ادب اور زباں ایک ہی تختی کے دو رخ ہیں

رابعہ سرفراز چودھری
—————–

زباں ایسا آئینہ ہوا کرتی ہے جس کے تحت دنیا کو دیکھا، سمجھا اور پرکھا جاتا ہے۔ اس سے ناصرف انساں اور معاشرت کا ادراک کیا جاتا ہے ساتھ ہی میں زباں ہی انسانی جذبات کے اظہار کا اہم جزو ثابت ہوتی ہے۔ ربط کی ابتدا کا مرکز ہی ادب اور زباں ٹھہرتے ہیں۔ زباں کی مدد سے ہی ہمارے درمیاں موجود اشیا، رشتوں، افراد، ضروریات اور جذبات کو شناخت ملتی ہے۔ مختصراً، یہ انسان کی تخلیق کردہ روابط کا سلسلہ زباں ہی ہے جو دنیا اور معاشرت کو بناتی سنوارتی ہے۔

ادب انسانی زندگی کی ضرورت ہے جو تخیل کے ارتقاء کے باعث وجود میں آیا۔ ادب اور زباں ایک ہی تختی کے دو رخ ہیں۔ ادب کی ترویج تھم جائے تو زباں معدوم ہو کر رہ جاتی ہے جبکہ زباں کا عروج ادب کی بلندی پر ہی محیط رہتا ہے وگرنہ ادب مفقود ہو کر رہ جائے گا۔ انسانی معاشرہ رتبوں اور طبقوں میں منقسم ہے جس پر راجنیتی طاقتور اور مستحکم طبقہ ہی کرتا ہے۔ زباں کی بود و باش اور نشوونما بھی دیگر اہم امور کی طرح معاشرے کے سب سے اہم طبقے کی پسند ناپسند کے گرد ہی طواف کرتی ائی ہے۔

وہ امور اپنا تشخص سرے سے کھو دیتے ہیں جن کی اہمیت پر زور نہ دیا گیا ہو یا جو ادب کے ناخداؤں کے مفاد میں نہ ہو۔ اس کی مثال ایسے دی جاسکتی ہے کہ امراء کو غرباء کے مسائل کا ادراک نہیں ہو سکتا چاہے اس بابت وہ کتنا دم ہی کیوں نہ بھرتے نظر آئیں۔ جو وبا بڑے پیمانے پر بیماری اور تباہی نہ پھیلائے اس کا علاج دریافت کرنے کے لئے تحقیق ہوتی ہے نہ سرمایہ مہیا کیا جاتا ہے۔

یہی رویہ زبان کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ اس کو بدلتے اوقات کے ساتھ نت نئے رواج، رنگ روپ اور تعصب سے مزین کیا جاتا رہا ہے۔ بدلتی دنیا کے ساتھ جب دنیا میں محروم طبقوں اور افراد کو نمائندگی دی جا رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ زباں میں بھی ایسے افراد اور طبقات کا شمار ہونا شروع ہوگیا ہے۔ ایک طرف لغت سے نسل پرستی کے ضرب المثال ختم کیے جا رہے ہیں تو دوسری جانب جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کی کوششوں سے جانوروں پر ظلم کے خلاف محاوروں کو ادب سے خارج کروانے کا عمل بھی جاری ہے۔

جیسے کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ زباں اور ادب میں وہ خصائل اور صفات سرے سے شامل نہیں ہو پاتی جو اہم اور طاقتور طبقات کے منظور نظر نہ ہوں۔ تاریخی اور رویتی طور پر ترقی پذیر معاشروں میں زباں دور جدید کے جرائم اور مصائب کو نام دینے سے عاری رہتی ہے۔ چونکہ ہمارے معاشرے میں جنسی زیادتی اور تشدد کی تاریخی وقعت ہے نہ ہی اعتراف جس کی بدولت عورت پر اس کی منشا کے خلاف جنسی جرم کا کوئی الگ نام نہیں۔ زیادتی، زبردستی، بدکاری، زنا بالجبر جیسی اصطلاحات کا استعمال ہی آج تک ہوتا آیا ہے۔

علاوہ ازیں، ایسے محاورے اور الفاظ بھی موجود ہیں جو تعصب کو ظاہر کرتے ہیں جن کی افزائش دور حاضر کے لکھاری بڑے زعم سے کرتے دکھائی دیتے ہیں جس کی حالیہ مثال دو ٹکے کی عورت، تیرے جسم میں ہے کیا جیسے الفاظ ہیں۔ جہاں تک ادب میں سوال جنسی تشدد کا ہے تو اب تک وہ بھی گومگوں کیفیت سے ہی دوچار نظر آتا ہے جس کا اعتراف ہی نہ ہونے کے برابر ہے۔

زنا بالجبر ایک ایسی اصطلاح ہے جس میں مجرم کے جرم سے عورت کے خلاف جرم کی پہچان ہوتی ہے۔ غیر شرعی طور پر قائم کیے گئے جنسی تعلق کو زنا کہا جاتا ہے جو کہ پاکستان کے قانون میں بھی غیر قانونی ہے۔ جہاں تک زنا بالجبر کی تعریف کا سوال ہے تو یہ ایسا نقطہ ہے جو جرم کرنے والے کی روش ہی بیان کرتا ہے یعنی جرم بھی مجرم سے منسوب ہے۔ باقاعدہ طور پر زبان میں جنسی تشدد اور بنا رضامندی کے کیے گئے اس تشدد کا کوئی تعریف نہیں۔

