ایس کے محمود: پنڈی کی کال گرل اور ذوالفقار علی بھٹو کے لئے اقتدار سے ٹکرانے والا افسر

اقبال دیوان
———-

آپ اگر اب تک ڈاکٹر ظفر الطاف کو بغیر روحانیت والا مگر انسانیت کے قریب ترین والا نصف درویش مان چکے ہیں تو ان کی زندگی سے جڑے ڈاکٹر اجمل اور ڈاکٹر طارق صدیقی نامی دو درویشوں سے بھی آشنائی ہو چلی ہو گی۔ ہم ڈاکٹر ظفر الطاف ہی کی پسندیدہ اصطلاح، جو وہ اپنے بارے میں بے دریغ استعمال کرتے تھے، کا سہارا لیں تو یہ سب ایک طرح سے Non-practicing Muslims تھے۔ یہ ذرا مشکل اور ناقابل ہضم اصطلاح ہے مگراہل تعلق میں نبھ جاتی ہے۔ پرانے زمانے میں ایک بزرگ تھے صبغت اللہ۔ اللہ کا رنگ۔ مرشد نے چلہ کاٹنے کا حکم دیا مگر کہا نام بدل لینا ورنہ لوگ ستائیں گے۔ انہوں نے اپنا نام “رنگی رام” رکھ لیا۔ یہ بھی اللہ ہی کا رنگ تھا مگر ہندی والا۔ کوئی پاس نہیں آتا تھا۔


ایس کے محمود اس سلسلے کے تیسرے درویش تھے۔ اب سول سروس کا نام آتا ہے تو لوگ سول سروس کے افسروں کو ڈریکولا کا جڑواں بھائی سمجھتے ہیں، جسے عوام کی شہ رگ پر دانت رکھ کر اپنے پسندیدہ سیاسی سرپرست کی نگرانی میں خون پینے کو چھوڑ دیا گیا ہو۔

ذوالفقار علی بھٹو کو سول سروس سے بہت شدید مخاصمت تھی۔ پنجابی اور مہاجر افسروں کی ایک بہت بڑی تعداد کو وہ اپنی من مانی، کچی پکی، جیسی تیسی اصلاحات کی راہ میں عظیم رکاوٹ مانتے تھے۔ وہ اول تا آخر ایک وڈیرے تھے۔ جنہیں قدرت اللہ شہاب نے ناہید مرزا کے بار بار تنگ کرنے پر پطرس بخاری اور ظفر اللہ خان کو کہہ کر اقوام متحدہ کے وفود میں شامل کر لیا تھا۔ ناہید مرزا اور نصرت بھٹو آپس میں کزنز تھیں۔ ناہید گورنر جنرل اسکندر مرزا کی اہلیہ تھیں۔ شہاب صاحب گورنر جنرل کے پرنسپل سیکرٹری تھے۔ نصرت سے شادی کرنے کے پیچھے ایوان اقتدار میں داخل ہونے کا شارٹ کٹ والا ایجنڈا تھا۔

بھٹو نے اپنی بیوروکریسی سے نفرت کا انتقام 1973ء میں لولی، لنگڑی، صوبائیت، اقربا پروری اور بے ضابطگیوں کو فروغ دینے والی اتنظامی اصلاحات کے ذریعے لیا تھا۔ کہیں سے کوٹہ سسٹم کے تحت امتحان میں صوبائی نمائندگی کے نام پر فیل امیدواران تو کہیں لیٹرل انٹری کے تحت دامادوں، سالوں، بہنوئیوں اور سیاسی کاسہ لیسوں کی ایک بڑی تعداد کو اس میں شامل کردیا گیا تھا۔ ویت نام کے سفیر اشفاق احمد کا انتخاب تو انہوں نے اس وقت کیا جب ایک نوجوان نے کھلی کچہری میں دہائی دی کہ وہ بے روزگار ہے۔ یہ سول سروس پہلے ایسی نہ تھی

