یہ مصنوعی نظام اور مریم نواز کا صرف ایک جلسہ عام

عمار مسعود
———–
ود ساختہ امیر المومنین جنرل ضیاء الحق کا دور تاریک تھا۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہو چکا تھا۔ بھٹو خاندان ملک بدر کر دیا گیا تھا۔ جیالے خود کو نذر آتش کر کر کے تھک چکے تھے۔ اس دور میں پیپلز پارٹی کے جان نثاروں کو نشان عبرت بنا دیا گیا۔ جیل، کوڑے، بدنامی اور خوف ان کا مقدر ہو چکے تھے۔ بھٹو کے وفادار ساتھی پابند سلاسل کر دیے گئے تھے۔ بے وفاوں نے اپنی قیمت لگوانا شروع کر دی تھی۔ میڈیا مکمل طور پر ایک ڈکٹیٹر کے زیر تسلط آ چکا تھا۔

سرکاری ٹی وی سے بھٹو کا نام و نشان مٹانے کے لیے تاریخی ریکارڈ نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ بھٹو سے متعلق کسی بھی لفظ کی اشاعت پر پابندی لگ چکی تھی۔ کوئی کتاب اس ضمن میں شائع نہیں ہو سکتی تھی۔ تحریر، تقریر اور تصویر کے تمام ذرائع پر مرد مومن، مرد حق چھائے ہوئے تھے۔ زرخرید سیاستدانوں کی پنیری مجلس شوری میں لگ چکی تھی۔ غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات کی بنیاد رکھ دی گئی۔ بیورو کریسی میں من پسند تبدیلیاں ہو رہی تھیں۔

اخبارات کے صفحات کے صفحات سنسر ہو رہے تھے۔ ٹی وی پر مسلسل بھٹو خاندان کے خلاف پروپیگنڈا ہو رہا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا نام زبان پر آنے سے پہلے کرپٹ، کافر اور غدار کا لاحقہ لگانا سرکاری تجزیہ کاروں کا معمول بن گیا تھا۔ ٹی وی اور اخباروں میں زر خرید صحافیوں نے ڈیرے جما لیے ۔ پیپلز پارٹی کے خلاف کئی برس تک باقاعدہ مہم چلائی گئی۔ چن چن کر کارکنوں کو زیر عتاب کیا جاتارہا۔ جیالوں کو سرعام کوڑے مارے جا رہے تھے۔ عقوبت خانوں میں عبرتناک تشدد کیا جا رہا تھا۔ میڈیا پر تذلیل کی جا رہی تھی۔ نوکریوں سے برخاست کیا جا رہا تھا۔ گیارہ برس ایک فرعون نے مذہب کا لبادہ پہن کر اس ملک میں جو چاہا وہ کیا۔ جس کو چاہا نواز دیا، جس کو چاہا رسوا کیا۔ جسے چاہا غدار قرار دیا جسے چاہا ملک دشمن بنا کر پیش کیا۔

ان برسوں میں اس ملک کے ساتھ جو ہوا، سو ہوا مگر یہ بات ہر لمحہ لوگوں کو باور کروائی گئی کہ بھٹو خاندان اور اس کی سیاست اب ختم ہو چکی۔ اب اس ملک میں ان کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔ بے نظیر نے باپ کی موت سے سمجھوتا کر لیا۔ بھٹو خاندان نے ایک ڈکٹیٹر سے ڈیل کر لی۔ اب پیپلز پارٹی قصہ پارینہ بن چکی۔ اب روٹی، کپڑے اور مکان کا نعرہ دفن ہو چکا۔ اب ہے جمالو کی لے پر رقص کرنے والے دم توڑ چکے۔ اب بھٹو کے وفادار ختم ہو چکے۔

اب ان کے جانشین بھگوڑے ہو چکے۔ اب سرکاری بیانیئے کے مطابق غداروں کا کوئی نام لیوا نہیں رہا۔ اب اس ملک کے عوام اپنے لیڈر کو بھول چکے۔ یہ سبق اتنی دفعہ اتنے برس عوام کو رٹایا گیا کہ بہت سے لوگ اسی کو سچ سمجھنے لگے۔ ایسے میں انیس سو چھیاسی میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ ایک ایسے وطن میں جانے کے لیے رخت سفر باندھا کہ جہاں قریبا ایک دہائی سے سرکار اس خاندان کے خلاف لوگوں کے ذہنوں میں نفرت تقسیم کر رہی تھی۔ ان کو کرپٹ، کافر اور غدار کہہ رہی تھی۔

محترمہ بے نظیر بھٹو نے وطن واپس آنے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔ اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں ہوتی رہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ وہ درست وقت کا انتظار کر رہی تھیں۔ کچھ کا خیال ہے وہ امریکہ بہادر کی آشیر باد کا انتظار کر رہی تھیں۔ کچھ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ ساتھیوں سے تو رابطے میں تھیں مگر منظر عام پر آنے کے لیے ایک جابر حکمران کے کمزور ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔ کچھ سمجھتے ہیں کہ وہ بیرون ملک میں اپنے روابط بڑھا رہی تھیں۔

