حبیب خان غوری ۔ صحافت کی شان ۔پاکستان کی پہچان

یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں ۔جی ہاں حبیب خان غوری نے اپنی عمر کا بڑا حصہ صحافت کی نذر کیا ہے اب وہ صحافت سے نہیں پہچانے جاتے بلکہ پاکستان میں صحافت ان سے پہچانی جاتی ہے

انہوں نے پورے کیرئیر میں اعلی صحافتی اقدار کی جو روشن مثال قائم کی ہے

وہ آنے والے ادوار میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور جب جب صحافت کے زریں اصولوں اور بااصول باکردار صحافیوں

کا ذکر ہوگا تو حبیب خان غوری کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں سب سے نمایاں مقام پر لکھا جائے گا ۔

مجھ سمیت وہ تمام لوگ یقینی طور پر خوش قسمت ہیں جنہیں محترم حبیب خان غوری کے عہد میں ان کے شانہ بشانہ اور ان کے زیر سایہ صحافت کی زیر زبر سیکھنے اور ان سے رہنمائی حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا ۔


حبیب خان غوری کا شمار پاکستان کے انتہائی سینئر اور تجربہ کار صحافیوں میں ہوتا ہے ڈان گروپ آف نیوز پیپر کے ساتھ ان کی طویل اور شاندار رفاقت ہے وہ پاکستانی صحافت کی ہردلعزیز شخصیت ہیں انیس سو ستر سے لے کر انیس سو نوے


کی دہائی تک کراچی پریس کلب کے منتخب صدر اور سیکرٹری کے عہدوں پر شاندار خدمات انجام دے چکے ہیں ۔وہ صحافیوں کے دیرینہ مسائل مشکلات اور انہیں درپیش ہمہ وقت چیلنجوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور ہر فورم پر ہر دور

میں انہوں نے صحافیوں کے حقوق اور آزادی صحافت کے لیے پورے زور و شور سے اپنی آواز اٹھائی ہر جدوجہد میں اور ہر تحریک میں وہ سب سے آگے نظر آئے آزادی صحافت کے لیے جدوجہد اور قربانیوں میں ان کا کردار نمایاں اور خدمات فقیدالمثال ہیں


۔انگریزی صحافت میں عمر گزارنے والے حبیب خان غوری کی اردو بھی با کمال ہے ۔بااثر سیاستدان طاقتور حکمران ۔حبیب خان غوری کسی سے مرعوب نہیں ہوئے انہوں نے ہمیشہ اپنی اولین ترجیح اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو غیر جانبداری


کے اصولوں اور حقائق اور واقعات کو پوری سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ عوام الناس تک پہنچانے پر مرکوز رکھیں اور اس مشن میں کامیاب رہے ۔ان کی پوری زندگی اور کیریئر ایک کھلی کتاب کی مانند ہے انتہائی ذہین قابل اور شریف النفس انسان ہیں

دھیما لہجہ طبیعت میں سادگی شائستگی اور عاجزی و انکساری ان کی پہچان ہے ملک اور بیرون ملک ان کا نام بڑی عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے ۔پاکستانی صحافت میں انہیں اپنے زبردست تجربے اور بے مثال خدمات کی بدولت اب ایک انسٹیٹیوٹ کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے

۔سینئرز کی عزت کرنا انہوں نے اپنے بڑوں سے سیکھا تھا اور جونیئر کے ساتھ وہ ہمیشہ انتہائی شفقت سے پیش آئے ان کی محبت اور خلوص کے سب گواہ ہیں انہوں نے صحافت میں ہر قسم کے تعصب نفرت رنگ نسل زبان مذہب کی تفریق سے بالاتر ہوکر نہایت


مثالی انداز میں کام کیا اس لیے ہر جگہ ان کی تعریف کی جاتی ہے اور صحافت کے حوالے سے وہ پاکستان کا روشن چہرہ ہیں اللہ انہیں سلامت رکھے ۔آمین

تحریر سالک مجید