قرةالعین حیدر جیسی ادیبہ، بقول شاہد احمد دہلوی، سول سروس کے ایک رکن قدرت اللہ شہاب کے پیچھے خوار تھیں۔ ان کی شادی کی پیشکش کو، دن بدلنے کے بعد، شہاب صاحب مسلسل ویسے ہی ٹھکراتے رہتے تھے جیسے انہوں نے انہیں کبھی شہاب صاحب کو پستہ قد اور پینڈو کہہ کر ٹھکرایا تھا۔ ملازمین باوقار کےااسی باوقار خانوادے سے کبھی گورنر، تو کبھی چیف جسٹس بھی چنے جاتے تھے۔ دو وزیر اعظم اور ایک صدر یعنی چوہدری محمد علی اور اسکندر مرزا غلام اسحق خان بھی پہلے فیڈرل سیکرٹری ہوا کرتے تھے۔ اختر حسین، میاں امین الدین، خان قربان اور جسٹس دین محمد چاروں گورنر رہے۔ یہی نہیں سپریم کورٹ کے چار چیف جسٹس محمد شہاب الدین (1960)، اے آر کارنیلیس (1960-68)، ایس اے رحمان (1968) اور بھٹو کو پھانسی دیتے وقت اپنا ووٹ سرکار کے پلڑے میں ڈالنے والے شیخ انوار الحق (1977-81) چاروں پہلے آئی سی ایس افسر ہوا کرتے تھے۔

منیر حسین صاحب بطور اسٹنٹ کمشنر ڈھاکہ پوسٹ ہوئے تو بیگم گھر ملنے پر ان کے پاس جا رہی تھیں دوران سفر ان کی اہلیہ کی ملاقات پاکستان کے چیف جسٹس شہاب الدین کی اہلیہ سے ہو گئی۔ انہوں نے دعوت دے دی کہ چائے پر تشریف لائیے گا۔ تیسرے دن بیگم شہاب الدین ان سے ملنے ہانپتی کانپتی دوسری منزل کی سیڑھیاں چڑھتی پہنچ گئیں۔ آج چیف سیکرٹری کو ہائی کورٹ کا جج بلا لے تو موصوف کو رات بھر نیند نہیں آتی۔

ہم جانتے ہیں کہ چار جج تو بڑی کورٹوں کے ایسے رہے ہیں جنہیں ہم نے ان کی حرکات کی وجہ سے بطور مجسٹریٹ عدالت میں ڈانٹا ہے۔ حمید ڈی حبیب کو ان کی وزارت کے ادارے کاٹن بورڈ میں ہماری تعیناتی پر اعتراض ہوا تو ہم نے ان کے دفتر میں پوچھ لیا تھا کہ ایک بغیر مینڈیٹ کے وزیر جس کا نام تعلقات کے ہیٹ میں پرچی سے نکلا ہے وہ سن انیس سو گیارہ سے موجود اسٹیبلشمنٹ کے نوٹیفکیشن کی اہلیت کو کیسے چیلنج کرسکتا ہے۔ کیا چاہتے ہو کہ اپنا کوئی آدمی لاکر کاٹن کے کاروبار پر کنٹرول کرو۔ حمید ڈی حبیب نے ہمارے سسر کو گجراتی میں کہا اس کی بات ٹھیک تھی مگر لحاظ بھی تو کوئی چیز ہے۔ میری سیکرٹری کے سامنے یہ بات کیوں کی۔ ؟

سید خالد محمود یعنی ایس۔ کے۔ محمود اسی خانوادہ افسراں کے روشن چراغ تھے۔ 1966 میں کراچی کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ڈپٹی کمشنر ہوا کرتے تھے۔ ان دنوں کراچی میں ڈپٹی کمشنر ایک ہوا کرتا تھا اور اسٹنٹ کمشنر دو۔ ڈاکٹر ظفر الطاف صاحب، سب ڈویژنل مجسٹریٹ سول لائنز ہوتے تھے۔ ان کی راجدھانی پورٹ سے لانڈھی تک پھیلی ہوئی ہوتی۔ ایس۔ کے (سید خالد) محمود کتنے بے نیاز و شہرت سے پرے رہنے والے انسان تھے کہ ان کی کوئی تصویر نیٹ پر بھی دستیاب نہیں۔ مارچ 2009ء میں انتقال ہوا۔

