شادی حالوں پر قائم بندش ختم کیجائے عمیر آرائیں

اس شعبے سے جڑے ہوئے لاکھوں انسان موت اور زندگی کی جنگ لڑنے پر مجبور ہیں مدثر حسین شاہ

انسان تو درکنار ایک جانور بھی فاقہ زندگی کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتاہے تو اسکی زمہ داری حاکم وقت عائید ہوتی ہے

گورنر مشن ولڈ پیس ہومن رائٹس مرکزی جزل سکریٹری قومی امن کمیشن پاکستان عمیر احمد آرائیں

اور مرکزی کوآرڈنیٹر سندھ قومی امن کمیشن برائے ئبین المزاہب ہم آہنگی سید مدثر حسین شاہ
نے گزشتہ روز اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے مشترکہ خطاب کے دوران لاک ڈاؤن سے پیدا ہونے والی بد حالی پر تبصراہ کرتے ہوئے کیا کہ جہاں دیگر شعبہات زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد متاثر ہوئے ہیں بالکل اسی طرح شادی حالوں سے تعلق رکھنے والے محنت کش افراد متاثر ہوئے ہیں شادی کی بندش سے دیگر لوگ جواس شعبے سے کسی نہ کسی طرح جڑے ہوئے ہیں متاثرین کی فہرست میں آتے ہیں مثال کے طور پر بنڈباجے والے کھانہ پکانے والے کھانا کھلانے والے مووی بنانے والے صفائی ستھرائی کرنے والے کھانے پکانے کی اشیاء فروخت کرنے والے و دیگر ہزاروں شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں اس وقت غریب کی دہلیز کو عبور کرتے ہوئے موت اور زندگی کی جنگ لڑرہے ہیں حکمران وقت کی زمہ داری بنتی ہے کہ اسکے دور حکومت میں انسان تو انسان ایک جانور بھی بھوک سے مرجائے گا تو اسکی زمہ داری اس حکمران پر عائید ہوگی جو حاکم وقت ہے ہماری اس سے درخواست ہے کہ ان لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچانے میں ہم سے تعاون کرتے ہوئے بندش کے احکامات ختم کریں ھم وقت کی نزاکت کے مطابق ایس او پیز کی مکمل پابندی پر عمل درآمد کرائیں گے تمام لوازمات ھم اپنی آرگنائزیشن کی جانب سے فراہم کریں گے