مقبوضہ کشمیر میں کھلی کچہری ، شاہ محمود قریشی کا بھارت کو بڑا چیلنج

وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی تقسیم کو کسی نے تسلیم نہیں کیا،5 اگست 2019 کے اقدامات کشمیری تسلیم نہیں کرتے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا بھارت وزیراعظم عمران خان یا مجھے سرینگرمیں کھلی کچہری کی اجازت دے، کشمیری کیا چاہتے ہیں دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے گا اور دلی تک مقبوضہ کشمیرکے موسم کی اصل خبربھی پہنچ جائے گی۔

شاہ محمودقریشی نے کہا کہ سلامتی کونسل کی ممبرشپ کےلئےایک مرحلہ ہوتا ہے، بھارت سلامتی کونسل کا ممبربن بھی گیا تو کوئی قیامت نہیں ٹوٹے گی، بھارت پہلے بھی 7بار سلامتی کونسل کا ممبر بن چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہیں، پاکستان بھی 7بار سلامتی کونسل کا ممبر بن چکا ہے، بھارت عالمی قراردادوں کو اہمیت کیوں نہیں دے رہا، بھارت انسانی حقوق کی پامالیاں کیوں کر رہا ہے،جائزہ لیا جانا چاہیے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارتی فوج کے مقبوضہ کشمیر میں سرچ آپریشنز جاری ہیں، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کومیں نے خطوط لکھے، خطوط میں بھارت میں مسلمانوں پرڈھائے جانیوالے ظلم کا مکمل ذکر ہے ، اوآئی سی کے فورم کوبھی خطوط لکھے اور مراسلے بھیجے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دہلی کے واقعات کو بھارت نہیں چھپا سکا، بھارت کا کونسا ہمسایہ ہے، جو بھارتی حکومت کے اقدامات سے خوش ہو، بھارت کے چین سے لداخ معاملے پرمذاکرات چل رہے ہیں، بھارتی اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لئے خطرہ بن چکے ہیں

Courtesy Ary News Urdu