ڈاکٹر صاحب (ظفر الطاف) کے پاس سرکاری کار نہ ہوتی تھی۔ البتہ لاہور سے انہیں چارج سنبھالنے کی آمد کے وقت کینٹ اسٹیشن پر آنے والا ایک ماتحت پیش کار مجید اپنی کار میں آیا تھا۔ ہم جب سٹی کورٹ میں بطور سب ڈویژنل مجسٹریٹ سٹی(لیاری) اپنا دفتر جماتے تھے تو یہی مجید ہمارا بھی پیش کار تھا۔ ڈاکٹر صاحب اپنی سول لائنز کی اسٹنٹ کمشنری کے دنوں میں سن ساٹھ کی ایک پرانی ٹرائمف لہرا کر پھرتے تھے۔

ہم نے ڈاکٹر ظفر الطاف سے پوچھ لیا کہ آپ تو مری کے ایڈیشنل کمشنر تھے۔ یہاں کراچی سول لائنز کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے طور پر کیسے لینڈ کیا۔

کہنے لگے وہ تمہارا ایک گجراتی سیٹھ تھا۔ اس سے سینگ اڑا لیے تھے۔ میں ایک صبح مری اپنے دفتر پہنچا تو روئی روئی سی ایک جواں سال عورت بیٹھی تھی۔ پتہ چلا کہ ائیر ہوسٹس ہے۔ سیٹھ نے ہی نوکری دلوائی تھی۔ سلپ (فلائینگ عملے کے دوسرے اسٹیشن پر قیام کو کہتے ہیں جس میں انہیں ہوٹل وغیرہ کی سہولت ہوتی ہے) دلوا کر اسے مری لے آیا تھا۔ رات کچھ ان بن ہوگئی تو اسے مارا بھی تھا اور ایک جگہ کاندھے کے پاس سگریٹ سے جلانے کے داغ تھے۔ میں نے اس سے درخواست لے کر 107/117/151 Cr.PC سیٹھ کو بند کردیا۔ ایک ہنگامہ مچا۔ جنرل ایوب کا دور تھا۔ سیٹھ کا صدر صاحب سے بڑا یارانہ تھا۔ احمد صادق میرے ڈپٹی کمشنر پنڈی تھے انہیں خبر مل گئی کہ میرے خلاف کارروائی ہونے والی ہے تو ایس۔ کے محمود کو فون کیا۔ انہوں نے کہا میرے پاس بھیج دو۔ سول لائنز سب ڈویژن کل خالی ہوا ہے۔

Sheikh Masood Sadiq


ہم نے کہا اور یہاں سے دیناج پور مشرقی پاکستان کیسے پہنچے۔ کہنے لگے ایک دن ایس۔ کے۔ محمود کے کراچی جم خانہ والے دفتر کے باہر اصفہانی ٹرانسپورٹ کمپنی کے ہڑتالی ملازم پہنچ گئے.انہیں تنخواہ ادا نہیں کی جا رہی تھی۔

ہم بتا دیں کہ اصفہانی ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالک جناح صاحب کے دست راست مرزا ابوالاصفہانی کے صاحبزادے محمد اسکندر اصفہانی (Isky Isphani) تھے جو حسین حقانی کی بیگم فرح ناز اصفہانی کے والد تھے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانہ ان کے دان کیے ہوئے گھر میں قائم ہے۔ اصفہانی گروپ آف کمپنیز کا شمار ایوب خان کے زمانے کے بائیس مالدار ترین خاندانوں میں ہوتا تھا۔ داﺅد ، آدم جی، باوانی، سہگل، فینسی، علوی، حبیب، گوکل، ڈوسل کی کیٹگری کے۔ محمد اسکندر اصفہانی اسی ایم ایم اصفہانی گروپ کے چیئرمن تھے۔ بازار میں بات چل رہی تھی کہ بنک سے قرضہ کا کچھ چکر چل رہا ہے۔ اب کمپنی کو کنگال قرار دے کر قرضہ ہڑپ کرنا چاہتے تھے۔

