حیدر آباد سے حیدر آباد تک

قیوم خالد (شکاگو)
—————-

منیر بھائی کو حیدر آباد سے بہت مُحبّت تھی لیکن وہ پاکستان چلے گئے۔ یہ 1958 کی بات ہے۔ اُنھیں حیدر آباد کی ہر چیز سے پیار تھا۔ گلابی جاڑوں سے جو ایک ہلکے سے سویٹر اور مفلر سے بہل جاتے تھے؛ گرما کی شاموں اور راتوں سے۔ گرما میں شام کے وقت آنگن میں ہونے والے چھڑکاو سے۔ چار پائیوں پر ٹھنڈی سفید چادریں اور ان پر بکھیرے ہوئے موتیے کے پھولوں کی مہک سے۔ پہلی پہلی بارش میں زمین سے نِکلنے والی سوندھی سوندھی خوش بو سے۔ اِن سب سے اُنھیں بہت پیار تھا۔ آرام کی نوکری تھی۔ صبح صبح کھچڑی‘ پاپڑ چٹنی کا پر سکون ناشتا کِیا اور دِن کے ساڑھے دس بجے تک دفتر پہونچ (پہنچ) گئے۔ ساڑھے پانچ تک گھر لوٹ آئے۔ پھر دوست احباب تھے۔ جن میں کئی شاعر تھے۔ خود منیر بھائی بھی شاعر تھے؛ شررؔ تخلص تھا۔ شب باشیاں تھیںِ‘ رت جگے تھے ’’فیِ البدیہہ‘‘ مشاعرے تھے۔ جہاں چار آٹھ دوست جمع ہو گئے، ایک مشاعرہ برپا کر دیا۔ سب میں بڑی بات حیدآباد میں ایک سکون تھا، بے فِکری تھی؛ اِن وجوہات سے وہ جانے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھے۔ پچھلے چار سال سے وہ فیصلے کو ٹال رہے تھے، لیکن بھابی جان، ان کی جان کے پیچھے پڑی تھیں۔ ان کا خیال تھا، کِہ اپنی تو جیسی تیسی گزر جائے گی، مگر بچوں کا ہندوستان میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔ اُن کے لیے پاکستان جانا ضروری ہے۔

ان کے فیصلوں میں روڑے اٹکانے والوں میں‘ مَیں بھی شامل تھی؛ مَیں اُن کی چھوٹی بہن۔ مَیں کہا کرتی تھی کِہ آپ چلے گئے تو مَیں حیدر آباد میں اکیلی رہ جاوں گی۔ کیوں کہ مجھے اندازہ تھا کہ بڑے بھائی ضرور پاکستان چلے جائیں گے‘ چھوٹے بھائی تو آزادی سے پہلے ہی انگلستان جا بسے تھے۔ پڑھنے گئے تو پھر لوٹ کر ہی نہیں آئے۔ منیر بھائی اس بہانے کی آڑ لے کر کہتے، کِہ چھوٹی یہاں اکیلی رہ جائے گی۔ بھابی جان کہتیں وہ بھی ساتھ چلی چلے۔
’’لو بھلا وہ کیوں جائے گی۔ اس کے میاں کی یہاں بہترین پریکٹس ہے، شہر کے بہترین ڈاکٹروں میں اُن کا شمار ہے۔ پھر گاوں میں بہت سی آبائی جائیداد ہے‘ کھیت ہیں‘ کھلیان ہیں‘‘۔

بھابی جان بِھنّا کو کہتی، ’’پھر ایسا کرو، اپنے بچوں کو بھی ان کے ہاں نوکر رکھا دو۔ کوئی کمپاڈنڈر بن جائے گا‘ کوئی کھیت مزدور بن جائے گا۔‘‘

پھر 1956 میں سارا ہندوستان لسانی طور پر ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ سب کچھ تہس نہس ہو گیا۔ ریاست حیدر آباد کے تین ٹکڑے ہو گئے۔ ایک ٹکڑا آندھرا پردیش میں شامل کر دیا گیا، جس میں حیدر آباد بھی تھا۔ گل برگہ‘ بیدر‘ ظہیر آباد وغیرہ کرناٹک میں شامل کردیے گئے۔ اورنگ آباد‘ عثمان آباد وغیرہ مہا راشٹرا میں شامل کردیے گئے۔ حیدر آباد آندھرا پردیش کی راج دھانی بن گیا۔ ساحلی آندھرا کے ضلعوں سے کئی لوگ تبادلہ ہو کر حیدر آباد آ گئے۔ حیدر آباد کے لوگوں کے تبادلے مہا راشٹرا اور کرناٹک میں کردیے گئے۔ حیدر آباد کے پرانے لوگوں کا زور ٹوٹ گیا۔ اِقتدار نئے لوگوں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ بڑے بھائی کا تبادلہ کرناٹک کے ایک چھوٹے سے ضلع میں کر دیا گیا۔ انھوں نے وہاں جانے سے بیش تر یہ سمجھا کہ پاکستان چلے جائیں‘ لہذا وہ 1956 میں کراچی چلے گئے۔

منیر بھائی کا تبادلہ بمبئی میں ہو گیا۔ وہ اپنے خاندان کو حیدر آباد میں چھوڑ کر بمبئی نوکری کے لیے چلے گئے۔ لیکن چھہ مہینے بعد ہی نوکری چھوڑ کر واپس آ گئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ بمبئی رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ شہر بستے ہیں اِنسانوں کو زندہ رکھنے کے لیے۔ بمبئی میں لوگ بستے ہیں، شہر کو زندہ رکھنے کے لیے۔ آخری لوکل ٹرین دو بجے رات کو جاتی ہے اور پہلی ٹرین صبح تین بجے چلنے لگتی ہے۔ شہر بس ایک ڈیڑھ گھنٹے کے لیے اُونگھتا ہے۔ پانی بھرنے کے لیے رات تین بجے اٹھنا پڑتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کِہ منیر بھائی کی سرکاری نوکری بھی ہاتھ سے چلی گئی۔ بھائی نے حیدر آباد آ کر ایک اخبار میں نوکری کر لی۔ پھر وہی رت جگے تھے اور وہی منیر بھائی۔ بھابی کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ ایک دِن ان کے بھائی نے بھی پاکستان جانے کا ارادہ کر لیا۔ بھابی کا صبر کا پیمانہ ٹوٹ گیا۔ اُنھوں نے دھمکی دے دی، کِہ وہ بچوں کو لے کر اپنے بھائی کے ساتھ پاکستان چلے جائیں گی۔ اب آنا نہ آنا منجھلے بھائی کی مرضی!