : عائشہ عطاء ( ڈنگہ۔ گجرات