انہیں ڈاکٹر صاحب نے ایس ایچ او سول لائنز کو بھیج کرسندھ کلب سے بلوا لیا۔ وہ انکاری ہوئے تو ایس کے محمود نے حکم دیا کہ اگر تین گھنٹے کے اندر ان ملازمین کی تنخواہ ادا نہ ہوں تو ڈاکٹر صاحب انہیں ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت بند کر دیں۔ ایسا ہی ہوا۔ شہر میں ایک بھونچال آگیا۔ ایک گھنٹے کے اندر ایس کے محمود کو وزیر خزانہ مسعود صادق کی کال آگئی کہ یہ کون تجارت۔ دشمن افسر ہے جو مری میں ہوتا ہے تو ایک کال گرل کے کہنے پر ایک بڑے سیٹھ کو لاک اپ میں ڈال دیتا ہے۔ کراچی بھیجو، تو ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کی فرمائش پر پاکستان کی خاطر عظیم قربانیاں دینے والوں کی پگڑی سرعام اچھالتا ہے۔

Dr Zafar Altaf
وزیر خزانہ مسعود صادق نے افسر کو معطل کرنے اور ایم ایم اصفہانی کو رہا کرنے کو کہا۔ یہ سننا کہ ایس کے محمود دھاڑے اور انگریزی میں کہا۔ آپ کی ہمت کیسے ہوئی کہ صوبائی اور ضلعی سطح پر لا اینڈ آرڈر کے معاملات میں مداخلت کریں؟ آپ کا کام اپنی وزارت خزانہ تک محدود ہے۔ ہمارا فیصلہ غلط ہے تو اپنے چہیتوں کو کہیں ہمیں ہائی کورٹ میں ہرجانے اور ہتک کے دعووں میں گھسیٹ لیں۔ اس کی رہائی میں اتنی دلچسپی ہے اپنے تعلقات پر اتنا ناز ہے تو اصفہانی کو کہیں کہ تنخواہیں دے اور جان چھڑائے۔ یہ کہہ کر فون رکھ دیا۔ کمپنی کی جانب سے تین گھنٹے کے اندر تنخواہیں ادا ہو گئیں۔ اگلے دن اصفہانی صاحب کو جیل سے رہا کر دیا گیا۔ ۔

چند دنوں میں میرا ٹرانسفر دیناج پور مشرقی پاکستان ہو گیا اور میرے دو ماہ بعد ایس کے محمود پنجاب چلے گئے۔

جس وقت لاہور ہائی کورٹ نے بھٹو کو پھانسی کا فیصلہ سنایا۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے عارضی سیکرٹری کا چارج ایس کے محمود کے پاس تھا۔ وہ اس وقت ایڈیشنل سیکرٹری تھے۔ چاہتے تو بہت خاموشی سے فیصلے کی سمری مع انتظامات کی ہدایت کے اپنے نوٹ کے ساتھ گورنر جنرل سوار خان کو بھیج سکتے تھے۔ انہوں نے اپنی سمجھ اور ضمیر کی آواز پر سمری میں لکھا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ متعصب اور انصاف کے تقاضوں کی دھجیاں اڑاتا ہے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کو اجازت دی جائے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرے۔

جنرل سوار خان کو علم تھا کہ بھٹو کو ہر حال میں پھانسی پر لٹکانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ ایس کے محمود کو بلا کرجنرل سوار خان نے یہ بات سمجھائی کہ وہ چاہیں تو سمری واپس لے جائیں اور بدل لیں۔ ابھی بیٹی باپ کے گھر میں ہے کچھ نہیں بگڑا۔ جب تک فیصلہ نہ ہو، اس پر کوئی برا نہیں مانے گا۔ ایک دفعہ یہ سمری آگے چلی گئی تو اس کے مضمرات کو سنبھالنا ان کے دائرہ اختیار میں نہ ہوگا۔ جنرل ضیا خونخوار انسان ہے۔ اپنی گردن نہ پھنسائیں۔ وہ نہیں مانے۔ سمری ویسی کی ویسی ہی کورنگ خط کے ساتھ جنرل ضیا کو بھیج دی گئی۔ وہاں کہرام برپا ہو گیا۔ ایس کے محمود بہت عرصے راندہ درگاہ رہے۔ بے نظیر وزیر اعظم بنیں تو انہیں پہلے سیکرٹری اور پھر آڈیٹر جنرل آف پاکستان لگا دیا۔ ایسے افسر اب کہاں۔


from-humsub-pages