کچھ کا خیال ہے کہ وہ خفیہ طور پر پارٹی کو منظم کر رہی تھیں۔ لیکن سرکاری زرخرید ترجمان اس بات پر مصر تھے کہ بے نظیر اپنے باپ کے عدالتی قتل سے سمجھوتہ کر چکی ہیں۔ ان کی غیر موجودگی کو ڈیل سے بھی تعبیر کیا گیاکہ اب وہ دباؤ سے خوف زدہ ہو کر خاموشی سے دیار غیر میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔ ان کے والد کی جاگیر یعنی پیپلز پارٹی کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔ اب اس ملک میں ان کی کوئی دلچسپی باقی نہیں ہے۔

بہر حال بے نظیر نے ان تمام قیاس آرائیوں کو پس پشت ڈال کے وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ اس وطن میں جہاں گزشتہ دہائی سے ان کی کردار کشی ہو رہی تھی۔ جہاں ان پر ہر طرح کا الزام لگ چکا تھا۔ جہاں سرکاری ترجمانوں نے اپنے تئیں تمام تر معاشرے کی سوچ کی ذہنیت سازی کر لی۔ ان کو توقع یہی تھی کہ بے نظیر جب آئیں گی تو ان کے استقبال کے لیے چند کارکنوں کے سوا کوئی نہیں ہو گا۔ ایک دہائی تک ڈکٹیٹر کا پھیلایا ہوا زہر عوام کے ذہنوں میں سرایت کر چکا ہو گا۔ اب عوام کو خود ساختہ امیر المومنین کے سوچ کے مطابق سدھایا جا چکا ہو گا۔ اب پیپلز پارٹی صرف تماشا بن کر رہ جائے گی۔

بے نظیر بھٹو بہادری کے ساتھ تمام تر خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے لاہور تشریف لائیں تو عوام کا ایک جم غفیر ان کے استقبال کو موجود تھا۔ ایک لمحے میں عوام ڈکٹیر کا دس سال تک رٹایا سبق بھول چکے تھے۔ بے نظیر بھٹو نے اس ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے جلسے سے لاہور میں خطاب کیا اور عوام نے جس والہانہ طریقے سے ان کا استقبال کیا اس سے ڈکٹیر کی تمناؤں کا قصر ایک لمحے میں ڈھیر ہو گیا۔ عوام نے ایک دہائی کے تمام تر پروپیگنڈے کو ایک جلسے میں ہی تہس نہس کر دیا۔ تاریخ کے سب سے بڑے جلسے نے ہمیں یہ سبق دیا کہ جبر چاہے کتنا ہی کیوں نہ بڑھ جائے جب بھی اس ملک کے عوام کو موقع ملے گا وہ جمہوریت کے ساتھ ہوں گے۔ وہ سیاسی قائدین کے ساتھ ہوں گے۔ وہ ایوان کی حرمت کے ساتھ ہوں گے۔ وہ آئین پاکستان کے ساتھ ہوں گے۔

انیس سو چھیاسی کے اس جلسے کو گزرے قریبا چونتیس برس ہو چکے ہیں۔ آج بھی اس ملک کے حالات وہی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب بھٹو کے بجائے شریف خاندان زیر عتاب ہے۔ اب کفر کے فتوے ان پر لگ رہے ہیں۔ اب غداری کی تہمت نواز شریف پر لگائی جا رہی ہے۔ اب مریم نواز پر کرپشن کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ اب نواز شریف کے وفادار ساتھیوں کو نشان عبرت بنایا جا رہا ہے۔ اب مریم نواز اور نواز شریف کی تصویر دکھانے پر ممانعت ہو گئی ہے۔ اب ان کی پریس کانفرنسز بلیک آؤٹ ہو رہی ہیں۔ اب ابن الوقت، زر خرید سرکاری ترجمان مریم نواز کی کردار کشی کر رہے ہیں۔ اب تمام ٹی وی چینل سرکاری ترجمان بن چکے ہیں۔ اب ایک بار پھرآزادی صحافت کا نعرہ منوں مٹی تلے دفن ہو چکا ہے۔

مجھے نہیں معلوم کی اب کی بار نواز شریف کی واپسی اور مریم نواز کی خاموشی کو ٹوٹنے میں کتنا وقت لگے گا؟ اب انہیں بندشوں اور مصلحتوں سے آزاد ہونے میں کتنا وقت لگے گا؟ لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کی جب بھی مریم نواز کی خاموشی ٹوٹے گی تو یہ مصنوعی نظام صرف ایک جلسہ عام میں زمیں بوس ہو جائے گا۔ سرکاری زرخرید ترجمانوں کا تخلیق کردہ جعلی بیانیہ عوام کے سمندر میں خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا۔ کیونکہ وقت نے ہمیں یہی سبق سکھایا ہے کہ ظلم چاہے کتنا بھی کیوں نہ ہو اس ملک کے عوام جمہوریت کے وفادار رہتے ہیں۔ موقع ملتے ہی ووٹ کو عزت دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تہتر برس سے خلق خدا کے راج کرنے کا خواب دیکھتے ہیں