علاوہ ازیں، زبردستی، زیادتی اور بدکاری کے گوناگوں مطلب کے الفاظ عورت کے خلاف ہونے والے بدترین ظلم کی سنگینی کو بیان کرنے میں ناکام رہتے ہیں جن کے الگ سے بہت سے مطلب پہلے سے موجود ہیں اور مختلف پہراہوں میں بیک وقت استعمال میں آتے ہیں۔

زیادتی کا مطلب کسی بھی چیز کی بہتات یا فروانی کو کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی چیز کا زیادہ ہونا زیادتی کہلاتا ہے۔ دوسری جانب، زیادتی کا مفہوم ظلم اور نا انصافی کو بیان کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔

دوسرا لفظ زبردستی کا ہے جس کے معنی کسی کی رضا مندی کے بغیر کام کا کیے جانا جبکہ بدکاری کسی بھی نوعیت کے غلط قدم کو کہا جاتا ہے۔

اب ان الفاظ کو جملوں میں استعمال کرکے دیکھتے ہیں۔
زیادتی:
سالن میں نمک کی زیادتی کے باعث کھانا بد ذائقہ ہوگیا۔
بارش کی زیادتی کی وجہ اس سال گنے کی فصل خراب ہوگئی ہے۔
گاؤں کے زمیندار نے لڑکی کے ساتھ زیادتی کی۔
سرمایہ دار نے تنخواہیں کاٹ کر مزدوروں کے ساتھ بہت زیادتی کی۔
آپ نے ہماری شادی میں شرکت نہ کر کے بہت بڑی زیادتی کی ہے۔
زبردستی:
کم عمر لڑکی کے ساتھ زبردستی کا مقدمہ درج نہ ہو سکا۔
احمد نے زبردستی اپنے دوست کو لڈو کھلائے۔
زور زبردستی کے دوش پر ڈاکو بینک سے نقدی لے کر فرار ہوگئے۔
ماں نے زبردستی بیٹے کو دوا کھلائی۔
بدکاری:
جھوٹ بولنا بہت بڑی بدکاری ہے۔
لاکر سے پیسے چرانا سراسر بدکاری تھا۔
ملزمان نے لڑکی کے ساتھ بدکاری کا اعتراف کر لیا۔
وبا میں مہنگی دوائیں بیچنا بدکاری نہیں تو کیا ہے؟

مندرجہ بالا جملوں سے واضح ہوتا ہے کہ جنسی تشدد جیسے مجرمانہ فعل کا ہماری زباں میں صحیح معنوں میں نام تک موجود نہیں جس کو دوسرے الفاظ کے سہارے ہی سمجھا بولا اور لکھا جاتا رہا ہے یا یوں کہیے جس کو بیان کرنے کے لئے دوسرے الفاظ کی شدت ادھار لی گئی ہے جو گرزرے ادوار میں عورتوں کے خلاف جنسی مظالم کی نفی نہ کرنا تھا۔ ساتھ میں زباں کی ترویج اور ترقی میں ان لوگوں کی عدم موجودگی ہے جو ان جرائم کے زیر عتاب آتے رہے ہیں۔

ادب میں خواتین کی شمولیت اور نمائندگی تو رہی لیکن مردوں کے برعکس نہ ہونے کے برابر تھی اور ان امور پر کام نہ ہونے کی واحد وجہ یہ رہی کہ ایسے موضوعات پر لکھنے اور بولنے والی خاتون لکھاریوں کے کردار اور اخلاقیات کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ جنسی تشدد کے خلاف برسرپیکار خواتین پر اکثر بدچلنی اور بدکرداری کی تہمت سرعام لگائی جاتی ہے۔

ریپ ایسا عمل ہے جو متاثرہ عورت یا لڑکی کی زندگی کو معاشرے میں موجود جانبدار رویوں کی بدولت سرے سے مٹا کر رکھ دیتا ہے۔ انسانی نفسیات بھی انہی دوغلے اور تکلیف دہ اطوار کی بدولت پروان چڑھتی ہے۔ دریں اثنا ایسا کوئی بھی عمل جو انسان کی رضامندی کے خلاف زور اور جبر سے کیا جائے، انسان کے وجود اور احساسات کو توڑ کر رکھ دیتا ہے جس کی انتہا موت یا انتہائی افسردگی پر ہی ہوتی ہے جس سے انسان کا ہونا نہ ہونا برابر ٹھہرتا ہے۔

زباں ایک ایسے عنصر کا نام بھی ہے جو انسانی سوچ کو فریب دے کر وہ سب قبول کرنے پر راضی کر دیتی ہے جو معاشرے میں امتیاز کو جنم دے کر تشدد کو ہوا دے۔ عموماً اس کا شکار کمزور طبقات بنتے ہیں۔ زیادتی بھی ان میں سے ایک ہے جس کے بارے کوئی بات کرنا چاہتا ہے نہ رائے دینے کی ہمت کرتا ہے۔ شرم و حیا کی روایتی دلیل دے کر حقائق کو تلف کرنا انوکھی بات نہیں۔ ایسے ہی خاموش رویے مظالم اور ظالم کو پوشیدہ رکھتے ہیں۔ زبان کی خوبصورتی اسی میں ہے جس میں بنا تفریق کے الفاظ جمع ہوتے رہیں، اسی صورت زباں کو جاویداں بھی رکھا جاسکتا ہے اور مسائل کا ادراک بھی ممکن ہو سکتا ہے۔
Humsub-pages