نیب کیس ہار گیا ،حکومت کی غیر ملکی کمپنی کو 4ارب 41کروڑ جاری کر نیکی منظوری

نیب شریف خاندان، آصف علی زرداری سمیت اہم شخصیات کے بیرون ملک اثاثوں کا سراغ لگانے والی کمپنی براڈشیٹ سے ہرجانے کا کیس ہار گیا جبکہ نیب کی درخواست پر حکومت نے 4ارب 41کروڑ روپے جاری کرنے کی منظوری دیدی ۔وفاقی حکومت نے بنگلہ دیش میں 215ملین ڈالر نقصان سے دوچار نیشنل بینک آف پاکستان کے لائسنس کو بحال رکھنے کیلئے 10اعشاریہ 9ملین ڈالر منتقل کرنے کی بھی منظوری دیدی ہے ۔اعلیٰ حکام و سرکاری افسران کے غلط فیصلوں اور ناقص حکمت عملی کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑگیا۔ نیشنل بینک بنگلہ دیش آپریشن کو مطلوبہ وقت کے دوران جزوی طور پر بند کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جس کے تحت سلہٹ اور چٹاگانگ کی شاخوں کو2020جبکہ گلشن کی شاخ کو2021میں بند کیا جا ئیگا۔ وفاقی کابینہ کے ارکان میں نیب اور نیشنل بینک کیس پر تشویش پائی جاتی ہے ۔ وفاقی وزراء کی جانب سے آج معاملہ کابینہ اجلاس میں وزیراعظم کے سامنے اٹھائے جانے کا امکان ہے ۔ 92نیوز کوموصول دستاویز کے مطابق براڈشیٹ ایل ایل سی نے نیب کی جانب سے 2003 میں معاہدہ ختم کرنے پر حکومت پاکستان کے خلاف چارٹرڈ انسٹیٹیوٹ لندن میں ثالثی کے کیس کیلئے نیب کے ذریعے پیروی کی تھی۔ چارٹرڈ انسٹیٹیوٹ لندن کی جانب سے حکومت پاکستان کے خلاف سود سمیت2کروڑ15لاکھ ڈالرسے زائد کا پارٹ فائنل ایوارڈ (کوانٹم)جاری کیا جاچکا ہے ۔ چارٹرڈ انسٹیٹیوٹ لندن کی جانب سے حکومت پاکستان کے خلاف 56لاکھ37ہزارڈالر سے زائد کا پارٹ فائنل ایوارڈ (کاسٹ)بھی جاری کیا گیا۔پارٹ فائنل ایوارڈ (کوانٹم)اور پارٹ فائنل ایوارڈ (کاسٹ) کی مجموعی رقم 2کروڑ 72لاکھ26ہزار ڈالرسے زائد ہے ۔موجودہ مالی سال کے دوران نیب کو مالی مسائل کی کمی کا سامنا ہے جس کے باعث موجودہ اخراجات کو پورا کرنا بھی مشکل ہے ۔وزارت قانون کی جانب سے پہلے ہی وضاحت کی جا چکی ہے کہ نیب کے اخراجات کیلئے فنانس ڈویژن کی جانب سے رقم فراہم کی جائے ۔ نیشنل بینک کے بنگلہ دیش آپریشن کو نان پرفارمنگ لون کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کی تاحال ریکوری نہیں ہوسکی۔وفاقی حکومت اب تک نان پرفارمنگ لون کی وجہ سے 215ملین ڈالر نیشنل بینک آف پاکستان بنگلہ دیش برانچ کو منتقل کرچکی ہے ۔ نیشنل بنک کو پہنچنے والے اس ناقابل تلافی نقصان کی نیب کی جانب سے تحقیقات بھی جاری ہیں۔

Courtesy 92 News