ٹرمپ پولیس نظام کی بہتر کے ایگزیکٹو آرڈر پر آج دستخط کریں گے

امریکی ریاست اٹلانٹا میں دو روز قبل پولیس اہلکار کے ہاتھوں ایک اور سیاہ فام ریشرڈ بروکس کی ہلاکت کے بعد احتجاج میں شدت کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہو کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پولیس کا نظام بہتر بنانے کے لیے آج ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کریں گے۔

اٹلانٹا میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سیاہ فام ریشرڈ بروکس کے اہلِ خانہ نے انصاف کی فراہمی اور پولیس نظام میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکا میں ایک اور سیاہ فام کی پولیس اہلکار کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد نسل پرستی کے خلاف جاری مظاہروں میں مزید شدت آ گئی ہے۔

اٹلانٹا اور نیویارک میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا، جنہوں نے پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام افراد کی ہلاکت اور نسل پرستی کے خلاف نعرے لگائے۔

امریکا میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت پر جاری احتجاج ابھی تھما نہیں تھا کہ اٹلانٹا پولیس نے ایک اور سیاہ فام ریشرڈ بروکس Rayshard Brooks کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ریشرڈ بروکس کی ہلاکت کے بعد پہلے سے جاری ’بلیک لائیوز میٹر‘ احتجاج میں مزید شدت آگئی ہے، اٹلانٹا میں سیکڑوں افراد نے احتجاجی مارچ کیا اور سیاہ فام افراد کی ہلاکت اور نسل پرستی کے خلاف نعرے لگائے۔نیویارک میں بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے اور انہوں نے ریشرڈ بروکس کی ہلاکت پر احتجاج کیا۔

اٹلانٹا میں مارے گئے ریشرڈ بروکس کے اہلِ خانہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقتول کے لیے انصاف اور پولیس نظام میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پولیس کا نظام بہتر بنانے کے لیے آج ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کریں گے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ ایگزیکٹو آرڈر انتہائی جامع ہوگا، جس میں سوشل ورکرز اور ماہرین کی بھی مدد لی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے واشنگٹن کے گورنر جے انسلی Jay Inslee سے بھی کہا ہے کہ وہ سیاٹل میں مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے فوج یا نیشنل گارڈ بلائیں، دوسری صورت میں وہ خود اقدام کریں گے۔

شہر کی مئیر جینی ڈرکان Jenny Durkan نے واضح کیا ہے کہ شہر میں صدر ٹرمپ کی جانب سے مظاہرین کے خلاف فوج بھیجنا غیر آئینی اقدام ہوگا۔

ری پبلکن سینیٹرز کی زیرِ قیادت امریکی سینیٹ کی جوڈیشل کمیٹی نے جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی بدامنی کی صورتِ حال، نسل پرستی اور پولیسنگ کے طریقوں سے متعلق امور کی جانچ پڑتال کے لیے ایک سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیئے: ایک اور سیاہ فام امریکی پولیس فائرنگ سے ہلاک

ادھر برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے ایک انٹرویو میں اپنے ملک میں نسل پرستی اور امتیازی سلوک ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کو باڈی کیم کا استعمال بڑھانا ہوگا کیونکہ لوگوں کو فوجداری نظام پر زیادہ اعتماد ہے۔

امریکی شہر مینا پولس میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد لندن سمیت برطانیہ کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا تھا۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل امریکی ریاست اٹلانٹا میں پولیس نے ایک اور سیاہ فام ریشرڈ بروکس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

مقامی پولیس کو فون کال پر اطلاع دی گئی کہ ایک نوجوان ریسٹورنٹ کی کار پارکنگ میں سو رہا ہے، جس پر پولیس نے وہاں پہنچ کر سیاہ فام شخص کو جگایا۔

پولیس کے مطابق مذکورہ شخص ہاتھا پائی کے بعد کرنٹ کا جھٹکا دینے والا آلہ چھین کر بھاگ گیا اور فاصلے سے پولیس افسر کے خلاف اس آلے کو استعمال کیا جس پر پولیس اہلکار نے سیاہ فام ریشرڈ بروکس کو گولی مار دی جس سے وہ ہلاک ہو گیا

Courtesy jang news